
کاش مشکل کی ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جاۓ
تحریر محمد کوکب جمیل ہاشمی
خواجہ میر درد کا ایک مشہور شعر ہے کہ ع
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کر و بیان
اس شعر میں معانی و مفہوم کا اایک عمیق کنواں ہے جس کے اندر سے خیر کے جتنے ڈول بھر بھر نکالیں کم ہیں۔ اس شعر کی روح فلاح انسانیت ہے۔ اس میں ایک انسان کے دوسرے انسان کے ساتھ تعلق اور وابستگی کی جہتوں کا ذکر ہے۔ اس کے اندر دوسرے کا دکھ درد سمیٹ لینے اور محبت و ایثار کے جذبے کے اظہار کی بات کی گئی ہے۔ انسان جب ہم نفسوں کے ساتھ شریک رنج و غم ہوتا ہے تو گویا تکلیفوں سے سلگتے ہونٹوں پر تسکین کی مسکان نہ بھی آئے، پیشانیوں پر بہتے پسینے کے قطروں کو تازہ ہوا کا جھونکا ضرور چھو جاتا ہے۔ انسان ہی انسان کے کام آتا ہے۔ کسی ڈوبتے کو بچاتا ہے۔ ایک انسان ہی کسی دوسرے محتاج انسان کو سہارا دیتا ہے، انسان بھوکے اور پیاسے کی بھوک پیاس بجھانے کو لپک کر آگے بڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دوسروں کی خدمت کرنے والوں کو روحانی فیض اور انمول خوشی کی نعمت سے نوازتا ہے۔ اس جہان میں بیماریاں، حادثات، آفات، مصائب اور ناکامیاں انسان کے حوصلے پست کر دیتی ہیں۔ غم و اندوہ اور آسائش سے محرومیاں اسے سخت مشکلات سے دو چار کر دیتی ہیں ایسے میں کوئی مدد کو پہنچے تو مشکل اور پریشانی رفع ہو جاتی ہے۔ اگر مشکل کو حل کرنے کی استطاعت نہ ہو تو پریشاں حال کا حوصلہ و ہمت بندھانا اوراس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنا اور اس کے لئے خصوصی دعا کرنا بھی عبادت کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ بات تسلیم ہے کہ انسان ہی انسان کودشمنی کے آزار میں مبتلا کرتا ہے۔ انسان ہی انسان کی جان لینے پر تلا رہتا ہے، ظلم و جبر اور استبداد کے ذریعے اسے ایذا پہنچاتا ہے۔ اسے اس کی مال و متاع سے محروم کر دیتا ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ دکھ بھری اس دنیا میں درد کا درماں کرنے والے انسانوں کی کوئی کمی نہیں۔ انسانوں کے وحشی پن اور دہشت گردی تو رہی ایک طرف، جس کے سد باب کے لئے دنیا کے ہر ملک میں قانون اور ضابطوں کا سہارا لیاجاتا ہے، کچھ ایسی آفات اور آزمائشیں بھی ہیں جن میں بے بسی، بے چارگی اور سخت حوصلہ شکن حالات انسانی مدد کے متقاضی ہوتے ہیں۔ مثلا بڑے پیمانے پر کسی بیماری کا پھیل جانا، تباہ کن زلزلوں سے ہلاکتوں اور زخمیوں کے صدمات کا سامنا ہونا، کہیں قحط اور خشک سالی کی وجہ سے اموات کا وقوع پذیر ہونا۔ کثیر بارشوں سے سیلابوں کا آنا اور اس کے نتیجے میں گھروں اور مال و اسباب کا پانی میں بہہ جانا، جیسا کہ پاکستان کے تقریبآ تمام علاقوں میں ہفتوں سے جاری شدید بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں ابھی تک جاری ہیں، یا جنگ و جدل کے نتیجے میں ہونے والے جان و مال کا کثرت سے نقصان ہونا جیسا کہ فلسطین اور غزہ میں روزانہ ان گنت شہادتوں اورجبری قحط کی صورتحال کا سامنا ہونا۔ ان آفتوں اور مصیبتوں میں مبتلا لوگوں کی مدد کو پہنچنا بہت ضروری ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے، لیکن بعض مخصوص حالات میں اس کے اندر کی بے بسی کی آگ اور جان دینے والے عزیز رشتے داروں کے رنج و ملال کی کیفیت اسے ناتواں اور کمزور کر کے اسے برداشت سے محروم کر دیتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ کوئی ہمدردی کا خوگر اسکے زخم پر مرہم رکھ دے تو کسک کی جگہ اس کا دل احسان مندی، تشکر اور خیر و فلاح کے جذبات سے منور ہو جاتا ہے۔ ہمدردی کا یہی جذبہ محبت اور اخلاص کا روپ دھار کر تشفی اور تسلی کے جوت جگاتا ہے۔ چناچہ کسی کو توفیق ہو تو وہ دکھی انسانیت کی مدد اور سکھ چین کے کاموں میں حتی الوسع بڑھ چڑھ کر حصہ ضرور لے۔۔ پاکستان کے عوام میں ایسے مخلص اور درد مندوں لوگوں کی بڑی تعداد ہے جو اپنی دولت کو خیر کے کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔ انکے صدقات، خیرات اور سخاوت کا اعتراف عالمی سطح پر بھی کیا جاتا ہے۔ بلا شبہ پیسے سے کسی کی مدد کرنا نیک اور صالح عمل ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ دو برس سے جاری غزہ کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے اسرائیل کے مظالم سے جو بڑے پیمانے پر شہادتیں ہوئیں اور اس سے کہیں ذیادہ زخموں سے چور مجاہدین کی بڑی تعداد چیخ چیخ کر مدد کے لئے پکارتی رہی لیکن عالمی برادری میں ان کے دردناک شب و روز پر غم و الم کے مداوے اور زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے رحم کا جذبہ بیدار نہ ہوا اور نہ ہی اسلامی دنیا بشمول پاکستان نے سرکاری یا نجی سطح پرماسواۓ چند نجی تنظیموں، مدارس دینیہ اور درد مند افراد کے وہاں مستحقین کو خوراک، لباس، ادویات اور رقوم پہنچانے میں بہت سے اداروں اور انجمنوں نے خاطر خواہ کردار ادا نہیں کیا۔ یہ ایک المیہ ہے۔ ظلم و بربریت کے شکار ان بے بس اور لاچار فلسطینیوں کی اشک شوئی کرنے والے فلاحی اداروں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر رہی۔
ایک شعر ہے کہ ء
اپنے لئے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں۔
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا۔
اس جزو سخن میں بھی ایک پیغام ہے جوایک کلی کی طرح ڈالی پہ پھوٹتا ہے اور پھر غمزدوں کے لئے مونس بن کر دکھی انسانیت کو خوشبو کی سانسیں فراہم کرتا ہے۔ ۔جب ہم پاکستان میں گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، پنجاب اور دوسرے حصوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کی ضررسانیوں کو دیکھتے ہیں تو دل کٹ کے رہ جاتا ہے۔ کچے پکے مکانوں کو پانی میں ڈوبتے اور زندہ انسانوں کو سیلاب کی نذر ہوتے دیکھ کرایسا لگتا ہے جیسے زمین ہمارے پیروں تلے سے کھسک رہی ہے۔ ایسے میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سب اٹھ کھڑے ہوتے اور بے گھر ہونے والے لوگوں اور خاندانوں کے غرقاب ہونے والوں کے لئے دل و جان سے مدد اور مالی اعانت کرتے۔ پورے ملک کے عوام کو اپنے آرام و آسائش کو ترک کرکے متاثرہ آبادیوں اورآہ و بکا کرتےغریب متا ثرین کے غم غلط کرنے کی سبیل کرتے۔ مگر حیف ہے ہمارے ان لوگوں پر جو معاشرے میں امیر ترین حیثیت کے مالک ہیں اور ماشاء اللہ وسائل زندگی سے مالا مال ہیں، بے خبری کے عالم میں بہارو پھول برساؤ کے نغمے گنگنا رہے ہیں۔ جیسے انہیں ملک اور قوم پہ ٹوٹنے والی آفت سے کوئی سرو کار نہیں۔ ماسوائے چند نجی خیراتی اداروں اور مدارس دینیہ کے، جو خوراک، خیمے اور کمبل وغیرہ متاثرہ لوگوں تک پہنچا رہے ہیں، یا کچھ سرکاری ادارے اور فوجی جوان جو کشتیوں کے ذریعے ڈوبتوں کو بچانے کی سعی کر رہے ہیں، مگر پاکستان کی وہ ہستیاں جوعیش وعشرت کی پر سکون زندگی گزار رہے ہیں، مالی امداد کرنے میں کوتاہی برت رہے ہیں۔ پاکستان میں ایسے بہت سارے ریٹائرڈ اور حاضر کرکٹرز ہیں جن کو اللہ نے مال و جائیداد کی کثرت سے نوازا ہے، اور ایسے فنکار، ادا کار اور مغنی اور ایسے بڑے صنعت کار، بڑے بڑے بلڈرز اور ہوٹلوں ،ریستورانوں کی مالک متمول شخصیات، اس امیرکاروباری اور صحافتی تنظیموں کے عہدیدار، نامی گرامی وکلاء کو پیسوں میں کھیل رہے ہیں اور سیاسی جماعتوں کی کروڑپتی شخصیات کی طرف سے مالی امداد کجا سیلاب کی نذر ہونے والے گاؤں دیہات کا دورہ تک کرتے نظر نہیں آ رہے۔ لگتا ہے بڑی بڑی مالی شخصیات اور اداروں کے دلوں پہ غفلت کے پردے پڑ گئے، یا دلوں سے خوف خدا جاتا رہا۔ دل میں جذبہ ہوتو سامنے منزل آ جاتی ہے۔ بہزاد لکھنوی نے کہا خوب کہا ہے۔ ع
اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جاۓ
منزل کے لئے دوگام چلوں اورسامنے منزل آ جاۓ
آتا ہےجوطوفا۔ں آنےدے کشتی کا خدا خود حافظ ہے
مشکل تونہیں ان موجوں میں خود بہتا ہوا ساحل آ جاۓ
اللہ مصیبت کی اس گھڑی میں سب کا حامی و ناصر ہو اور جملہ متاثرین کی مدد فرماۓ۔ آمین۔