0

12 ربیع الاول یوم ولادت باسعادت سرکار مدینہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم/تحریر/اسامہ صدیقی

ص12 ربیع الاوّل یوم ولادت باسعادت سرکار مدینہ، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم/تحریر/اسامہ صدیقی

– ماہ ربیع الاول بہت ہی بابرکت مہینہ ہے کہ جس میں ہمارے پیارے نبی سرکار دو عالم، تاجدار مدینہ، محبوب رب العالمین حضرت محمد مصطفی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی۔
– 12 ربیع الاول پیر کے دن، صبح صادق کے وقت، ابو طالب کے مکان میں آقا نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی۔

– میرے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک پیدا نہیں ہوئے تھے کہ آپ کے والد ماجد حضرت عبداللہ مدینہ منورہ میں وفات پاگئے،
– جب آپ کی عمر مبارک چار یا پانچ برس ہوئی، تو مدینہ منورہ سے واپسی پر ابواء کے مقام میں آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ بھی دار حقیقی کی طرف روانہ ہوئیں۔
– والدہ کی وفات کے بعد آپ اپنے دادا حضرت عبدالمطلب کے پاس رہے، اور جب آپ کی عمر مبارک آٹھ برس ہوئی تو آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب بھی اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔
– دادا کی وفات کے بعد آپ اپنے حقیقی چچا حضرت ابو طالب کے پاس رہے اور انہوں نے آپ کی پرورش جاری رکھی۔
– جب آپ کی عمر مبارک 40 برس ہوئی تو آپ کو نبوت کے اعزاز سے نوازا گیا۔

آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس دنیا میں قدم رکھا ہے ہر طرف ظلمت و تاریکی کے بادل چھائے ہوئے تھے، ہر طرف افسردگی کا سماں تھا، بچیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا، بت پرستی عام تھی، عورت کا معاشرے میں کوئی مقام نہ تھا، قتل و غارت، زنا کاری، بدکاری، شراب نوشی عام تھی، سالہا سال دشمنیاں جاری رہتی تھی، لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے،
لیکن آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے ایک انقلاب برپا ہوا، جس سے قیصر و کسری کے کنگرے ہلنے لگے، کئی سال سے جلنے والا آتش کدہ بجھ گیا، تاریکی اور ظلمت کے بادل چھٹ گئے، دشمنیاں ختم ہو گئیں، عورت کو ایک بلند مقام حاصل ہوا، جو خون کے پیاسے تھے وہ خون دینے پر تیار ہوگئے،

آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے دنیا میں وہ انقلاب برپا ہوا کہ جس نے پتھر دلوں کو موم کر دیا، جس نے پتھروں کے سامنے جھکنے والوں کو ایک خدا کے سامنے جھکا دیا، ظالم مظلوموں کا سہارا بنے، غلاموں کو آزادی ملی، حق کا بول بالا ہوا، کفر کا منہ کالا ہوا۔

اکبر الہ آبادی لکھتا ہے:
– در فشانی نے تری قطروں کو دریا کردیا
– دل کو روشن کردیا آنکھوں کو بینا کردیا
– خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے
– کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کر دیا

آج اگر ہم اپنی زندگی کی طرف دیکھیں اور اپنا محاسبہ کریں، کہ جس مقصد کے لیے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی کیا ہم اس مقصد پر عمل پیرا ہیں یا نہیں؟؟؟ ضرور آواز آئے گی کہ نہیں!

لہذا فقط نعرے لگانے سے ہم عاشق رسول نہیں کہلائیں گے، عشق کے لیے پہلی شرط محبت اور دوسری شرط اطاعت ہے،
اب محبت کی حد کیا ہے؟؟؟ خود آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حدیث مبارکہ فرمایا:
لا يؤمن احدكم حتى اكون احب اليه من والده وولده والناس اجمعين (البخاری)
ترجمہ: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن کہلانے کا حقدار نہیں ہے کہ جب تک اس کے دل میں میری محبت اس کے ماں باپ، اولاد، اور پوری کائنات کے انسانوں سے بڑھ کر نہ ہو جائے۔

اگر تو ہم ہر ایک سے بڑھ کر آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں تو محبت کے ساتھ اطاعت بھی ضروری ہے،
اب اطاعت کس طرح کرنی ہے قرآن پاک میں اللہ پاک فرماتے ہیں:
وما اتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا (الحشر)
ترجمہ: اور رسول جو کچھ تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں رک جاؤ
آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من أحب سنتي فقد أحبني، ومن أحبني كان معي في الجنة (الترمذی)
ترجمہ: جس نے میری سنت سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا۔

مذکورہ آیات مبارکہ اور احادیث مبارکہ کے اندر آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے ساتھ اطاعت پر جنت کا وعدہ کیا گیا ہے، اگر محبت کے ساتھ اطاعت بھی ہوگی تب ہم سچے عاشق رسول کہلانے کے حقدار ہیں، وگرنہ نہیں۔

آئیے! اس 12 ربیع الاول کے دن یہ عہد کریں کہ ہم اپنے پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام سنتوں کے مطابق اپنی زندگی گزاریں گے، اور جن کاموں سے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا، ہم ان سے رک جائیں گے اور ہر وہ کام کریں گے کہ جس سے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوتے ہوں۔

– جس طرح کسی کی یوم ولادت (برتھ دے) پر تحائف پیش کیے جاتے ہیں،
آئیے! ہم بھی اپنے پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یوم ولادت کے موقع پر انہیں تحائف پیش کریں۔

– جن کے چہرے پر داڑھی نہیں وہ داڑھی رکھ کر آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ پیش کریں۔
– جو عورتیں پردہ نہیں کرتی وہ پردہ شروع کرکے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ پیش کریں۔
– جو بے نمازی ہیں وہ نماز شروع کر کے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ پیش کریں۔
– جو سود کھاتے ہیں وہ سود کو ترک کر کے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ پیش کریں۔
– جو بدکار ہیں وہ بدکاری چھوڑ کر آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ پیش کریں۔
– جو لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں وہ دھوکہ چھوڑ کر آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ پیش کریں۔
– جو گناہوں میں مبتلا ہیں وہ گناہوں کو ترک کرکے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ پیش کریں۔
– جو ظالم ہیں، وہ ظلم کو چھوڑ کر آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ پیش کریں۔
– جو کرپشن کرتے ہیں وہ کرپشن چھوڑ کر آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ پیش کریں۔
– جو اپنے ماتحتوں کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں وہ اس رویے کو چھوڑ کر آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ پیش کریں۔
– درود شریف کی کثرت کرکے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ پیش کریں۔

علامہ اقبال لکھتے ہیں:
– یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
– کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں