0

گلشن درخواستی میں ایک دن/تحریر/طلحہ اوکاڑوی

گلشن درخواستی میں ایک دن/تحریر/طلحہ اوکاڑوی

طے تو یہ پایا تھا کہ منگل کی رات 12 بجے ہی جامعہ امدادیہ فیصل آباد سے اپنا سفر شروع کریں گے تا کہ بروقت خانپور پہنچ سکیں اور اسی کے مطابق اپنے اگلے معمولات کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے لیکن انتظامی حوالے سے کچھ وجوہات کی بناء پر 1 بجے جامعہ سے نکلنا پڑا۔
منزل چونکہ گلشنِ حضرت درخواستی رحمہ اللہ تھی اور میزبان ساتھی بھائی مولانا صاحب وقتاً فوقتاً سفری حالات جان رہے تھے تو طلبہ کرام بھی پرجوش تھے۔

فجر اوچ شریف میں پڑھ کے تقریباً 7:30 پہ جامعہ مخزن العلوم خانپور پہنچے جہاں شاندار استقبال کیا گیا۔حضرات سے مصافحے کے بعد مختصر سا آرام کیا اور پھر بھائی محمد عبداللہ درخواستی کی طرف سے جامعہ کا تفصیلی وزٹ کروایا گیا۔جس میں جامعہ کی قدیم ترین مسجد،دارالافتاء، غار نما چھوٹے چھوٹے حجرے اور حضرت حافظ الحدیث امام المحدثین و المفسرین مولانا محمد عبداللہ درخواستی صاحب نوّر اللہ مرقدہ کے اس قدیم ترین حجرے کی زیارت کروائی جسے لا تعداد اولیاء اللہ و بزرگانِ ملت کی قدم بوسی کا شرف حاصل تھا۔
اتنی دیر میں پرتکلف ناشتہ دسترخوان پر سجا دیا گیا جس سے طلبہ نے خوب انصاف کیا۔

بعد ازاں جامعہ مخزن العلوم کی نئی تعمیر شدہ درسگاہ میں درس بخاری شریف کا اہتمام کیا گیا جس میں حضرت درخواستی رحمہ اللہ کے چھوٹے بیٹے مولانا خلیل الرحمٰن درخواستی صاحب نے ابتدائیہ کلمات ارشاد فرمائے اور جامعہ امدادیہ کا فاضل ہونے کے ناطے خود کو ہم طلبہ کا ساتھی گردانا اور خوبصورت نصائح سے نوازا۔
پھر جانشینِ حضرت درخواستی رحمہ اللہ مولانا فضل الرحمٰن درخواستی دامت برکاتہم تشریف لائے اور آپ نے حضرت درخواستی کے عشقِ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پرمغز گفتگو فرمائی اور بارہا اشک بار ہوئے۔
عشقِ رسول سے لبریز گفتگو کے بعد طلبہ کو اپنے مبارک ہاتھوں سے سندِ اجازتِ حدیث اور حضرت درخواستی رحمہ اللہ کے مجرب تعویذات اور عطورات کا خوبصورت ہدیہ دیا گیا۔

دین پور شریف چونکہ ساتھ ہی ہے تو حضرت خود ہمارے قافلے کو دین پور شریف کے قبرستان میں لے گئے جہاں جبال العلم اور مجاہدینِ ختم نبوت مدفون ہیں۔

وقت چونکہ زیادہ ہو رہا تھا اور ہم حضرت درخواستی سے واپسی کی اجازت لینا چاہ رہے تھے لیکن حضرت جی نے تو دوپہر کے کھانے کا انتظام ظاہر پیر میں ایک شاندار ہوٹل میں کر رکھا تھا۔
لذیذ اور شاندار قسم کے نمکین مٹن روش کا ذائقہ اس وقت دوبالا ہوا جب حضرت جی باوجودیکہ کامل پیرِ طریقت ہیں، سب طلبہ سے ایسے گھل مل گئے جیسے برسوں سے جانتے ہوں۔
یہ سب جامعہ اسلامیہ امدادیہ سے جڑی عظیم نسبتوں کی برکات تھیں کہ حضرت بار بار ہمیں اپنے بچوں جیسی محبت اور شفقت دے رہے تھے۔

اتنااااااا وقت دینے کے باوجود بھی حضرت جی ہمیں ظاہر پیر انٹرچینج تک خود الوداع کرنے آئے اور بے شمار دعاؤں سے بار بار نوازتے رہے۔
حضرت جی اور بھائی محمد صاحب کی یہ محبت و اپنائیت بھلائے نہیں بھولے گی۔

اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کو صحت و تندرستی والی بابرکت زندگی عطا فرمائیں اور آپ کا سایہ ہم سب پر تادیر قائم و دائم رکھیں۔🤍

آمین ثم آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں