بڑھاپے کے نام خط/تحریر/مہر ہمیش گل 0

بڑھاپے کے نام خط/تحریر/مہر ہمیش گل

بڑھاپے کے نام خط/تحریر/مہر ہمیش گل

ہمارے خاموش بڑھاپے!

ہم آپ سے ملنے کے لیے بہت بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ رات سوچوں اور دن خیالوں میں گزر جاتا ہے کہ زندگی کا ایسا کون سا لمحہ آۓ گا جس میں ہم آپ سے مل سکیں گے۔ ہماری خواہشات کے زیادہ انبار تو نہیں ہیں۔ بس چھوٹی سی خواہش ہے کہ آپ ہمارا استقبال افسردہ چہرے سے نہیں مسکراہٹ سے کریں۔ ہم آپ سے بہت کچھ کہنا چاہتے ہیں ایک خاموش ویران جنگل ہو جس میں ہر طرف خاموشی کا راج ہو جہاں آپ ہمیں سن سکیں۔ ہماری زندگی کے سفید کاغذ پر بہت سے نقش کندہ ہیں۔ زندگی کو زندگی سمجھ کر گزارتے ہوئے وقت گزر گیا۔ یہ احساس نہ ہوا کہ ہم بھی انسان ہیں۔ ایک دل رکھتے ہے اور اس معصوم دل کو پتھر بنتے ہوئے دیر نہ لگی۔ کچھ لوگوں کے تلخ رویے زندگی کے سفید کاغذ پر مرتب ہوتے گئے۔ کبھی زندگی کو زندگی سمجھ کر نہ جی سکے۔ وقت کی رفتار اس قدر تیز تھی کہ خود پر دھیان ہی نہیں گیا۔ زندگی کے سفر سے لطف اندوز ہونے کی بجائے اسے ایک سفر سمجھا اور بس سفر کرتے گئے۔ خود کو بس ایک خاموش کمرے کی درو دیوار تک محدود رکھا۔ ہمیں یہ سمجھتے ہوئے دیر ہو گئی کہ زندگی کا ہر لمحہ بہت قیمتی ہے۔ اسے محسوس کرنا چاہیے ۔ زندگی کے ہر لمحے کو کھل کر جینا چاہیے پر افسرده اس دل پر جس نے ہمیں کبھی خود کی قید سے رہائی نصیب نہ کی ۔ ایک بند کمرے کی مایوس دیواروں تک محدود رکھا۔ ہر خوشی کو تکلیف میں بدلنے میں یہ دل ماہر نکلا۔ وقتی خواہشات دب تو جاتی ہیں مگر اضطراب کی شدت میں کمی نہیں ہوتی۔ خواہشات روز پروان چڑھتی رہتی ہیں اور یہ کیسا کمبخت دل تھا جس نے خود کی خواہشات کو نکیل ڈال دی۔ ادھورے ارمانوں کو دفن کرنے میں ذرا دیر نہ لگائی۔ ہم آپ سے کچھ زیادہ تو نہیں بس یہی کہیں گے کہ آپ اپنے دل کو ایک گلدستے کی طرح سجا کر رکھنا جہاں صرف اور صرف پھولوں کی خوشبو ہو وقت بڑا بے رحم ہے آپ نرمی سے گزارنا۔ تلخ رویہ نہ اپنانا اس سے نہ صرف آپ کے اپنے آپ سے دور ہو جائے گے بل کہ ایک روز آپ خود کو بھی ایک بوجھ محسوس ہونے لگو گے ۔ہمیشہ سچائی کا راستہ اپنانا چاہیے۔ وہ راستہ آخری ہی کیوں نہ ہو۔ ہر فیصلہ وقت مانگتا ہے اور کوئی فیصلہ جذبات میں نہ کرنا۔ محبت اور پیار سے ہر رشتے کو نبھانا۔ کبھی بھی اس اندھیرے کمرے کی مایوس دیواروں کی طرح زندگی سے مایوس نہ ہونا جسے روشنی سے خوف انے لگا تھا۔ زندگی کو نعمت اور اللّٰہ رب العالمین کی رضا سمجھ کر جینا۔ ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ آپ کو ہمارا خط کب ملے گا پر جب تک آپ کو ہمارا یہ خط ملے گا ہم اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے ہوں گے۔ ہم چاہتے تھے کہ جب آپ خط پڑه رہے ہوں اور آپ کے ہاتھ کانپ رہے ہوں ہم آپ کو سہارا دے سکیں ۔پر آپ فکر نہ کرنا ایک روح کی طرح ہم ہمیشہ آپ کے ساتھ رہیں گے۔
بڑھاپے کے نام خط/تحریر/مہر ہمیش گل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں