
ایک ماں اور اس کے بیٹے کے
درمیان گفتگو :
ماں:
میں موت سے لڑی جب میں تمہیں جنم دے رہی تھی ۔ جب میرے بچے تم بیمار اور روتے تھے تو میں نہیں سو پاتی تھی. میں نے پہلے تمھیں کھلائے بغیر کبھی نہیں کھایا۔ میں نے تم کو اس مرحلے پر لانے کے لیے بہت تکلیفیں اٹھائیں جہاں آج تم ہوں ۔ میرے بیٹے تم مجھے میرا حق کیسے ادا کرو گے؟
بیٹا:
جب میں بڑا ہو جاؤں گا تو ایک اچھی نوکری تلاش کروں گا اور آپ کے لیے بہت سارے پیسے کماؤں گا تاکہ آپ اس دنیا کی لذتوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔
ماں:
آپ کے والد پہلے ہی یہ کام کر رہے ہیں اور مجھے آپ سے یہ چاہت نہیں ۔ جب تک تم کماؤ گے میں بوڑھی ہو جاؤں گی اور دنیاوی آسائشوں کی محتاج نہیں رہوں گی.
بیٹا:
میں ایک پاکباز خاتون کو ڈھونڈ کر اس سے شادی کروں گا تاکہ وہ آپ کے لیے کھانا پکائے اور آپ کی دیکھ بھال کرے۔
ماں:
یہ اس کا فرض نہیں ہے میرے بیٹے اور نہ ہی تمہیں اس وجہ سے شادی کرنی چاہیے۔
اس پر لازم نہیں ہے کہ وہ میری کوئی خدمت کرے ، نہ ہی میں اس سے یہ توقع رکھتی ہوں۔
جب آپ زندگی کے اس سفر سے گزرتے ہیں تو آپ کی شادی آپ کے لیے ایک ساتھی اور آپ کے لیے آرام دہ ہونی چاہیے۔
بیٹا:
مجھے بتاؤ ماں پھر میں تمھارا حق کیسے ادا کروں؟
ماں:
( آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ) مجھ سے اکثر ملنے آنا
یا کال کرنا۔
ایک ماں کو صرف اسکی ضرورت ہے جب کہ تک وہ زندہ ہے۔
پھر جب میں مر جاؤں تو مجھے اپنا کندھا دو…. اور مجھے دفن کرو۔
جب بھی نماز پڑھو ، میرے لیے دعا کرو۔…. میرے لیے صدقہ دینا۔
یاد رکھو…..
تمہارا ہر نیک عمل مجھے آخرت میں فائدہ پہنچائے گا اس لیے ہمیشہ اچھے اور مہربان رہو۔
اللہ رب العزت اور اپنے اردگرد کے تمام لوگوں کے حقوق کو پورا کرنا۔
نیند نہ آنے والی راتیں اور تکلیفیں جو میں نے تم کو اٹھانے کے لیے اٹھائی تھیں وہ تم پر احسان نہیں تھا بلکہ میرے خالق کے لیے تھا۔
اس نے تمھیں مجھے ایک خوبصورت تحفہ کے طور پر اور میرے لیے اس کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا۔
تمھارا ہر نیک کام میری ادائیگی بن جاۓ گا.
کیا تم یہ کرو گے میرے بیٹے؟
بیٹا:
(بول نہیں پاتا اور اس کی آنکھوں میں آنسو ہیں).
ہم سب ان میں سے ہوں جو ہمارے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور ان کی پاکیزگی کا ذریعہ ہیں۔
“کہو میرا رب ان پر رحم کرے جیسا کہ انہوں نے مجھے بچپن میں پالا…
” امین”