
طنز و مزاح
عنوان:- جانے انجانے
بقلم:- انیلہ افضال ایڈووکیٹ
اکثر لوگ کہتے ہیں کہ “علم ایک روشنی ہے”… لیکن بھائی سچ بات تو یہ ہے کہ کبھی کبھی اندھیرے میں ہی سکون ہوتا ہے! خاص طور پر جب بل بہت زیادہ آئے تو پھر کینڈل لائٹ ڈنر نا صرف مجبوری بن جاتا ہے بلکہ رومانٹک بھی لگتا ہے!
علم بہت بڑی دولت ہے لیکن کبھی کبھی علم سے بڑا کوئی عذاب نہیں ہوتا۔ اور کسی چیز کا علم نہ ہونا بڑے فائدے کی بات ہوتی ہے۔مثال کے طور پر جب تک ہمیں ٹینشن کے بارے میں علم نہیں تھا، یہ کسی کو نہیں ہوتی تھی۔ اسی طرح ڈپریشن اور دیگر ذہنی مسائل سے بھی ہم محفوظ تھے۔ ہسٹریا کے دوروں کو بڑی سہولت سے جنات کی کارستانی کہہ کر جان چھڑا لی جاتی؛ حالانکہ ہمیں یقین ہے کہ اس وقت جنات بھی کہہ رہے ہوں گے کہ بھائی میں نے کچھ نہیں کیا، اسے کسی ڈاکٹر کو دکھاؤ؛ لیکن ظاہر ہے کہ ہماری سماعت کی فریکوئنسی ان کی آواز کے مطابق سیٹ نہیں ہے تو اس لئے ہم ان کے مفید مشوروں پر عمل نہیں کر پاتے۔
کچھ سال پہلے تک مچھروں کے کاٹنے سے ملیریا ہی ہوتا تھا، اب تو ڈینگی بھی ہونے لگا ہے کیوں ؟ کیونکہ ہمیں ڈینگی والے مچھر کا علم ہو گیا ہے۔ سائنس کی روز افزوں ترقی نے نزلے کے سیدھے سادے وائرس کو اچھا خاصا کرونا بنا ڈالا ہے۔ میڈیکل سائنس نے ساری بیماریوں کو الٹ پلٹ کر کے رکھ دیا ہے۔ جب تک ہم سمجھتے تھے کہ کھانا پیٹ میں جاتا ہے تب تک صرف پیٹ ہی خراب ہوتا تھا۔ جب سے معدے کا بارے میں جاننے لگے ہیں پیٹ خراب ہونا بند ہوگیا ہے اب صرف معدہ ہی اپ سیٹ ہوتا ہے۔
لاعلمی کتنی بڑی نعمت ہے، اس کا عام شخص کو اندازہ ہی نہیں ہو سکتا۔ علم کی زیادتی بعض اوقات گھر کا سکون بھی چھین لیتی ہے؛ اب مثال کے طور پر اگر آپ کو یہ پتہ چل جائے کہ آلو گوشت میں جو گوشت ہے وہ پچھلے مہینے کا فریز کیا ہوا ہے، تو کیا آپ مزے سے کھا سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں! لیکن اگر آپ کو علم نہ ہو… تو سبحان اللہ! آپ انگلیاں چاٹتے ہوئے کہہ رہے ہوتے ہیں: “کیا ذائقہ ہے بھئی!”
جاننے کا دکھ نہ جاننے کے غم سے کہیں زیادہ ہے۔
اگر آپ دن رات سیاست، بجٹ، ڈالر اور مہنگائی کی خبریں دیکھتے رہیں گے، تو ذہنی مریض بن جائیں گے۔
لاعلمی میں مزہ ہے۔جہالت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ بندہ پرسکون رہتا ہے۔ نہ سیاست کی فکر، نہ ڈالر کی قیمت کا غم، نہ مہنگائی کا رونا!!! دوستوں کے درمیان سب سے خوش وہی ہوتا ہے جسے کچھ پتا نہ ہو۔
کسی نے پوچھا: “یار کل کا میچ دیکھا؟”
اس نے کہا: “کون سا میچ؟”
سب نے کہا: “واہ بھائی! تم کتنے خوش نصیب ہو کہ تم نے قومی ٹیم کی پرفارمنس نہیں دیکھی!”
یہ لاعلمی دفتر میں کس طرح آپ کو آرام اور سہولت مہیا کرتی ہے، اس بات کا آپ کو بالکل اندازہ نہیں۔ دفتر میں اگر آپ کو ای میل فارمیٹ کا “علم” ہو جائے، تو سمجھیں باس نے آپ کو ہدف بنا لیا۔
“یار تمہیں تو سب آتا ہے، یہ رپورٹ بھی تم ہی بناؤ!”
اب اگلی رات آپ تین بجے تک چوہے کی طرح کی بورڈ پر کھٹ کھٹ رہے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف وہ نادان کولیگ جو پوچھتا ہے کہ یار یہ پی ڈی ایف کیا ہوتا ہے؟” آرام سے ٹانگ پر ٹانگ رکھے چائے پی رہا ہوتا ہے!!
ٹیکنیکل باتوں سے انجان رہیں آپ کی جان بچی رہے گی۔ دفتر تو دفتر گھر میں بھی علم سے پرہیز کریں کیونکہ اگر کہیں آپ کو پنکھے کی تار، وائی فائی راؤٹر، یا موبائل اپ ڈیٹ کے بارے میں علم ہو گیا؛ تو سمجھ جائیں کہ محلے بھر کے لوگ آپ کو بلائیں گے اور بلا بلا کر آپ کا جینا حرام کر دیں گے؛ لہٰذا جاہل رہیں، اور سکون پائیں! تحقیق سے ثابت ہے کہ جیسے جیسے علم بڑھتا ہے، ویسے ویسے سکون کم ہوتا جاتا ہے۔
دوستوں اور دفتر کو چھوڑیئے، گھر میں بھی جہالت آپ بے حد کام آتی ہے۔بچوں کے اسکول ہوم ورک سے لاعلمی یعنی آپ کی دماغی صحت برقرار!!! آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسا کیسے ممکن ہے تو جناب سوچ کا زاویہ ذرا سا تبدیل کرتے ہیں؛ آپ ویک اینڈ پر سکون سے ٹی وی دیکھ رہے ہیں، جیسے ہی آپ کو علم ہوا کہ بچے کا سائنس پراجیکٹ پیر تک جمع کروانا ہے؛ آپ کی نیندیں حرام، بطور والدین، آپ کے چہرے پر پریشانی ثبت ہو جاتی ہے اور آپ یوٹیوب چھان رہے ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ان پڑھ والدین: “مجھے نہیں پتا، ماں سے پوچھ لو!” اور اس کے بعد سکون ہی سکون!!! یعنی تھوڑا جاہل بنو، خوش رہو!کیونکہ بعض اوقات لاعلمی، دنیا کی سب سے بڑی نعمت بن جاتی ہے۔ آج کل اصل عیش انہی کو حاصل ہے،جنہیں کچھ خبر نہیں!
جہالت بری چیز ہے، لیکن ہلکی پھلکی لاعلمی میں جو مزہ ہے وہ علم کے سمندر میں بھی نہیں! اگر آپ خوش رہنا چاہتے ہیں تو ہر چیز جاننے کی کوشش نہ کریں۔