
عنوان : “ندیا دھیرے بہو!”
تحریر:- محمد کوکب جمیل ہاشمی
” ندیا دھیرے بہو”. یہ ایک ایسا مفہوم و معانی سے بھرپور محاورہ ہے، جس میں بھری برسات میں چڑھتی ندی سے کہا جا رہا ہے کہ تیز تیز نہ چل اور سکون و اطمینان سے دھیرے دھیرے بہو۔ یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ جب برسات میں دریا اور ندی نالوں میں طغیانی آتی ہے تو ان کے پانی کے تھپیڑے کناروں سے ابل کر سیلاب بلا بن جاتے ہیں اور پھر جہاں جہاں اس کی تیز موجیں جاتی ہیں، وہاں وہاں اپنے راستے میں حائل پر رکاوٹ کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جاتی ہیں۔ تب ندیا پار جانے والے مسافرندیا کی منتیں کرتے “ذرا دھیرج” کا سندیسہ بھیج کر منتیں مانگتے ہیں اور پنی کشتی کے ناخڈا کوخدا کے سہارے پانی میں اتار کر کوسوں دور جانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ کھیون ہار (اللہ) کہاں درد مندوں کی دعا رد کرتا ہے اور کشتی ندیا پار کنارے جا لگتی ہے۔
اوپر دئے گئے محاورے میں ایک پیغام ہے اور پیغام میں مخفی ایک نصیحت ہے جو خوش انجام ہے۔ مراد یہ ہے کہ آپ کے ذمہ ایک کام ہے، وہ یہ کہ دیکھ کر چلیں، آگے بھی اور پیچھے بھی۔ دائیں بھی اور بائیں بھی۔ تیزی نہ دکھائیں، دوڑ نہ لگائیں، بریک پہ پاؤں رکھیں اگر ٹریفک جام ہے۔ مانا کہ من چاہے چال دبنگ دکھانے کو۔ مگر ہر وقت نہیں ہوتا ترنگ دکھانے کو۔ رکو، ٹہرو،چلو آہستہ آہستہ۔ چلیں تو کٹ ہی جاۓ گا سفر آہستہ آہستہ۔ اسی میں عافیت ہے، اسی میں کامیابی ہے منزل پہ پہنچنے کی۔ کچھوے اور خرگوش کی کہانی پڑھی ہو گی تم نے؟ توسن لو جو گوش حق نیوش ہو۔ بھاگو گے دوڑو گے تو تھک ہآر کر راہ میں سو جاؤگے یا راستہ کھوجاؤگے۔ کچھوا چلتا رہا رفتہ رفتہ اور مقابلہ جیت گیا۔
آپ جانتے ہیں کہ ہمارے دیس میں شیطانی کھیل کے بھیس میں، جلد بازی اور تیز رفتاری کے عادی ڈرائیور بسوں، ویگنوں اور کاروں کو کھائی میں گرا کر مسافروں کی جانوں سے کھیل رہے ہوتے ہیں۔ سڑکوں پر ہونے والے زیادہ تر حادثات تیزرفتاری اور رفتار کی حدود سے تجاوز کرنے سے رونما ہوتے ہیں۔ بسا اوقات ایک ڈرائیور کی غلطی سے بس کی تمام سواریاں لقمہ اجل بن جاتی ہیں۔ سینکڑوں خاندان تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ غم و اندوہ کی یہ کربناک خونی خبریں آۓ دن اخباروں کی زینت بنتی ہیں۔ مگر پھر بھی ہم باز نہیں آتے۔ تیز رفتاری افتاد طبع کی وجہ سے کی جاتی ہے۔ اس کا گہرا تعلق انسانی نفسیات سے ہے۔ کچھ لوگ دوسروں کو نیچے دکھانے اور اپنی مہارت کا لوہا منوانے کے لئے گاڑی، بس اور ٹرک کی ریس لگاتے ہیں اور پھر اپنی گاڑی کو روڈ کی بیچ کی پٹی یا درخت سے ٹکرا دیتے ہیں۔ جب گاڑی تیز دوڑ رہی ہو تو اچانک بریکیں بھی کام نہیں آتیں اور پھر خوفناک حادثہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ تیزی، پھرتی اور جلد بازی بڑے نقصان کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان کے اندر تیز مزاجی اور تیز طراری بھی کسی طور ٹھیک نہیں ہوتی۔ تنک مزاج اور تیز طرار انسان ہمیشہ دوسروں سے لڑتا جھگڑتا رہتا پے۔ انہیں روکا نہ جائے تو وہ بھی تیز گام اور تیز رو کی طرح سبک خرام دوڑتے چلے جاتے ہیں۔
عمومآ دیکھنے میں آتا ہے کہ انسانی ذہن تیزی، کو پسند کرتا ہے۔ حالانکہ تیزی کے کاموں میں خیر کا معاملہ کم ہی ہوتا ہے۔ دیکھی پانی کا بہاؤ تیز ہو تو کچے پکے مکانوں کو ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ آندھی طوفان تیز ترین ہو تو چھتوں پہ لگے سولر پینلز اور پانی کی ٹنکیاں اڑا کر لیجاتا ہے۔ آگ تیزی سے بھڑک رہی ہو توخرمنوں کو ذرا سی دیر میں جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ گھروں کے معمولات پر نظر ڈالی جاۓ تو ذرا غور کریں کہ چولہے کی آگ تیز کیا ہو گئی دودھ ابل ابل کر کچن کے پورے فرش پر بہہ جاتا ہے۔ پیسوں کا نقصان ہوا سو ہوا، دودھوں نہاۓ پوتوں پلے سب باورچی خانے میں جھاڑو پوچھا کرنے کھڑے ہو جاتے ہیں، ساتھ ساتھ اس مصیبت سے نجات کے لئے پڑھ پڑھ کر پھونکتے ہیں کہ ” جل تو، جلا ل تو، آئی بلا کو ٹال تو”. حالانکہ انکی اپنی تیز کاری ہی انکے لئے بلاۓ جان ہوتی ہے۔ سانچ کو آنچ نہیں، مگر یہ سچ ہے کہ پکتی ہنڈیا کے نیچے آنچ تیز چھوڑ دی جاۓ، پکتی ہنڈیا جل کے کوئلہ بن جاتی ہے اور جلنے کی بو پورے محلے، بلکہ دور دور تک پھیل جاتی ہے ، جو ایگزاسٹ فین کے ایگزاسٹ ہونے تک بھی جانے کا نام نہیں لیتی۔ اور کروآنچ تیز اور بھگتو فاقہ مستی۔ ہنڈیا میں نمک تیز ہو جاۓ تو افراد خانہ اور نمک خوار ملازم کھانا کھانے سے آنکار کر دیتے ہیں۔ کھانے میں مرچیں تیز ہوجائیں تو کھانے والوں کی آنکھ، ناک سے پانی بہنے لگتا ہے اور بازاروں سے مٹھائیوں کا کال پڑا جاتا ہے۔