0

جشنِ میلاد کے نام پر حضور ﷺ کی گستاخیاں/ تحریر/ جلال الدین الدیامری

Jalal ul din
تحریر / جلال الدین

جشنِ میلاد کے نام پر حضور ﷺ کی گستاخیاں/ تحریر/ جلال الدین الدیامری

اللہ کو کیسے مانیں؟
اللہ تعالیٰ کو ویسے ہی مانا جائے، جیسے حضور ﷺ نے مانا۔
رسول اللہ ﷺ کو کیسے مانیں؟
رسول اللہ ﷺ کو ویسے مانا جائے جیسے صحابۂ کرام نے مانا۔
تو کیا صحابہ نے جشنِ میلاد منایا؟
نہیں، کبھی نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جشن نہیں منایا، بلکہ انہوں نے حضور ﷺ کے مشن کو اپنایا۔
جشن اور مشن میں کیا فرق ہے؟
جشن کا مطلب ہے خوشی منانا، جیسا کہ آج کل لوگ “برتھ ڈے” (یومِ پیدائش) مناتے ہیں۔
جبکہ مشن کا مطلب ہے کسی مقصد کے لیے زندگی وقف کر دینا۔
حضور ﷺ کا مشن یہ تھا کہ انسانیت کو اللہ کی ہدایت کی طرف بلایا جائے۔ حضور کی لائی ہوئی تعلیمات کو اپنایا جائے، اُن کی اطاعت کی جائے، اُن کی سیرت کو نمونہ بنایا جائے، اور اُن کے اخلاق و کردار کو اپنی زندگی میں نافذ کیا جائے۔
محبت کا دعویٰ کب سچا ہوگا؟
جب ہم حضور ﷺ کو ویسے مانیں جیسے صحابہ نے مانا۔
محض نعرے، جھنڈیاں، لائٹیں، اور ایک دن کا جوش و خروش کافی نہیں۔
صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، اولیاء، اکابرینِ امت — کسی نے بھی جشن میلاد کے نام پر:
ناچ گانا نہیں کیا
ڈھول باجے نہیں بجائے
مرد و خواتین کا اختلاط نہیں کیا
اسٹیج پر غیر شرعی انداز میں قصیدے نہیں پڑھے
نہ ہی دین کے نام پر کوئی رسم یا بدعت ایجاد کی
افسوس!
آج بعض لوگ “عشقِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ویڈیوز میں ناچتے دکھائی دیتے ہیں۔
ان کے چہروں پر داڑھی نہیں
لباس شرعی حدود سے باہر
شلواریں ٹخنوں سے نیچے
محفلوں میں مرد و خواتین کا آزادانہ میل جول
اور دین سے ہٹ کر رسومات کا رواج
یہ سب حضور ﷺ سے محبت نہیں بلکہ اُن کی تعلیمات کی خلاف ورزی اور ایک طرح سے گستاخی ہے۔
محبت وہی معتبر ہے جو صحابہ نے کی۔
اطاعت، اتباع، سیرت پر عمل، یہی حقیقی عشق ہے۔

گزارش:
اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقتِ محبت سمجھنے، حضور ﷺ کی اطاعت کرنے، اور ان کی سنتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں