ایک لمحہ… اور سب کچھ بدل گیا/تحریر/محمد حسنین معاویہ 0

ایک لمحہ… اور سب کچھ بدل گیا/تحریر/محمد حسنین معاویہ

ایک لمحہ… اور سب کچھ بدل گیا/تحریر/محمد حسنین معاویہ

کبھی کبھی زندگی میں ایک ایسی خبر سننے کو ملتی ہے جو دل کے نہاں خانوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ سوچوں کے دھارے منجمد ہو جاتے ہیں، وقت کی رفتار تھم جاتی ہے، اور لفظ اپنی معنویت کھو بیٹھتے ہیں۔ کل تک جو ہستی ہمارے درمیان تھی، ہماری سانسوں اور دھڑکنوں کے ساتھ جڑی تھی، آج اچانک پردۂ غیب کے پیچھے جا چھپی ہے۔ کون سوچ سکتا تھا کہ ایسا لمحہ بھی آئے گا؟ لیکن آیا… اور دل کی دنیا اُجاڑ گیا۔

“إنا للّٰہ و إنا إلیہ راجعون” – آج یہ الفاظ محض رسمی نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والا ایک کربناک نالہ ہیں۔ ایک ایسا صدمہ جسے بیان کرنے کے لیے کوئی لفظ کافی نہیں۔ حضرت شاہ صاحبؒ کی رحلت ہمارے لیے محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک عہد، ایک سایۂ شفقت اور ایک کامل رشتہ کے ختم ہو جانے کی کیفیت ہے۔

ہمارے خاندانوں کے تعلقات تقریباً چار دہائیوں پر محیط تھے۔ یہ تعلق رسمی یا تعارفی نہیں بلکہ محبت، احترام اور روحانیت کے رشتے میں گندھا ہوا تھا۔ آج جب اس رشتے کا ایک سرا ہم سے چھوٹ گیا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے وقت نے ہمارے وجود کا ایک ٹکڑا کھینچ لیا ہو۔ حضرت شاہ صاحبؒ کی ذات صرف ایک عالمِ دین نہیں بلکہ ایک سایۂ شفقت، ایک مہربان باپ اور ایک حقیقی روحانی رہنما کی صورت میں ہمارے سامنے تھی۔

والدِ محترم مفکرِ اسلام حضرت مولانا اللہ وسایا قاسمؒ کی وفات کے بعد حضرت شاہ صاحبؒ نے ہمارے سروں پر جس طرح شفقت کا ہاتھ رکھا، وہ منظر آج بھی آنکھوں کے سامنے ہے۔ ان کی موجودگی ہمیں یہ احساس دلاتی تھی کہ والد صاحب کی دعاؤں کی خوشبو اب بھی ہمارے گرد بکھری ہوئی ہے، جیسے ان کے ذریعے ہمیں وہی روحانی فیضان مل رہا ہو۔ حضرت شاہ صاحبؒ کا رویہ ایسا تھا جیسے کوئی شخص اپنی اولاد کو سینے سے لگائے اور اس کے دکھ درد میں شریک ہو۔

آج جب حضرت شاہ صاحبؒ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں تو دل بوجھل ہے اور آنکھیں نم ہیں۔ زندگی کے ان حسین لمحوں کو یاد کرتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ ان کی شخصیت محض ایک فرد نہیں تھی بلکہ ایک ادارہ تھی۔ وہ ایک مکتب تھے جہاں محبت سکھائی جاتی تھی، علم بانٹا جاتا تھا اور دلوں کو اللہ کی یاد سے آباد کیا جاتا تھا۔ ان کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ نصیحت کا خزانہ ہوتا، ان کی مسکراہٹ دلوں کے زخموں پر مرہم رکھتی اور ان کی دعائیں زندگی کے طوفانوں سے پناہ دیتیں۔

ان کے ہاں آنے والا ہر شخص یہ محسوس کرتا کہ وہ صرف اس کا اپنا ہے۔ ان کے دل میں ہر ایک کے لیے محبت اور خیرخواہی تھی۔ ان کی مجلس میں بیٹھنے والا علم، ادب، اور روحانیت کی خوشبو اپنے ساتھ لے کر اٹھتا۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے اپنی زندگی کو دینِ اسلام کی خدمت، انسانیت کی بھلائی اور محبت و اخلاص کی ترویج کے لیے وقف کر رکھا تھا۔

حضرت شاہ صاحبؒ کی رحلت یقیناً ہمارے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے، لیکن ان کی زندگی کے نقوش آج بھی ہمارے سامنے روشن ہیں۔ ان کے اخلاق، ان کی تعلیمات اور ان کی شخصیت سے وابستہ یادیں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ اگرچہ آج وہ ہمارے درمیان جسمانی طور پر موجود نہیں، مگر ان کا فیضان اور ان کی دعاؤں کی خوشبو ہمیں ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی۔

ایسے بزرگ، ایسے رہنما، اور ایسے محسن کم ہی نصیب ہوتے ہیں جو نہ صرف علم و معرفت کے مینار ہوں بلکہ اخلاق و محبت کے پیکر بھی ہوں۔ حضرت شاہ صاحبؒ کی شخصیت ایک ایسے درخت کی مانند تھی جس کی شاخیں سب کے لیے سایہ فراہم کرتی تھیں۔ آج وہ درخت ہمارے درمیان نہیں مگر اس کا سایہ، اس کے بیج اور اس کی خوشبو ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ حضرت شاہ جی رحمتہ اللہ علیہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ان کے فیوض و برکات کا سلسلہ قیامت تک جاری رکھے۔ ساتھ ہی ہم یہ بھی دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہماری زندگیوں میں بھی وہی اخلاص، محبت اور خدمت کا جذبہ پیدا ہو جو حضرت شاہ صاحبؒ کی شخصیت کا طرۂ امتیاز تھا۔

یقیناً آج دل شکستہ ہے، آنکھیں پرنم ہیں، مگر ساتھ ہی ایک اطمینان بھی ہے کہ ہم نے اپنی زندگی میں ایک ایسے انسان کو پایا جس کی قربت ایک نعمت تھی اور جس کی یاد اب ایک سرمایہ ہے۔ یہ سرمایہ ہماری نسلوں تک پہنچے گا اور انہیں یاد دلائے گا کہ اللہ کے ولی اپنے جانے کے بعد بھی دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔

إنا للّٰہ و إنا إلیہ راجعون۔
ایک لمحہ… اور سب کچھ بدل گیا/تحریر/محمد حسنین معاویہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں