عشرۂ رحمت للعالمین ﷺ اور ولادتِ باسعادت کا پیغام/تحریر/ محمد حسنین معاویہ
ربیع الاول کا مہینہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جب جلوہ گر ہوتا ہے تو ایمان افروز فضاؤں میں نور کی کرنیں بکھرنے لگتی ہیں۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں کائنات کی سب سے عظیم ہستی، محسنِ انسانیت، شافعِ روزِ جزا، امام الانبیاء، سید الاولین والآخرین، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔ تاریخِ انسانی کا وہ لمحہ، جس نے اندھیروں کو اجالے میں بدل دیا، ظلم کو عدل سے، نفرت کو محبت سے، اور جہالت کو علم و حکمت سے بدل ڈالا، ۱۲ ربیع الاول کے دن کے سورج کی پہلی کرن کے ساتھ طلوع ہوا۔
ولادتِ باسعادت ﷺ: کائنات کی سب سے بڑی خوشخبری
عرب کی زمین صدیوں سے ظلمت میں ڈوبی ہوئی تھی۔ معاشرہ جہالت کی زنجیروں میں جکڑا ہوا، عورت کو ذلت کی علامت سمجھا جاتا، یتیم کو معاشرے کا بوجھ قرار دیا جاتا، اور طاقتور کمزور کو کچل دینا فخر سمجھتا تھا۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمتِ کاملہ کے ظہور کے لیے مکہ مکرمہ کی بابرکت وادی کو منتخب فرمایا۔ ۱۲ ربیع الاول کی صبح وہ ساعتِ سعید آئی جب آمنہ کے لال نے دنیا کو اپنی آمد سے منور کیا۔ کعبہ کی فضا معطر ہو گئی، ابو قبیس پہاڑ خوشی سے جھوم اٹھا اور آسمان کے دروازے کھل گئے۔
آمدِ رسول ﷺ: رحمت کا پیغام
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اعلان فرمایا:
“وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ”
(الانبیاء: 107)
ترجمہ: “اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔”
یہ آیتِ مبارکہ آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کرتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد محض عرب کے لیے نہیں بلکہ تمام انسانیت بلکہ تمام مخلوقات کے لیے رحمت ہے۔ آپ کے اخلاق، تعلیمات، اور سنتِ مبارکہ آج بھی دنیا کو امن و سکون دینے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔
مقصدِ ولادت و بعثت ﷺ
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کا مقصد انسان کو اُس کے اصل خالق سے جوڑنا اور اس کائنات کے اصل مقصد کی پہچان دلانا تھا۔ آپ ﷺ نے اعلان فرمایا:
“إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْأَخْلَاقِ”
(الموطأ لمالک)
ترجمہ: “مجھے صرف اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اخلاقِ حسنہ کو کامل کر دوں۔”
گویا آپ کی بعثت کا اصل مقصد انسانیت کو عزت، وقار اور پاکیزگی عطا کرنا تھا۔ آپ ﷺ نے غلام کو آزادی دی، یتیم کو سہارا دیا، عورت کو عزت دی، اور کمزور کو طاقتور کے برابر لا کھڑا کیا۔
عشرہ رحمت للعالمین ﷺ: تجدیدِ عہد۔
ہمارے ملک پاکستان میں ہر سال ۱ تا ۱۲ ربیع الاول “عشرۂ رحمت للعالمین ﷺ” کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس عشرے کا مقصد صرف چراغاں اور میلوں کا انعقاد نہیں بلکہ اسوۂ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اگر ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بن جائیں تو معاشرے سے نفرت، انتہا پسندی، ظلم اور ناانصافی ہمیشہ کے لیے مٹ جائیں۔
یہ عشرہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اپنی گفتگو میں نرمی، معاملات میں دیانت، تعلقات میں محبت، اور زندگی کے ہر شعبے میں عدل و انصاف کو فروغ دیں۔ یہی آپ ﷺ کا مقصد ولادت اور پیغام بعثت ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات: وقت کی سب سے بڑی ضرورت۔
آج کی دنیا مادیت پرستی، جنگوں، بے سکونی اور اخلاقی زوال کا شکار ہے۔ ایسے میں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو مشعلِ راہ بنائیں۔ آپ نے فرمایا:
“خَیْرُ النَّاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ”
ترجمہ: “لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو دوسروں کے لیے زیادہ نفع رساں ہو۔”
اگر ہم اپنے معاشرے کو آپ ﷺ کی اس ہدایت کے مطابق ڈھال لیں تو ہر دل محبت سے بھر جائے گا، ہر ہاتھ دوسروں کی مدد کو بڑھنے لگے گا اور ہر گھر امن و سکون کا گہوارہ بن جائے گا۔
عاشقانِ رسول ﷺ کا پیغام۔
عشرۂ رحمت للعالمین ﷺ کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی محبتِ رسول ﷺ کو صرف نعروں اور ظاہری جشن تک محدود نہ رکھیں بلکہ آپ کی سیرتِ طیبہ کو عملی زندگی کا جزو بنائیں.آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنے گھروں، اپنے بازاروں، اپنے اداروں اور اپنی سیاست تک میں نافذ کریں۔ یاد رکھیے! حقیقی خوشی اسی میں ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی سیرت کو اپنے عمل سے زندہ کریں۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کائنات کے لیے سب سے بڑی خوشخبری ہے اور آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد انسانیت کو رحمت اور اخلاقِ حسنہ کا پیکر بنانا ہے۔ آج جب ہم عشرۂ رحمت للعالمین ﷺ منا رہے ہیں تو ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے کو آپ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں گے۔ یہی اصل محبتِ رسول ﷺ ہے اور یہی اس مبارک عشرے کا پیغام ہے.
عشرۂ رحمت للعالمین ﷺ اور ولادتِ باسعادت کا پیغام/تحریر/ محمد حسنین معاویہ
ربیع الاول ۔ موسم بہار ۔ / تحریر /مولانا محمد عثمان انیس درخواستی