تحریر: حکیم شاکر فاروقی
انسانی فطرت ہے کہ وہ مصیبت کے وقت کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ حتی کہ بعض اوقات مصیبت و پریشانی حد سے بڑھتی نظر آئے تو اپنی جان تک لے لیتا ہے۔ اللہ رب العزت نے انسان کی جان سے بھی قیمتی چیز ایمان کو قرار دیا ہے کہ یہ جنت میں داخلے کی ضمانت ہے۔ لیکن بندہ خدا وقتی فائدے کے لیے اسے بھی بیچ دیتا ہے۔ اسی لیے خالق کائنات نے انسان کو صبر کرنے اور مایوسی سے بچنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ نیز ان مصائب و آلام سے بچنے کے لیے کچھ طریقے ارشاد فرمائے ہیں تاکہ اگر پیمانہ صبر چھلکنے لگے تو وہ انھیں آزما کر تکلیف کا سامنا کر سکے۔ انھی میں سے ایک جائز طریقہ دم، رقیہ اور تعویذات بھی ہیں۔ جنھیں شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے استعمال کیا جائے تو نہ صرف مسائل حل ہو جاتے ہیں بلکہ خالق و مالک ذات کی نافرمانی سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ لوگ خواہشات نفسانی پر چلتے ہوئے ان کا غلط اور بے جا نیز خلاف شریعت استعمال کر کے رب تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کر لیتے ہیں۔جس سے معاملات درست ہونے کی بجائے مزید بگڑ جاتے ہیں۔
تعویذات و دم فی نفسہ جائز قرار دیے گئے ہیں، لیکن ان کی کچھ حدود و قیود بھی متعین کی گئی ہیں تاکہ آزمائش کے دور میں حوصلہ رہے۔ ان میں سب سے پہلی حد یہ رکھی گئی کہ یہ دم، رقیہ اور تعویذات فقط سبب کے درجہ تک رہیں، خود مسبب نہ بنیں۔ یعنی یہ سمجھے کہ کام بنانے والی ذات اللہ ہی کی ہے، تعویذات فقط ایک دعا کی مانند ہیں بذات خود کچھ نہیں کر سکتے۔ اگر انھیں ہی مشکل کشا مان لیا گیا تو ایمان ضائع ہو جائے گا۔ دوسری شرط یہ رکھی گئی کہ ان میں استعمال ہونے والے الفاظ قرآن و سنت کے احکام سے متصادم، شرکیہ، اجنبی اور نامانوس نہ ہوں تاکہ کوئی دھوکے سے آپ کے ایمان پر ڈاکا نہ ڈال سکے۔ یہ شرط انتہائی اہم ہے، اس پر ہی ہم بعد میں بات کرنے والے ہیں۔ تیسری شرط یہ ہے کہ ان کے ساتھ ساتھ مادی اسباب کو بھی لازمی اختیار کیا جائے۔ محض تعویذات پر تکیہ کر کے بیٹھے رہنے اور ظاہری اسباب کو یکسر نظر انداز کر دینے سے نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ اگر ان شرائط اور حدود و قیود کو مدنظر رکھا جائے تو تعویذات، دم وغیرہ کا استعمال جائز ہوگا ورنہ ناجائز اور حرام ہے۔
آج کل پریشانی کو خالق کی جانب سے آزمائش جان کر صبر کرنے کی بجائے اسے فوراً دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس میں جائز و ناجائز ہر حربہ آزمایا جاتا ہے۔ اولا رشوت، سفارش اور دیگر طریقوں سے کام نکلوایا جاتا ہے۔ مسئلہ حل ہو جائے تو ٹھیک، ورنہ روحانی طریقے ڈھونڈے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر کوئی نیک بندہ مل گیا تو ٹھیک ورنہ ڈھونگی لوگ مال، عزت، جان اور ایمان سب کچھ چھین لیتے ہیں۔ اس لیے اولا تو صبر کریں اور اس پریشانی کا سامنا کریں۔ بالفرض اسے جھیلنا مشکل ہو جائے تو فقط شرعی طور پر جائز دم، تعویذات اور رقیہ کا سہارا لیں۔ علمائے کرام نے غیر شرعی تعویذات کی پہچان یہ لکھی ہے:
ان میں شرکیہ الفاظ ہوتے ہیں۔ اللہ کے علاوہ مخلوقات یا براہ راست شیاطین سے مدد مانگی جاتی ہے۔ آپ نے اکثر اس طرح کے الفاظ لکھے دیکھے ہوں گے: ”یا عزازیل” ، ”یا ابلیس” وغیرہ۔ حالانکہ عزازیل شیطان کا اصلی نام ہے، اسی طرح ابليس اس کا صفاتی نام ہے۔ اسی طرح بعض اوقات ایسے الفاظ اور علامات استعمال کی جاتی ہیں جن کا کوئی معنی و مطلب سمجھ میں نہیں آتا۔ مثلاً گزشتہ دنوں ایک تعویذ دیکھا جس میں ایک بندر جیسی تصویر بنی ہوئی تھی اور اس کے اعضا پر مختلف الفاظ تحریر تھے۔ اسی طرح بہت مرتبہ تعویذات پر شیر، تلوار اور دیگر مختلف اشیا کی تصاویر دیکھی گئیں۔ بعض جگہ گڑیا پر سوئیاں وغیرہ چبھوئی ہوئی دیکھی گئیں۔ مچھلی کے پیٹ میں تصاویر، بکرے کے شانہ کی ہڈی پر تعویذ لکھنا، نجاست والی اشیا پر آیات مبارکہ لکھنا یا کسی غلیظ چیز کے ساتھ قرآن پاک یا اسمائے الہی وغيرہ لکھنا، پھر انھیں قبروں، پرانے کنوؤں، دریاؤں وغیرہ میں پھینکنا یا آگ میں جلانا سب غیر شرعی اور دین سے دوری کی نشانی ہے۔ ان کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوتا ہے جنھیں دیکھتے ہی ہر سلیم العقل شخص پہچان لیتا ہے کہ اس میں کوئی گڑبڑ ہے۔ اسی طرح دم میں ایسے الفاظ ہوتے ہیں جن کا نہ سر ہوتا ہے نہ پیر! مثلا کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر ایک دم وائرل ہوا جس میں ”دادا جی کی گھوڑی” اور اس طرح کے اوٹ پٹانگ الفاظ تھے۔کچھ عرصہ قبل ایک آدمی میرے پاس لایا گیا جس کی حالت پاگلوں جیسی تھی، پتا چلا کہ اسے الو کا گوشت کھلایا گیا تھا۔ ایک خاتون نے مجھے خود بتایا کہ میں نے اپنے شوہر کو اپنے تابع کرنے کے لیے ایک پیر کے مشورے سے ایام مخصوصہ کا پانی پلایا تھا، اب توبہ کی ہے تو پچھتا رہی ہوں کہ یہ کیسا غلیظ کام میں نے کیا۔
میرے ایک دوست کا چلتا کام ٹھپ ہو گیا، حالات دن بدن بگڑتے چلے جا رہے ہیں۔ مجھ سے مشورہ لینے آیا تو میں نے پوچھا کہ سچ سچ بتانا! تم نے کسی کے خلاف کچھ کیا تو نہیں؟ کہا کہ ”ہاں! میرے پڑوس کی دکان والا مجھے بہت تنگ کرتا تھا۔ میں نے ایک ”بابا جی” سے مشورہ کیا تو انھوں نے کہا کہ قبروں اور مختلف مساجد کی مٹی مجھے لا دو۔ میں تمھیں پڑھ کر دوں گا۔ چنانچہ میں نے وہ مٹی رات کے وقت اس کی دکان کے سامنے پھینک دی۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اس شخص کی دکان داری بند ہو گئی لیکن ساتھ میری تجارت پر بھی بندش لگ گئی۔ میں نے کہا کہ جس دن تم نے مٹی اس کی دکان کے سامنے بکھیری تھی، اس دن آندھی بھی آئی تھی؟ کہنے لگا کہ جی بالکل، اس رات بارش بھی ہوئی تھی۔ میں نے عرض کیا کہ وہ مٹی آپ کی دکان کے سامنے بھی بکھر گئی۔ آپ پڑوسی کا نقصان کرتے کرتے اپنا بھی کر بیٹھے۔گویا
آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
غرض! لالچ، حرص،خود غرضی،جذباتی پن اور جلدبازی کا ایک سیلاب ہے جس کے دھارے میں ہر ایک بہتا چلا جا رہا ہے۔ اگر کوئی شخص صبح شام کے مسنون اذکار پڑھتا رہے۔ نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم کی ارشاد فرمودہ دعاؤں کا اہتمام کرے، کسی کو خواہ مخواہ نقصان نہ پہنچائے، حرص و طمع سے دور رہے۔ اپنی تقدیر پر راضی رہے، صبر و شکر کا وطیرہ اپنائے رکھے تو اسے دم، تعویذات اور دیگر وظائف کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ لیکن اس سب کے لیے اللہ تعالیٰ پر توکل ،پختہ یقین اور کامل ایمان کا ہونا ضروری ہے۔ یقین نہیں آتا تو آج ہی آزمائیں۔ ان شاءاللہ العزیز چند دنوں میں حالات پھرنا شروع ہو جائیں گے۔
***