
خاموش سپاہی/تحریر/روحی امجد جدہ
سخت گرمی کے دن تھے، سورج آگ برسا رہا تھا ،لیکن کیپٹن احمد بارڈر پر، مسلسل کئی گھنٹے سے گشت پر تھا ۔
وہ اپنے کام میں مگن رہنے والا ایک خاموش طبع نوجوان اور بے حد ذہین لڑکا تھا۔ اس کا تعلق لاہور کے ایک متوسط گھرانے سے تھا ۔وہ اپنے ملک کی کئی زبانیں بڑی مہارت سے بول سکتا تھا۔
سن 2020 میں جب ملک وبا اور سیکیورٹی بحران کی زد میں تھا، اس وقت وہ اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کر رہا تھا۔
اس وقت اس نے فوج جوائن کر لی۔
اس کا کہنا تھا کہ،” اگر ہم محفوظ ہی نہ رہے تو صحت کس کام کی”
کیپٹن احمد ان افسران میں سے تھا، جو بغیر کوئی شور شرابہ کیے، اپنا کام کرتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا کی نظروں سے دور کسی خود نمائی کی تمنا
کے بغیر ،کارنامے سر انجام دینے والا، ایک خاموش سپاہی تھا ۔
وطن کی محبت اس کے خون میں شامل تھی۔ اس کے دادا، سن 1965 کی جنگ کے ہیرو تھے۔ اس جنگ میں انہوں نے بہادری کے کئی کارنامے سرانجام دیے تھے۔
اس کے والد بھی کارگل کی جنگ میں شہادت کا رتبہ پا چکے تھے ۔
اس کا کمرہ آج بھی ان دونوں کے تمغوں سے سجا ہوا تھا جواسے یاد دلاتے تھے کہ وہ کس نسب سے تعلق رکھتا ہے۔
ایک دن فوج کو خفیہ اطلاع ملی کہ دشمن نے ایک نئی قسم کا بائیولوجیکل ہتھیار تیار کیا ہے اور وہ سرحدی علاقوں میں اس وائرس کو پھیلا رہا ہے ۔
فوج نے فوری طور پر ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جس میں احمد کو ،ایک سیکیورٹی افیسر اور تربیت یافتہ میڈیکل ماہر کے طور پر شامل کیا گیا۔
سرحدی گاؤں میں اپنی ٹیم کے ہمراہ پہنچ کر احمد نے، مختلف جگہوں سے کھانے پینے کی چیزوں کے اور پانی کے نمونے حاصل کیے ۔
لوگوں کو مقامی زبان میں وائرس کے خطرات سے آگاہ کیا ۔ تمام حالات کا تفصیلی جائزہ لے کر فوج کو بروقت رپورٹ پہنچائی۔
اینٹی وائرس بنانے کے لیے,
اس نے ٹیم کے ساتھ،دن رات کام کیا اور علاج کے لیے، اینٹی وائرس
ڈوز لگوانے کے لیے گاؤں گاؤں جا کر، لوگوں کو بڑی محبت سے قائل کیا اور لوگوں کو علاج فراہم کیا۔
فوج کی اس بروقت کارروائی کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کی جانوں کی حفاظت ہوئی۔
مشن مکمل کر کے خاموشی سے عام سپاہیوں کی طرح اس نے اپنی وردی پہنی اور مورچوں پر اپنی ڈیوٹی کے لئےپہنچ گیا اس کے دل میں کسی واہ واہ اور شہرت کی طلب نہ تھی۔ صرف اور صرف وطن کی محبت اور اخلاص تھا۔
چھٹیوں پر جب وہ اپنے گھر گیا تو ماں نے اسے گلے لگایا، ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا ،
” بیٹا تو نے ہمارے ساتھ ساتھ پورے وطن کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے.”
احمد مسکرادیا اور کہا،
” یہ تو میرا فرض تھا۔” وہ ایک خاموش سپاہی تھا وطن کی خاطر محبت کا اظہار اپنے لفظوں سے نہیں، بلکہ اپنے عمل سے کرنے والا۔
اس کی زندگی کا مقصد تھا ۔
خدمت
خاموشی
اور خلوص
ایسے خاموش سپاہیوں کی کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی وہ آج بھی بارڈر پر ہیں ۔شہر کی چکا چوند روشنیوں ،کیمروں اور شہرت سے دور سبز ہلالی پرچم کی حفاظت کے لیے، وہ اپنی جان لڑانے کو ہر لمحہ تیار رہتے ہیں۔
جن کے الرٹ رہنے کی وجہ سے پوری قوم سکون سے سوسکتی ہے۔
ہر گھڑی تیار کامران ہیں ہم
جیسے ہوں حالات شادمان ہیں ہم
ہر طرح کے مرحلے عبور کریں گے
مادر وطن کو مثل نور کریں گے
اپنے ملک و قوم کے نگہبان ہیں ہم
پاکستانی فوج کے جوان ہیں ہم
خاموش سپاہیوں
زندہ باد
پاکستان پائندہ باد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔