
دین کی بات
ناکامی سے کامیابی تک کا سفر
تحریر: عبدالجبار سلہری
کبھی تم نے کسی ایسے مسافر کو دیکھا ہے جو شام کی تاریکی میں تھکا ہارا، خالی ہاتھ، مگر دل میں اُجالوں کی آرزو لیے چل پھر رہا ہو؟ وہ جس کی آنکھوں میں شکست نہیں، یقین محکم کی چمک ہو؟ ایسا مسافر حقیقت میں مؤمن بندے کی علامت ہے، جو ”ناکامی“ کی راکھ میں بھی ”امید“ کا چراغ جلاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر زمین بنجر بھی ہو جائے، تب بھی بارش آسمان سے ہی برستی ہے، اور اللہ ہی دلوں کو پھر سے زندہ کرنے والا ہے۔
انسان سمجھتا ہے کہ ناکامی ایک انجام ہے، حالانکہ اللہ رب العزت قرآن مجید میں فرماتا ہے:
”ممکن ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو“
(سورۃ البقرہ 216)
اس آیت کا مفہوم اظہر من الشمس ہے کہ جس راہ کو ہم شکست سمجھتے ہیں، وہ درحقیقت رب تعالیٰ کی طرف سے ترقی کی تربیت ہوتی ہے۔ ناکامی ایک ”خدائی آئینہ“ ہے جو ہمیں ہماری حقیقت دکھاتا ہے۔ یہ اس لمحے کا نام ہے جب بندہ دنیا سے نہیں، اپنے رب سے لو لگاتا اور قرب حاصل کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
”بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔“ (سورۃ الشرح 6)
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ”بعد“ کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ ”مع“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے یعنی مشکل کے ساتھ ہی آسانی آئے گی، اس کے بعد نہیں۔ ناکامی دراصل اس ”عسر“ کا لمحہ ہے جس میں ”یسر“ چھپا ہوتا ہے، جیسے رات میں دن کا بیج، اور زخم میں شفا کا وعدہ۔
کامیاب وہ نہیں جو کبھی گرتا نہیں، بلکہ وہ ہے جو گرتا ہے اور سجدے میں اُٹھنا سیکھ لیتا ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
”طاقتور مؤمن کمزور مؤمن سے بہتر اور اللہ کو زیادہ محبوب ہے، اور دونوں میں خیر ہے۔“(صحیح مسلم)
یہ طاقت صرف جسمانی نہیں بلکہ ایمانی اور نفسیاتی بھی ہے، وہ قوت جو انسان کو ناکامی کے بعد بھی امید سے جوڑے رکھتی ہے۔
اگر تاریخ میں کوئی انسان ”ناکامیوں کے باوجود“ کامیابی کی معراج پر پہنچا تو وہ محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ طائف کی وادیوں میں پتھر کھائے، قریش کی سرد مہری دیکھی، شعبِ ابی طالب کا قحط جھیلا مگر فرمایا:
”اے اللہ! میری قوم کو بخش دے، وہ نہیں جانتے۔“(صحیح بخاری)
یہی صبر، یہی عفو و درگزر، یہی مضبوط ایمان آخرکار فتحِ مکہ میں بدل گیا۔ ناکامی یہاں شکست نہیں تھی، بلکہ صبر کا پُل تھی جو کامیابی کے ساحل تک پہنچتا ہے۔
حضرت ایوبؑ کی بیماری، حضرت یوسفؑ کی قید، حضرت موسیٰؑ کا فرعون سے فرار، یہ سب بظاہر ناکامیاں تھیں، مگر دراصل رب کی قربت کا راستہ تھیں۔ قرآن کریم نے حضرت یوسفؑ کے واقعے کے آخر میں فرمایا:
”جو تقویٰ اختیار کرے اور صبر کرے، تو اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔“(سورۃ یوسف 90)
اس میں واضح پیغام دیا اللہ تعالیٰ نے کہ کامیابی صبر اور تقویٰ کے سنگم پر جنم لیتی ہے۔
تھامس ایڈیسن نے ہزار کوششوں کے بعد بلب بنایا۔ ایدھی صاحب نے فقر میں خدمت کا محل تعمیر کیا۔ لیکن اگر ہم اپنے ایمان کی روشنی میں دیکھیں تو اصل کامیابی قلب کی روشنی ہے، نہ کہ بلب کی۔
ایدھی صاحب کی قوت اس میں نہ تھی کہ اس نے ادارے بنائے، بلکہ اس میں تھی کہ اس نے انسان کو انسان سمجھا۔
یہی وہ کامیابی ہے جو عبادت کا درجہ رکھتی ہے، کیونکہ رسول ﷺ نے فرمایا:
”تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، اور اللہ کو وہ شخص زیادہ محبوب ہے جو اس کے بندوں کے لیے زیادہ نفع بخش ہو۔“(شعب الایمان للبیہقی)
ناکامی کے وقت سب سے پہلا زخم انسان کے ایمان پر لگتا ہے، مگر اسی وقت بندہ اپنے رب کے قریب بھی ہوتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:
”مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔“ (سورۃ غافر: 60)
جب انسان سجدے میں گرتا ہے تو اصل میں وہ ناکامی سے کامیابی کی پہلی سیڑھی چڑھتا ہے۔ نماز، دعا، استغفار یہ وہ قوتیں ہیں جو انسان کے اندر کا جہاد جگاتی ہیں۔ اور یہی “جہادِ نفس” کامیابی کی اصل بنیاد ہے۔
توبہ و محاسبہ نفس، اپنی غلطی کو پہچاننا اور رب کی طرف رجوع کرنا سب سے بڑی حکمت ہے، حضرت عمرؓ کا قول ہے۔
”اپنے نفس کا محاسبہ خود کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے“
ناکامی میں صبر، کامیابی میں شکر یہی مومن کا توازن ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ ”صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔“ (البقرہ 155)
مشاورت و نصیحت پر عمل کرنا چاہیے،قرآن پاک میں اللّٰہ رب العالمین نے فرمایا:
”اور ان سے مشورہ کرو“(آل عمران 159)
عمل صالح میں اگر نیت صحیح ہو تو ناکامی بھی عبادت بن جاتی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عملوں کا نیتوں پر ہے۔(بخاری شریف)
ناکامی انسان کو جھکاتی ہے، اور یہی جھکنا بندگی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی راکھ سے دوبارہ جنم لیتا ہے۔
شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
کھول یوں مٹھی کہ اک جگنو نہ نکلے ہاتھ سے
آنکھ کو ایسے جھپک لمحہ کوئی اوجھل نہ ہو
پہلی سیڑھی پر قدم رکھ ،آخری سیڑھی پر آنکھ
منزلوں کی جستجو میں رائیگاں کوئی پل نہ ہو
ناکامی، مایوسی نہیں اللہ کی طرف لوٹنے کا دروازہ ہے۔ جب انسان سب کھو دیتا ہے، تو دراصل اللہ کے سوا سب کچھ کھو دیتا ہے۔ اور جب صرف اللہ بچتا ہے، تو سمجھ لو کہ سب کچھ واپس ملنے والا ہے۔
بالفاظ دیگر یوں کہنا مناسب ہو گا کہ یہی رازِ کامیابی ہے۔ جو گرتے ہیں وہی اٹھنے کا فن جانتے ہیں،جو روتے ہیں وہی دعا کی لذت پہچانتے ہیں، اور جو ناکامی میں بھی رب کی رضا ڈھونڈ لیتے ہیں،انہی کے لیے کامیابی مقدر بن جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں فرماتا ہے کہ:
”اور اللہ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔“(آل عمران 146)
یہی صبر، یہی یقین، یہی ایمان، ناکامی سے کامیابی تک کے سفر کا سب سے روشن چراغ ہے۔