غمزدہ دل/از قلم/صبیحہ خانم 0

غمزدہ دل/از قلم/صبیحہ خانم

غمزدہ دل/از قلم/صبیحہ خانم

ماہ نور نامی لڑکی اپنے گھر والو کے ساتھ کراچی میں ایک سات مرلے کے گھر میں رہتی تھی ماہ نور کے دو بھائی اور چار بہنے تھی ماہ نور ایک خوش باش لڑکی تھی اسے خوشیاں بانٹنا اور خوش رہنا بہت پسند تھا وہ بچپن ہی سے بہت شریر اور نٹ کھٹ تھی ایسے ہی دن گزر رہے تھے ماہ نور کا بڑا بھائی بہت خوبصورت اور خوب رو انسان تھآ اسے مرگی کا مرض دو سال کی عمر میں ہوگیا اس کی خوبصورتی دیکھ کر لوگ ماہ نور کی والدہ کو کہتے اسے نظر لگی ہے نظر بےشک ہے بےشک خدا نے بہت خوبصورتی سے نوازا ہ تھا۔الحمد اللہ۔ عبداللہ پڑھائی میں بہت اچھا تھا اسکول کی اکثر لڑکیاں اسکو پسند کرتی تھی اور اسکی بہن سے کہتی اسے کہو ہم سے باتیں کیا کرے دوستی کرلے لیکن عبداللہ کو لڑکیوں سے بات کرنا پسند نہیں تھا ایک دن عبداللہ دسوی جماعت کے امتحانات کی تیاری کر رہا تھا وہ جب بھی کچھ یاد کرتا تو بہت شوق سے سریلی آواز میں یاد کرتا تھا ایک دن ان کے گھر میں عبداللہ کی دادی کی بھابھی آئی ھوئی تھی عبداللہ کی والدہ نہیں جانتی تھیں کہ اس عورت کی عبداللہ کو ایسی نظر لگے گی۔اگر معلوم ہوتا تو وہ اپنے بیٹے کو کہی چھپا دیتی ۔اس عورت نے عبداللہ کی والدہ کو کہا ھمارے پوتے تو کتابوں کو دیکھتے نہیں اور اسے دیکھوں کیسے پڑرہا ہے ان کے جانے کے بعد عبداللہ کا پڑھائی سے دل خراب ہونے لگا اسکول میں دورے پڑتے کلاس کے لڑکے اسے گھر پہنچاتے۔ عبداللہ کو مرگی کی بیماری دو سال سے تھی مگر اب اسے مسلسل دورے پڑنے لگے بار بار گرنے کی وجہ سے اسے کافی چوٹے لگتی اس کے والدین بہت پریشان رہتے زیادہ گولیاں کھانےکی وجہ سے وہ بے سکوں ھوگیا تھا چاچا لوگو کے ساتھ تھوڑی ناراضگی تھی جس کی وجہ سےابو نے انکے محلے میں جانے سے منع کیا تھا ۔ نادان عبداللہ وہاں چلا گیا یہ کہہ کر ک میرے سارے دوست وہاں کے ہے عبد اللہ یہ کہکر اس محلے چلا جاتا ہے۔
کاششش وہ والد کی بات سن لیتا اور نہ جاتا جب وہ وہاں پہنچا تو دیکھا چاچا محلے کی گلی میں جھاڑو لگارہے تھے اس نا سمجھ نے انہیں بھنگی کہا اور ہنسنے لگا۔اسپر چاچی نے عبداللہ سے لڑائی کی محلے کے لڑکوں نے گھر جا کر بتایا وہاں عبداللہ کی بہن تھی عبداللہ کی والدہ گاءوں گئی تھی نانو کے انتقال پر بہن نے برقہ اوڑھ کر اسکول سے چھوٹی بہن کی چھٹی لی اور ابو کو پی سی او سے فون ملایا ابو آئے اور عبداللہ کو سمبھالا چونکہ عبداللہ گولیاں بہت کھاتا تھا اسلئے اس کا غصہ بھی بڑھ گیا تھا عبداللہ کو غصہ تھا کہ میں نے مذاق اپنے چچا سے کیا تھا جھگڑا چاچی نے کیو کیا چاچا اور عبداللہ کی عمر میں ذیادہ فرق نہیں تھا دونوں میں دوستانہ تعلق تھا لیکن چاچی گاءوں کی تھی تو ذرا جزباتی تھی۔اس نے چاچی سے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا چاچی جب اسکول بچی کو لےنے گئی تو اس نے دھکا دیا 14 سالہ عبداللہ نے چاچی کو دھکا دیا چاچی گرگئ اور ہاتھ کریک ہوگیا چاچی پولیس کے پاس گئ اور رپورٹ کی کہ عبداللہ نے مجھ پر ہاتھ ڈالا ہے پولیس عبداللہ کے پیچھے کتو کی طرح گھومنے لگی عبداللہ کو پولیس نہی پکڑ سکتی تھی اس میں دس بندوں سے ذیادہ طاقت تھیں والدہ گائوں میں تھی بہنو کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا والد نے پکڑوادیا جب والدہ کو پتا چلا ان کے پاءو تلے زمین نکل گئی گاؤں اور شہر کے درمیان 24 گھنٹوں کا فاصلہ تھا۔جب وہ آئ تو عبداللہ کو چھڑوانے کا اصرار کیا عبداللہ کے لیے محلے کا کوئی شخص زمانت دینے کو تیار نہیں تھا نا چاچا نہ پڑوسی سب نے اپنی اوقات دکھادی۔ایسے حالات میں سب اپنی اوقات دکھادیتے ھے عبداللہ کے والد بہت عزت دار آدمی تھے اپنے بہن بھای پر جان نچھاور کرنے کا صلہ ان کو بہت خوبصورت انداز میں مل رہا تھا۔جب تھک ہار گئے تو بیوی کو کہا معافی مانگو اپنے بیٹے کی غلطی کی بیوی رونے لگی چلانے لگی کہ آپ کو اندازہ ہے کیا کھ رہے ھے آپ کل بچے کی طرح میں نے اس کی پرورش کی نہلایا دھلایا کھلایا پلایا دھویا آج میں معافی مانگو مجھ پر یہ ظلم نہ کرو لیکن عبداللہ کے والد نے کہا میں تمہیں طلاق دےدونگا اگر تم نے معافی نہیں مانگیں عبداللہ کے چھڑانے کا اور کوئی طریقہ نہیں۔جلدی کرو ورنہ مجرموں کے ساتھ رہ کر وہ بھی خراب ھو جائے گا نہ چاہتے ہوئے بھی عبداللہ کی والدہ نے چاچی اور چاچا سے مافی مانگی عبداللہ گم سم رہنے لگا جیسے وہ عبداللہ ہو ہی نہیں عبداللہ پوری طرح بدل چکا تھا۔عبداللہ نے ایم کیو ایم والوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کیا والد کو پتا چلا تو ناراضگی کا اظہار کیا اور منع کیا ان لوگو نے عبداللہ کے ذھن میں غلط باتیں بھرنا شروع کر دی عبداللہ 14 سال کا جوان تھا اس کے ذھن کو خراب کرنا ان کے لئے آسان تھا انہوں نے عبداللہ کو ورغلایا والد سے حصہ مانگنے پر وہ نا سمجھ انکی باتوں میں آتا گیا اور والد سے حصہ مانگنے لگا والد نے
ناسمجھی سمجھ کر ھنس کر کہا ابھی تو میں زندہ ھو۔عبداللہ دس لوگوں کا مقابلہ کر سکتا تھا بس اپنے ابو سے ڈرتا تھا۔اسکو کنٹرول میں صرف اسکے ابو رکھ سکتے تھے کمسن عمر کے خوفناک واقعات نے عبداللہ کو سرکش کر دیا تھا اب عبداللہ غصیل اور چڑچڑا ھوگیا تھا کبھی کھانے پہ لڑتا کبھی رموٹ پر ایک دن تو حد ہوگئی اس نے ٹی وی توڑنے کی کوشش کی اسکو زیادہ غصے میں دیکھ کر ابو کو فون کیا ۔لیکن جتنے میں ابو آتے بھائی نے توڑ پھوڑ شروع کردی چیزو سے مارنے لگا جیسے ھی اس نے پانی کا مٹکا اُٹھا کر پھینکا اللّٰہ کا کرم تھاکہ غیبی مدد۔ ہم نہیں جانتے وہ کون سی طاقت تھی جو اللّٰہ نے بھیجی وہ مٹکا امی کے قریب رکا اور گرگیا۔پھر ھم نے دروازہ بند کر دیا کمرے کا اور بھائ پر خون سوار تھا اوزاروں کا استعمال کیا دروازہ توڑنے لگا ھم سب زور زور سے چللا رھے تھے آیت الکرسی زور زور سے پڑھتے تھے کہ ابو آگئے اس دن اسے ابو کا خوف بھی نہیں تھا وہ خوبصورت نوجوان آج ایک خوفناک بندہ لگرھا تھا آخر ھاتھا پائی کے بعد ابو نے اسے قابو پالیا اور بولا نکل جا بھت غمزدہ دن تھے وہ جس میں خالہ ھماری ساتھ رہی ابو سے بھائی نے مافی مانگی ابو نے ہمیں بٹھایا اور کہا بیٹا کام کرنا بھی ضروری ھے مجھے روزانہ چھٹی نہیں ملے گی اس کا کچھ اعتبار نہیں جیل میں ڈلوادونگا۔ امی نے کہا ایک بار گیا تو یہ حالت ھے دوبارہ نہیں ابو نے سمجھایا کہ میں اسکو مجرموں کے ساتھ نہیں رکھواءونگا نہ چاھتے ھوئے بھی بھائی کو جیل میں ڈال دیا گیا گھر جیسے خوشیاں ختم ہوگئی ہو ماتم تھا اللّٰہ سے روز امی تہجد میں دعائیں کرتی روتی۔اللّٰہ نے قبول کی بھائی کو ایک دن رہا کرادیا ابو نے۔ اب بھائ سدھر گیا تھا اس کی نفسیات کا علاج بھی کروایا لیکن بھائی کو شاید اللّٰہ نے امتحانات کے لیے پیدا کیا تھا عمر یو ہی گزر رہی تھی ک سب بہنیں جوان ہونے لگی بڑی بہن کی شادی کرنے گائوں آئے تو ساری کے رشتے ھوگئے بھائ ھمیشہ کام کا کھتا لیکن لوگ ناجائزفائیدہ اٹھاتے جو مشکل اور سخت دھوپ والا کام ہوتا بس تبھی بلاتے اور 300 روپے دیتے۔ابو نے کہا نہیں گھر میں رھو کوئی ضرورت نہیں بہنوں کی شادیاں ھوگئ آج کے دور میں ھمارے بھائ کے پاس موبائل نہیں تھا امی کے دل میں بھائ کی شادی کا ارمان تھا ھم بھی ابو سے کہا کرتے ابو خودداری کی مثال ھیں ابو کھتے بیٹا پینشن اس کے نام کرونگا اس کے لئے گھر بناؤ گا پھر کرونگا جیسے تمہارے ارمان ہے سب کے ھوتے ھیں پرائ بچی ایسے کیسے بیاہ دوں۔کبھی کبھی بھائ خود بھی شادی کا کہتا 32 سال ہوگئے ھم کھتے بھائ ھمارا بھی ارمان ھے تیری شادی کا صدقےےے میرا پیارا بھائ کبھی کھتی کچھ کام ڈھونڈ نا وہ کہتا تھا کوئ نہیں رکھتا چائے بہت پسند تھی اسے تھرماس ٹٹولتا تھا ھم کبھی ڈانٹ دیتے کبھی بنادیتے۔بہت اچھا تھا۔اللّٰہ اسے بھت خوش رکھے پتا ہے ھماری اس دنیا میں نہ بھولے لوگوں کی کوئ عزت نہیں جب بھائ گھر آتا ھمارے تو کوئ اس سے ٹھیک سے بات نہیں کرتا تھا میرے دوسرے بھائی کی بہت عزت تھی عالم بن رہا تھا اور سب کے ساتھ ہنسی مزاق بھی لوگو کی دلجوئی کا ھنر ھے اس کے پاس تبھی اور عبداللہ وہ تو بھت بھولا خاموش کبھی سمجھدار ھمیں حیران کر دیتا بھت دعاءوں کے بعد اللّٰہ نے اسے امی کو سکون دینے والا بنایا کچھ دنوں سے تبلیغ والوں کے ساتھ بیٹھتا امی جب بھی کہتی بھن کے گھر سامان لے جاؤ یا اس کو گھر چھوڑ دو یا سامان لے آ سب کام کرتا سردی گرمی کچھ پرواہ نہیں بہنوں کا چھرہ دیکھ کر سمجھ جاتا کوئ تکلیف ہیں 5 بہنوں کے کام اکیلا کرتا ھائے افسوس بھائ۔نہیں معلوم تھا کہ تیرا ساتھ بھت کم لکھا ہے۔کچھ دن پہلے تبلیغیوں کے ساتھ بیٹھنے لگا تھا شام کو سوپ لےکر آیا امی اور خالہ کو کہا سوپ پیلو امی نے کہا مجھے نہیں پسند یہ پی کر جاؤ بہن کے گھر انار دے آ ئو کہنے لگا اچھا وہ بہت خوش ہوتا تھا بہنوں کے کام کے لیے جب میں آ ئو انڈہ پکادو امی نے کہا ٹھیک ہے آ کر کھا لینا امی شادی میں گئی تھی امی کی طبیعت خراب ہونے لگی واپس آ ئ تو بھائی کمرے میں دیکھا امی کی عادت تھیں بھائی کو بار بار دیکھنے کی اس کی طبیعت کی وجہ سے امی چھوٹی سی آ ھٹ پر بھی اس کے پاس جاتی اس کے دوروں کی وجہ سے امی ابو کبھی بے غم نہیں سوئے مامول کے مطابق آ ج جب امی کمرے میں گئی تو بھائی نہین تھا امی نے ابو کو بتایا ابو نے کہا دوستو کے ساتھ ہوگا جب 12 بج گئے تو ابو پریشان ہوگئے اور تلاش کرنے لگے بہت تلاش پر نہی ملا تو سمجھے ہوسکتاہے شادی والے گھر میں دوستوں کے ساتھ سوگیا ھو۔امی ساری رات جائے نماز پر بیٹھی دعائیں کرتی روتی رہی اللّٰہ اسے تو کوئ رسی سے باندھ دے تب بھی نہ رکے کہاں رہ گیا اس کی حفاظت فرما کبھی چھت پر جاتی کبھی باہر نکل جا تی کبھی سجدہ کرتی جیسے ہی آ ذان ہوئ باھر بھاگی خالہ کا گھر قریب تھا ان کو بتایا۔اتنے میں خبر پھیل گئی کہ پل کے قریب کوئ پڑا ہے ابو ننگے پائوں بھاگے اس طرف ک شاید عبداللہ کو دورہ پڑا ہے لیکن یہ ابو کی غلط فہمی تھی عبداللہ کا مردہ جسم ابو کے جسم سے جان نکال چکا تھا قریبی لوگو نے بتایا کہ نماز پڑھنے جارہے تو عبداللہ کا جسم الٹا پڑا تھا اور ایک کتا اس کے سر کی طرف اور ایک کتا اس کے پائو کی طرف تھا گویا اس کی حفاظت کر رہے ہو ماں کی ساری رات کی دعائو نے گویا اس کی حفاظت کی ہو امی کی چیخو اور فریادو سے فضاء گونج رہی تھی بہنوں کو کال کر کے خبر دی گئ بھائ کی موت سے بے خبر بہنیں ناشتہ بنانے اور بچو کو اسکول بھیجنے میں مصروف تھی اچانک بھائ کی وفات کی خبر سن کر سکتے میں آ گئ۔قدم تھے کہ بڑھ نہیں رہے تھے کسی کو کیا خبر تھی کہ عبداللہ اس طرح اچانک چلا جائے گا جو بہنیں ہر دن بھائ کا انتظار کرتی تھی آ ج اسکے سرھانے بیٹھی رورہی تھی لیکن وہ آ ساز نہیں دے رہا تھا آ ج سب روپے تھے ہمدردی دکھارہے تھے جب وہ بارھا موت کے منہ سے نکلتا کوئ پوچھنے بھی نہی آ تا آ ج صرف اسلیے آ رہے تھے ک عبداللہ کے والد کا دکھ دوبالا کرسکے کہ بیٹا ساری رات نہی تھا اور یہ آ رام کر رہے تھے ارے ظالموں تمھاری اولاد گھر سے غائب ہو تو کیا تمہیں نیند آ گئی تو تم نے خیال کیسے کرلیا کہ وہ سوئے ہونگے۔ارے ظالموں عبداللہ کے والد اور والدہ تو اتنے نیک تھے کہ انہوں نے کبھی اللّٰہ کی نا شکری نہیں کی ارے ظالموں۔ کافی لوگوں کا آ نا جانا ہے اس راستے پر لیکن اللّٰہ نے عبداللہ کو کس پردے میں چھپا رکھا تھا کوئ نہیں جانتا ارے قابلِ رشک ہے عبداللہ کی موت اور عبداللہ کے والدین کہ ساری رات اس کا جسم مردہ حالت میں پڑا رہا چہرے پر دو بوند خون تھا چیونٹیاں تو خوشبو سونگھ کر آ جاتی ہیں اور کتے تو ریزہ ریزہ کر دیا کرتے ھیں لیکن عبداللہ اللّٰہ نے اسکی حفاظت کی عبداللہ اکثر بہنو سے کہتا تھا میری شادی جننت کی حور لائبہ سے ہوگی آ ج بہنوں کو بار بار یہ بات یاد آرہی تھی۔

بھائی تھا ساتھ تو محفوظ تھی دنیا میری،
بھائی جو ساتھ نہیں، لُٹ گئی دنیا میری۔

بہت سُو کو تو جوابوں کے تیر پھینکے تھے،
بھائی جو مر گیا، سو زخم لگ گئے دل پر۔

آج کِرچی ہوں میں جیسے ہو ٹوٹ پھوٹ گئی،
آج کِرچی ہوں میں جیسے ہو ٹوٹ پھوٹ گئی۔

بھائی تھا ساتھ تو اس آئینے پر داغ نہ تھا۔

نیچے آپ کے لکھے ہوئے تمام الفاظ کو مکمل اور روان اردو رسمِ خط میں منتقل کر کے ترتیب دے دیا ہے — جیسا آپ نے احساسات بیان کیے ہیں ویسا ہی رکھا گیا ہے، بس پڑھنے میں آسانی کے لیے جملے تھوڑے مربوط کیے گئے ہیں۔

اب بھائی کو خواب میں دیکھنے کے لیے بہت بےتاب تھیں۔ بہنیں تو جب بھی صدقہ کیا یا بیٹھی تھیں ہمیشہ دعا کرتی تھیں:
“اللہ میرا بھائی خواب میں آجائے۔”

ایک بہن کو خواب میں آیا — قورمہ کا پیکٹ دیا۔ ایک بار خواب میں آیا، اُس کا نکاح تھا؛ دوسری بہن کو خواب میں آیا، بھائی کہہ رہا تھا کہ جتنا میں نے خاندان والوں کے ساتھ کیا، کسی نے وہ نہیں کیا ہوگا۔ اسے دیکھ کر محسوس ہوتا تھا جیسے کہہ رہا ہو کہ: “کوئی نہ مانتا، کسی کے لیے خود کو زیادہ پریشان مت کرو۔”

امی کو خواب میں بہت پیاری حالت میں آیا — کھجوروں کی تھیلی لے کر اپنے کمرے میں گھس گیا۔ ما شاء اللہ، بہت خوبصورت خواب دیکھے۔ سب میں بھائی کا چہرہ مطمئن تھا۔ صرف رشتہ داروں والوں کے خواب میں پریشان دکھائی دیا تو ہم سمجھ گئے کہ بھائی رشتہ داروں سے شاید خفا ہو گا۔

اب بس یہی دعا کرتے ہیں کہ اللہ سب کو اپنوں کی قدر کرنے کی توفیق دے۔
وہ کہتے ہیں نا — زندہ ہو تو قدر نہیں کرتے، روتے ہیں اور یاد کرتے ہیں جب مر جاتے ہیں۔

بھائی تھا ساتھ تو محفوظ تھی دنیا میری،
بھائی جو ساتھ نہیں، لُٹ گئی دنیا میری۔

بہت سُو کو تو جوابوں کے تیر پھینکے تھے،
بھائی جو مر گیا، سو زخم لگ گئے دل پر۔

آج کِرچی ہوں میں جیسے ہو ٹوٹ پھوٹ گئی،
آج کِرچی ہوں میں جیسے ہو ٹوٹ پھوٹ گئی۔

بھائی تھا ساتھ تو اس آئینے پر داغ نہ تھا۔آپ کا پیغام پہلے ہی اردو میں ہے، لیکن اس میں جذبات کی شدت کی وجہ سے تھوڑا بکھرا ہوا لگ رہا ہے۔ میں اسے آپ کے جذبات کو برقرار رکھتے ہوئے صاف اور رواں اردو میں لکھ دیتی ہوں تاکہ یہ ایک مکمل اور بامعنی تعزیتی تحریر بن جائے:

اب آپ بتائیں کہ میرے بھائی کی زندگی برباد ہونے میں کون قصور وار ہے؟
وہ ابّو کی مامی، جنہوں نے حسد بھری نگاہ سے بھائی کو دیکھا اور جل کر تکلیف دی؟
یا وہ جنہوں نے ایک بار ’’ماشاءاللہ‘‘ نہ کہا؟
یا وہ چچی جو چچا اور بھتیجے کے درمیان آگئیں اور جھگڑے کو ہوا دی؟
یا وہ لوگ جو بچوں کے ذہنوں میں غلط باتیں بھرتے ہیں؟
یا وہ پولیس والے جنہوں نے ایک کم سن بچے کو پکڑنے کے لیے حوالدار لگا دیے؟

ہائے افسوس! بے شک بھائی کی زندگی اللہ نے لکھی تھی لیکن ہم بہنوں اور ماں باپ کے دل سے ایک لمبی آہ کے ساتھ یہی صدا نکلتی ہے:
کاش! وہ عورت نہ آتی
کاش! چچا چچی بڑاپن دکھاتے
اللہ ذلیل کرے ان کو جنہوں نے بھائی کو گمراہ کرنے کی کوئی کسر نہ چھوڑی۔

پھر دل کو تسلی دیتا ہے کہ اللہ نے بھائی کی موت کو اتنا خوبصورت اور حیران کن بنا کر اپنی حفاظت میں رکھ کر سب کے منہ پر طمانچہ مارا ہے جو اس کی قدر نہ کرتے تھے۔

برا نہیں ہے کوئی ان کے کھانے میں
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں

میرا پیارا بھائی ہم بہنوں کے سر کا تاج تھا۔
جتنا لکھوں کم ہے۔
پورا گاؤں تعزیت کے لیے آیا اور سب یہی کہتا کہ اس کی نگاہ ہم نے کبھی اونچی نہیں دیکھی۔
آج کل تو بے حیائی ہے لیکن اس میں بے حیائی نہ دیکھی۔
بہنوں کے ساتھ مسجد کے لوگوں کے بھی کام آتا تھا۔

اللہ میرے بھائی کو خوشیاں دے، وہ جہاں ہو وہاں ایک غم بھی نہ دیکھے۔
بے شک بھائی اور امّی ابّو اس حادثے کی زندہ مثال ہیں۔

“دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔”

ہم نے اپنے والدین کو اچھا کرتے دیکھا اور بدلہ برا دیکھا لیکن امی ابو کے صبر پر ختم ہے۔
مجھے فخر ہے کہ میں شکیل خان کی بیٹی ہوں جنہوں نے ہمیں اتنی دریا دلی سکھائی کہ آج بھی ہم اپنے انہی چچا چچی کو معاف کر کے بہت اچھے سے رہتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

ایک بار پھر کہوں گی کہ یہ سب تقدیر میں لکھا تھا لیکن ایک حسرت دل میں ہے۔
ایک خالہ ہیں جو بھائی کے بعد دل میں گھر کر گئی ہیں۔
اللہ میرے دوسرے بھائی کو ترقی عطا فرمائے اور امی ابو کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔
آمین یارب العالمین.
غمزدہ دل/از قلم/صبیحہ خانم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں