0

محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم/تحریر/ایمن نساء

aiman nisa
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا انداز یہی ہے؟

محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم/تحریر/ایمن نساء

یہی عشق کامل یہی تو راضگی ہے
محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی رضا میں خدا کی بندگی ہے

آج کل ربیع الاول کا مہینہ ہے ہر طرف نعرے لگ رہے ہیں ۔اس کو بڑا جوش خروش سے منایا گیا۔خوب جلسے جلوس نکالے گئے۔کچھ لوگوں نے مخصوص سبز رنگ کا لباس اور اپنے گھروں پر سبز کلر کی لائٹنگ کی۔
یہ سب دیکھ کر دل میں خیال آیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس دنیا میں تشریف لانے کا مقصد یہی تھا؟؟
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا انداز یہی ہے؟؟
کیا یہ سب کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے خوش ہوں گے؟؟
کیا یہ سب کرنے سے ہمارے اوپر ان کا جو حق تھا وہ ادا ہو جائے گا؟؟
جب کہ دوسری طرف دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت زبو حالی کا شکار ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا ایک علاقہ آج پانی پینے کے لیے ترس رہا ہے۔جو کھانے کی لقمے کے لیے ترس گئے۔جن کے ہاتھ جنازہ اٹھاتے اٹھاتے تھک گئے۔
نہیں ہرگز نہیں!!
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کامل مکمل دین دے کر گئے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں انسانیت کا درد دے کر گئے تھے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپس میں جوڑ کر گئے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خالص دین اسلام دے کر گئے تھے ۔جو دوسروں کی نقالی کی ملاوٹ سے پاک تھا۔جس میں رسم و رواج نہیں تھے۔جتنی امت رسم و رواج بنانے کی طرف گئی اتنی ہی دین پر عمل سے بیزاری ہوتی گئی۔یہ صرف رسم و رواج اور جشن تک محدود نہیں یہ کفار کی نقالی ہے۔جس طرح عیسائیوں نے عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی تمام دین کو ایک کرسمس میں سمیٹ کر رکھ دیا اسی طرح آج بھی مسلمان یہی کر رہے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی سیرت کو پڑھیں۔
اپنا اخلاق، کردار اور اطوار سنت کے آئینے میں جانچیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اپنی زندگی میں لائیں۔
دین اسلام کو سر بلند کرنے کی فکر کریں۔
انسانیت کا درس دیں۔
درود شریف کا اہتمام کریں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے غم کو اپنا غم سمجھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی حفاظت کریں۔
لیکن افسوس آج کا مسلمان ان چیزوں سے دور ہے۔۔

*تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ لٹا کیوں*
*مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے*
ہمیں چاہیے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ویسی ہی محبت کریں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کی۔
*فرمان مبارک ہےکہ:*
میرے خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی کے ساتھ دانتوں سے پکڑو اور دین میں نئی چیزوں سے بچو کیونکہ ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
لہذا یہ تمام کام اس حدیث کی رو سے بدعات میں شمار ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں