دورِ حاضر میں ختمِ نبوت کی اہمیت و ضرورت/تحریر/حکیم شاکر فاروقی 0

دورِ حاضر میں ختمِ نبوت کی اہمیت و ضرورت/تحریر/حکیم شاکر فاروقی

دورِ حاضر میں ختمِ نبوت کی اہمیت و ضرورت
حکیم شاکر فاروقی

اسلام کا ہر بنیادی عقیدہ نہ صرف ایمان کی بنیاد ہے بلکہ امت مسلمہ کی اجتماعی شناخت کا محافظ بھی ہے۔ ان میں سے عقیدۂ ختمِ نبوت وہ عظیم الشان عقیدہ ہے جو نبی کریم ﷺ کی رسالت کے آخری ہونے پر ایمان لانے کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ عقیدہ نہ صرف قرآن و سنت سے ثابت ہے بلکہ امت کا اس پر اجماع بھی ہے۔ دورِ حاضر میں جب مختلف فتنوں نے سر اٹھایا ہے، اس عقیدہ کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔

کوئی بھی کمپنی یا تنظیم جب اپنا منشور اور دستور تیار کرتی ہے تو اس کے آخر میں یہ بھی طے کرتی ہے کہ اگر اس تنظیم کو ختم کرنے کی ضرورت پیش آ گئی تو اسے کیسے ختم کرنا ہے۔ رب العزت نے بھی اس کائنات کو بنا کر ختم کرنے کا منشور طے فرمایا ہے۔ انسان کو اپنا نائب بنا کر دنیا میں بھیجا تو ان سے ایک عہد بھی لیا۔ خاص طور پر انبیائے کرام سے کہ سب سے آخر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا جائے گا اور اگر کوئی ان کے دور میں موجود ہوا تو اسے ان پر ایمان لانا پڑے گا۔ کیوں کہ ان کے بعد دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ چنانچہ اس کائنات کے اختتام کا طریقہ کار وضع کر دیا گیا۔ اب جو شخص ختم نبوت کو نہ مانے تو گویا وہ اللہ خالق کائنات کے منشور کو جھٹلانے کا مرتکب ہوگا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی بات کو جھٹلانے کی جسارت کرے تو وہ اللہ کے بنائے مذہب اسلام سے خارج ہو جائے گا۔

اس ختم نبوت کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اس طرح سے فرمایا: “مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ” (سورۃ الاحزاب، آیت 40) یعنی محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔”

خود نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، لَا نَبِيَّ بَعْدِي” (سنن ابی داؤد) یعنی میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔”

ختمِ نبوت والے معاملے پر امت کا اجماع ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس عقیدہ کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ جنگِ یمامہ میں 1200 صحابہ نے جامِ شہادت نوش فرمایا، جن میں 700 حافظِ قرآن تھے۔ یہ سب مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے، جو جھوٹا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا تھا۔ ماضی میں مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی جیسے جھوٹے مدعیانِ نبوت سامنے آئے، اور آج کے دور میں قادیانیت کا فتنہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا، جو قرآن و سنت اور امت کے اجماع کے خلاف ہے۔ یہ فتنہ مسلمانوں کے عقائد کو مسخ کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس سے بچاؤ کے لیے عقیدۂ ختمِ نبوت کا تحفظ ضروری ہے۔

یاد رہے کہ ختمِ نبوت کا عقیدہ ایمان کا حصہ ہے۔ اس پر ایمان لانا اور اس کا دفاع کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ یہ عقیدہ نہ صرف دین کی حفاظت کا ذریعہ ہے بلکہ امت کے اتحاد اور فتنوں سے بچاؤ کا سبب بھی ہے۔ کیوں کہ امت مسلمہ جب تک اس کی لڑی میں پروئی رہی،اسے کوئی شکست نہ دے سکا۔ ماضی میں جس کسی نے بھی اس عقیدہ کے خلاف جانے کی جرات کی، امت مسلمہ نے اسے بزور پیچھے دھکیل دیا۔ چنانچہ یہ فتنہ ایسے پروان نہ چڑھ سکا کہ بقائے امت کے لیے خطرہ بن جائے۔ لیکن جب امت زوال کا شکار ہوئی اور برصغیر پاک وہ ہند میں فرنگی راج قائم ہوا تو اس فتنے کو ہلا شیری دی گئی۔ چنانچہ اس فتنہ کی نحوست امت مسلمہ Devide and rule کے اصول کے تحت تقسیم در تقسیم ہوتی چلی گئی۔ جس کا خمیازہ غلامی کی صورت میں ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ لہذا ہر مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ اس فتنے سے آگاہی حاصل کرے۔ تاکہ اس کے شر سے بچی رہے۔ ورنہ فتنہ انسان کے ایمان کو کھا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مملکت خداداد پاکستان میں عوام الناس نے علمائے کرام کی قیادت میں اس کا بھرپور دفاع کیا۔ جب تک اس کے تحفظ کے لیے قانون سازی نہ ہو گئی، سارے عوام بے سکون رہے۔ 7 ستمبر 1973 میں پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث اور قانون سازی کے بعد عوام نے سکھ کا سانس لیا۔ یوں منکرین ختم نبوت کا سد باب ممکن ہو سکا۔

آئیے، ہم سب اس عظیم عقیدہ کی حفاظت کے لیے متحد ہوں، اس پر ایمان لائیں، اور اس کے خلاف اٹھنے والے ہر فتنہ کا مقابلہ کریں۔ یہی ہماری پہچان ہے، یہی ہمارا ایمان ہے۔
دورِ حاضر میں ختمِ نبوت کی اہمیت و ضرورت/تحریر/حکیم شاکر فاروقی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں