انتقام سے قومیں نہیں بنتیں/انتخاب/کلثوم حفیظ
جب میں صدر منتخب ہوا، تو ایک دن میں نے اپنے محافظ دستے کے کچھ افراد سے کہا کہ وہ میرے ساتھ شہر کی گلیوں میں پیدل چلیں۔ ہم ایک معمولی ریستوران میں داخل ہوئے اور مختلف میزوں پر بیٹھ کر اپنی اپنی پسند کا کھانا منگوایا۔
اسی دوران میری نظر ایک شخص پر پڑی، جو قریب ہی بیٹھا تھا۔ میں نے اپنے محافظ سے کہا:
“جاؤ، اس شخص سے کہو کہ آ کر ہمارے ساتھ کھانا کھائے۔”
وہ آیا، میرے قریب بیٹھا، لیکن اس کے ہاتھ لرز رہے تھے، ماتھے پر پسینے کی بوندیں تھیں، اور وہ مشکل سے چمچ اٹھا پا رہا تھا۔
کھانا کھانے کے بعد جب وہ چلا گیا تو ایک محافظ نے مجھ سے کہا:
“لگتا ہے وہ شخص بیمار یا ذہنی دباؤ میں تھا۔”
میں نے نرمی سے جواب دیا:
“نہیں، وہ بیمار نہیں تھا۔ دراصل، یہ وہی شخص تھا جو میری اس قید گاہ کا محافظ تھا جہاں مجھے برسوں تنہا رکھا گیا۔ جب میں اذیت سے چیختا، اور پانی مانگتا، تو یہی شخص آ کر میرے سر پر پیشاب کرتا تھا۔ آج وہ اسی ڈر سے کانپ رہا تھا کہ کہیں میں اس کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک نہ کر بیٹھوں۔”
میں نے اسے معاف کیا، کیونکہ انتقام کی سوچ قوموں کو کھوکھلا کرتی ہے، جبکہ معافی کی سوچ قوموں کو اٹھاتی ہے۔
قومیں ظلم کا جواب ظلم سے نہیں، بلکہ عظمتِ کردار سے بنتی ہیں۔
یہ نیلسن منڈیلا کا وہ رویہ ہے جو تاریخ میں عظمت کی مثال بن گیا۔ وہ بتا گیا کہ معاف کرنا کمزوروں کا نہیں، بلکہ مضبوط کردار کے حامل انسانوں کا وصف ہے۔
انتقام سے قومیں نہیں بنتیں/انتخاب/کلثوم حفیظ
(نیلسن منڈیلا کی ڈائری سے ایک سبق آموز واقعہ)