0

ایشیا کپ کی ٹرافی، بھارتیوں کا رونا اور محسن نقوی/ تحریر / بلال احمد معاویہ اعوان

ایشیا کپ کی ٹرافی، بھارتیوں کا رونا اور محسن نقوی
بلال احمد معاویہ اعوان

کرکٹ کا کھیل اب فقط ایک کھیل نہیں رہا بلکہ اس کے ذریعے سے کئی قومیں آپس میں جڑی ہیں، لوگوں کے تعلقات بحال ہوئے اور زندگی پھر سے مسکرائی۔ اس کی بدولت انگلینڈ آسٹریلیا جیسے روایتی حریف آپس میں گھل مل گئے۔ جہاں کہیں حالات میں خرابی میں انہیں سدھارنے کے لیے کھیل کا سہارا لیا گیا۔ یقیناً جب میدان سجیں گے تو نفرتیں اپنی موت آپ مر جائیں گی۔ کھیل کے میدان میں اترتے کھلاڑی جنگوں میں فوجوں کے اترتے کا سدباب ہوتے ہیں مگر اس سب کے لیے دونوں اطراف سے دور اندیش اور قابل لیڈرشپ کا ہونا ضروری ہے۔

ایشیا کرکٹ کپ کا دنگل ہر سال سجتا ہے جس میں ایشیائی ممالک کی کرکٹ ٹیمیں آپس میں مدمقابل ہوتی ہے۔ ہر سال شائقین اس سے محظوظ ہوتے ہیں مگر اس سال کا ایشیا کپ کھیل کے اعتبار سے اچھی یادیں چھوڑ کر نہ گیا۔ قصہ کچھ یوں ہوا کہ امسال پاک بھارت جنگ کے اثرات کھیل کے میدان تک آن پہنچے۔ پہلے جو نفرتوں کی آگ سرحد کے آس پار تھا اب اس کے بسیرا گیند اور بلے کے میدان میں بھی پہنچنے لگا۔ جہاں کبھی جانبین کے کھلاڑی آپس میں گلے ملتے تھے، دکھ سکھ بانٹتے تھے وہاں نفرت اور ضد کا کہر چھا گیا۔

مئی کی پاک بھارت جنگ جس میں پاکستان نے انڈیا کے چھ یا سات جہاز گرائے، سرحدوں پہ بھارتی افواج کے دانت کھٹے کیے، ایئر ڈیفنس سسٹم تباہ کیے اس خفگی اور ہزیمت کا داغ دھونے کے لئے مودی اینڈ کو نے مسلسل پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔ اس عمل میں بھارتی کھلاڑی بھی شامل ہوگئے۔ جس کا آغاز لیجنڈز لیگ سے ہوا جب بھارتی لیجنڈز کے شکر دھاون کے ایک ٹویٹ سے انہوں نے سیمی فائنل میں پاکستان لیجنڈز سے کھیلنے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ بھارتی کپتان اس سے ناخوش تھے۔ خیر وہ بات آئی گئی ہوئی۔ اب دنیا کی نظریں ایشیاء کپ کے گرینڈ ایونٹ پہ تھیں کہ دیکھیں تو یہاں برصغیر والے کیا گل کھلاتے ہیں۔ مودی اینڈ کو کی نفری بھری سوچ نے ایک بار پھر میدانوں کا رخ کیا، شیکر دھاون کے عمل کا تسلسل آگے بڑھا اور بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو نے ٹورنامنٹ کے پہلے میچ میں پاکستانی کپتان سلمان علی آغا سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا۔ کرکٹ پنڈتوں میں اس عمل پہ کافی تنقید کی گئی کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں ایسے واقعات کبھی پیش نہیں آئے لہذا یہ عمل ہرگز درست نہیں۔ پاکستان نے اس پہ احتجاج کیا اور میچ ریفری کو قربانی کا بکرا بنا کر سوری کروا کر بات آگے بڑھ گئے۔ دراصل سامنے یہ آیا تھا کہ میچ ریفری نے ہاتھ ملانے سے منع کیا تھا۔ دوسرے پول میچ میں پھر دونوں ٹیمیں ٹکرائیں تو بھارتی ٹیم کی پچھلی کارستانیاں پاکستان کھلاڑیوں کے سامنے تھیں، کچھ عوام کا پریشر تھا، کچھ محسن نقوی کی ہلہ شیری اور کچھ وطن سے محبت اول صاحبزادہ فرحان نے ففٹی کے بعد گن سیلیبریشن کر کے بھارتیوں کو تتے توے پہ بٹھا دیا رہی سہی کسر حارث رؤف نے 6/0 کے اشارے نے پورا کر دی۔ گوکہ پاکستان وہ میچ تو ہار گیا مگر قوم نے ان دو کھلاڑیوں کے اس عمل کو خوب سراہا حتی کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بھی حارث رؤف کی وائرل تصویر پوسٹ کر دی۔ میچ جیتنے کے بعد بھی بھارت میں آگ لگی رہی۔ اس سب کے بعد دونوں کھلاڑیوں کو طلب کیا گیا دونوں نے اپنے جوابات جمع کروائے کچھ جرمانہ ہوا تو محسن نقوی بولے کہ ”منڈیو چک کے رکھو پیسے میں بھراں گا“۔
تیسرا ٹاکرا فائنل میں ہوا جو اپنے ان مٹ نقوش چھوڑ گیا۔ یہ میچ بھارت نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد جیت کر ایونٹ اپنے نام کیا مگر اصل کہانی کا آغاز یہیں سے ہوا۔ بھارتی مخصوص سوچ کی حامل ٹیم نے ایونٹ تو جیت لیا مگر نفرتوں کو میدانوں تک پہنچا دیا۔ جب اختتامی تقریب جس میں انعامات تقسیم ہونے تھے اس کا لمحہ آیا تو معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ اول تقریب ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوئی۔ پھر بھارتی کھلاڑی کلدیپ یادیو، ابھیشک شرما اور ٹیلک ورما نے اپنے اپنے انفرادی انعامات تو حاصل کر لیے مگر جب باری ٹرافی لینے کی آئی تو بھارتی کپتان نے کہا ہم محسن نقوی سے ٹرافی نہیں لیں گے۔ محسن نقوی جو کہ ایشین کرکٹ کونسل کے صدر بھی تھے انہوں نے کچھ دیر انتظار کیا مگر پھر انہوں نے ٹرافی واپس بھیج دی اور خود سٹیج چھوڑ دیا۔ بھارتی ٹیم نے تصوراتی طور پر جشن منایا مگر ٹرافی نہ مل سکی۔
محسن نقوی اپنے ڈکٹیٹر سوچ کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ہیں جب وہ فیصلے کر لیتے پھر اسے بدلنا مشکل ہے۔ اس فیصلے کے بعد بھارت بھر میں صدائے احتجاج گونجی۔ ٹرافی حوالگی کا مطالبہ ہوا لیکن محسن نقوی اپنے فیصلے پہ ڈٹے رہے۔ بھارت کے ساتھ سری لنکا اور افغانستان نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی کہ ٹرافی بھارت کو حوالے کی جائے تو محسن نقوی بولے کہ وہ ٹرافی دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے لیے ہم نومبر میں ایک تقریب منعقد کریں گے جس میں بھارتی حکام ان سے ٹرافی وصول کر لیں تو بھارت نے صاف انکار کر دیا کہ ہم محسن نقوی کے ہاتھوں ٹرافی نہیں لیں گے گویا زبان حال سے کہا۔
لینی ہوتی تو گراونڈ میں لے لیتے بند کمرے میں کیا فائدہ۔ یعنی محسن نقوی بھی ڈٹے رہا اور بات آخر کر اسی مرکز پرکار پہ آکر ٹھہری کہ ٹرافی یا تو میرے ہاتھ سے لیں گے بصورت دیگر وہ انٹرنیشنل قوتوں کے نگرانی میں شوکیس کی زینت رہے گی مگر بھارت تک کبھی نہیں پہنچنے دوں گا۔
اس فیصلے سے محسن نقوی پہ تنقید بھی کی گئی مگر پاکستانی کرکٹر محمد یوسف سمیت کئی نے اسے سراہا بھی ہے۔ کیوں کہ کرکٹ کو کبھی سیاست کی نظر نہیں کرنا چاہیے جب شروعات بھارت نے کی ہے تو لازم ہے کہ انہیں اسی زبان میں جواب دیا جائے جو وہ سمجھتے ہیں المختصر یہ کہ اب طاقت کی زبان میں بات ہوگی پیار کی پینگھیں پھر کبھی بڑھائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں