سیرة النبى اور انسانی حقوق/تحریر/ام عمر کراچی
قرآن مجید اور سیرت النبی دونوں کی تعلیمات ہمیں ’’حقوق اللہ اور حقوق العباد‘‘ دونوں سے واقفیت دیتی ہیں- جبکہ انسان کا دیا فلسفہ صرف ’’انسانی حقوق‘‘ کی بات کرتا ہے، خدا کے حقوق کی بات نہیں کرتا- ان کے ہاں خدا کے وجود کی کوئی اہمیت نہیں- جب کہ دین اسلام کے نزدیک الله ہی حقیقت ہے اس لئے پہلا حق بھی اللہ کا اور پھر انسانوں کے حقوق ہیں۔
جب ہم قرآن کو دیکھتے ہیں تؤ:
اللہ سبحانہ وتعالیٰ سورۃ الماعون میں چار حقوق بیان کرتا ہے:
ایک اللہ کا, اور تین بندوں کے۔
نماز کا ذکر اللہ کے حق کی نشآن دہی ہے۔ نماز نہ پڑھنا یا سستی کرنا اللہ کی حق تلفی ہے۔
یتیم کو دھکے نہ دیتا۔ یہ بندوں کے حق کا ذکر ہے۔
مسکین اور محتاج کو کھانا کھلانا، بندوں کا حق ہے۔
’’ویمنعون الماعون‘‘ استعمال کی چیزیں ایک دوسرے کو دینا انسانی حق ہے۔
آسی طرح سورہ النساء میں آلله کآ ارشاد ہے:
اور اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور
والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو،
رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب والے پڑوسی، دور والے پڑوسی، ساتھ بیٹھے ہوئے شخص، راہ گیر اور اپنے غلام باندیوں کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ رکھو-
اس آیت کریمہ میں حقوق کے دس دائرے بیان کیے ہیں-
پہلا، اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو،
باقی نو حق بندوں کے بیان کیے ہیں:
والدین کا حق کہ ان کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آؤ، پھر
قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریبی پڑوسیوں، وہ پڑوسی جو رشتہ دار نہیں ہے ’’صاحب بالجنب‘‘ سبق کا ساتھی، سفر کا ساتھی، کمرے کا ساتھی وغیرہ، اور مسافروں اور غلاموں کے حقوق درجہ بدرجہ بیان فرمائے ہیں۔
سورۃ الاسراء میں ارشاد باری ہے:
قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرو، یہ تمہارا احسان نہیں ان کا حق ہے، مسکین اور مسافر پر خرچ کرو، یہ تمہارا احسان نہیں ہے ان کا حق ہے۔
حضور ﷺ نے بھی ہمارے لئے حقوق کا ایک عملی تصور پیش کیا۔ انسانوں کے تمام طبقات کے حقوق کو بیان کیا اور ادائیگی کا حکم دیا۔
رشتہ داروں کا حق جس میں سب پہلے سے ماں باپ کا حق ہے ۔ آس میں بھی ماں کے حق کو رسولﷺ نے برتر قرار دیا۔ حدیث مبارکہ ہے کہ: ایک شخص نے اللہ کے رسول ﷺ سے دریافت کیا: میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا : تمہاری ماں۔ یہ بات آپ ﷺ نے تین بار ارشاد فرمائی۔ چوتھی مرتبہ جب پوچھنے والے نے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہار۱ باپ۔(ابوداؤد:۵۱۳۹،ترمذی: ۱۸۹۷)
ایک حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’دینے والے کا ہاتھ بلند ہوتا ہے لینے والے کے مقابلے میں۔‘‘ آدمی دے تو کس کو دے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (تمہاری ماں) (تمہارا باپ) (تمہاری بہن) (تمہارا بھائی) ۔ ’’پھرجو قریب رشتہ دار ہیں ان کو دو۔‘‘ (مسند احمد: ۷۱۰۵،۱۶۶۱۳)ض
حضور ﷺ حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد خود بھی ادا فرمائے اور ایمان والوں کو بھی ان کے ادا کرنے کی تلقین فرماتے۔
جب آپﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی تو اُم المُومنین خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کی صفات عالیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا! ’’بے شک آپ ﷺ صلہ رحمی کرتے ہیں، کمزوروں، یتیموں اور غریبوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، ناداروں کے لیے کماتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور راہِ حق میں پیش آنے والی مشکلات میں مدد کرتے ہیں‘‘ (صحیح البخاری)
حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی فرق نہیں ہے، بلکہ بعض مرتبہ حقوق العباد کا درجہ حقوق اللہ سے بڑھ جاتا ہے۔ اس کی تائید ایک حدیث سے ہوتی ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
’’بارگاہِ الٰہی میں تین طرح کے رجسٹر ہوں گے۔
جو قیامت کے دن ہر شخص کے سامنے پیش کیے جائیں گے- پہلا رجسٹر وہ ہوگا جس میں یہ درج ہوگا کہ آدمی نے شرک کیاہے کہ نہیں؟ اگر کسی نے شرک کیا ہوگا تو اس نے چاہے کتنے ہی اچھے اعمال کیے ہوں، اللہ تعالیٰ اسے کسی صورت میں معاف نہیں کرے گا۔ دوسرا رجسٹر وہ ہوگا جس میں بندے نے اللہ تعالیٰ کے حقوق میں جو کوتاہی کی ہوگی اس کا اندراج ہوگا۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا اپنی شانِ کریمی سے معاف کردے گا۔وہ بڑا رحیم و کریم ہے، بڑا معاف کرنے والا ہے۔ تیسرا رجسٹر انسانوں کے آپسی حقوق کا ہوگا۔ کسی نے کسی شخص کا مال غصب کیاہوگا ، کسی نے کسی پر ظلم ڈھایا ہوگا ، کسی نے کسی کو گالی دی ہوگی۔ حدیث میں صراحت ہے کہ جب تک متعلقہ فرد معاف نہ کردے، اللہ تعالی کبھی اس کو معاف نہیں کرے گا ۔
(مسند احمد:۲۶۰۳۱)
اللہ کے رسول ﷺ نے جب لوگوں کے حقوق بیان کیے تو خاص طور سے معاشرے کے کمزور طبقات کے حقوق پر آپ ﷺ نے زیادہ زور دیا اور ان کی ادائیگی کی تاکید کی۔
آپ ﷺ کے یہ ارشادات خطبۂ حجۃ الوداع کے موقع پر بھی بیان کیے۔ اس زمانے میں جو کمزور طبقات تھے ان میں خاص طور سے عورت تھی۔ عورت چاہے ماں ہو یا بہن ہو یا بیوی ہویا بیٹی عرب معاشرے میں عورت کو کسی بھی لحاظ سے بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں تھے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اس کے حقوق کی تاکید کی اور عورت کے بحیثیت عورت کے حقوق بیان کیے۔ آپ ﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع میں ارشاد فرمایا:
’’ عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔‘‘
۔(ابن ماجہ)
دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’عورتوں کے حقوق کے سلسلے میں اللہ سے ڈرو۔‘‘
(مسلم)
عورتوں کے حقوق کی پامالی کے سلسلے میں اللہ سے ڈرنے کی بات کہی گئی ہے اس لیے کہ جب ایک انسان کسی انسان کو اس کا حق دیتا ہو وہ دراصل اللہ کا حق ہوتا ہے، جس کی ادائیگی وہ کرتا ہے۔اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ کسی انسان کے حق کی ادائیگی درحقیقت اللہ کے تعالیٰ کے حق کی ادائیگی ہے۔
۔نجی زندگی کا تحفظ بھی انسانی حقوق میں شامل ہے۔ فرد کو اپنی نجی زندگی یعنی گھر کی چار دیواری کے اندر کی زندگی کا تحفظ حاصل ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ کسی کے گھر جاؤ تو اجازت لیے بغیر گھر میں مت داخل ہو۔ رسول اللہﷺ ایک صحابی رضی ﷲ عنہ کے گھر تشریف لے گئے، آپ ﷺ نے تین دفعہ السلام علیکم کہا لیکن اندر سے کوئی جواب نہ آیا تو حضور ﷺ واپسی کے لیے پلٹے ہی تھے کہ اندر سے وہی صحابی دوڑتے دوڑتے آئے۔ رسول اللہﷺ نے پوچھا کہ بھئی آپ نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا، صحابی نے جواب دیا کہ یا رسول اللہﷺ ! میں نے تینوں دفعہ جواب دیا لیکن آہستہ دیا اس لیے کہ آپ ﷺ کی زبانِ مبارک سے بار بار سلام سننے کو جی چاہتا تھا۔ یہ اجازت مانگنا دوسروں کے گھر کی نجی زندگی کا تحفظ ہے۔
ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور پوچھا، یا رسول اللہﷺ! میں اپنی ماں کے گھر جاؤں تو اس سے بھی اجازت مانگوں؟ فرمایا، ہاں اس سے بھی اجازت مانگو۔ پوچھا، یا رسول اللہﷺ ! میری ماں الگ گھر میں رہتی ہے کیا میں اس سے بھی اجازت مانگو؟ اپ ﷺ نے پھر فرمایا، ہاں اس سے بھی اجازت مانگ کر اندر جاؤ۔ اس نے پھر تیسری بار پوچھا، یا رسول اللہﷺ ! مجھے بار بار جانا پڑتا ہے۔ حضور ﷺ نے اس پر کہا کہ اگر تمہاری ماں کسی نا مناسب حالت میں ہو تو کیا تم دیکھنا پسند کرو گے؟ اس نے کہا، نہیں۔ فرمایا، پھر اجازت لے کر جاؤ۔ یہ ایک گھر کی نجی زندگی کا تحفظ ہے۔
انسانی حقوق کا تصور سب سے پہلے اسلام نے دیا ہے جبکہ آج کی مغربی دنیا اس کے چودہ سو سال بعد انسانی حقوق سے آشنا ہوئی ہے۔ رائے کی آزادی ہو، جان کا تحفظ ہو، مال کا تحفظ ہو، آبرو کا تحفظ ہو، گھریلو زندگی کا تحفظ ہو، عورتوں کے حقوق ہوں، غلاموں کے حقوق ہوں، رشتہ داروں کے حقوق ہوں، اپنا حق مانگنے کا شعور ہو، یہ معاملات نبی ﷺ نے امت کو بتائے ہیں لیکن آج کے دور کا انسان اپنی تمام ترقی اور دعوں کے باوجود اس مقام کو حاصل نہیں کر سکا جس کا عملی نقشہ حضرات خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں صحابہ کرامؓ نے پیش کیا تھا۔ اسلام کو سمجھنے کے لیے خلفائے راشدین کے دور کو سمجھنا ضروری ہے کہ وہی دور ہے اور وہی مثالی اجتماعی معاشرہ ہے جس کی بنیاد حقوق اللہ اور حقوق العباد پر رکھی گئی۔ دین اسلام نے حقوق اللہ اور حقوق العباد میں توازن قائم کیا ہے۔
آج دنیا میں انسانی حقوق کے بارے میں باتیں کرتی ہے۔ دنیا کے تمام ذرائع ابلاغ اصحابِ علم و دانش اس موضوع پر بحث ومباحثہ کرتے نظر اتے ہیں کہ دنیا میں انسانوں کو کیا حقوق حاصل ہونے چاہئیں ، اور کن حقوق سے وہ محروم ہیں۔
انسانی حقوق کے تصور کی عملی شکل نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں میں ملتی ہے۔ معاشرے میں انسانی حقوق کے احترام اور تحفظ کا جو عملی نمونہ جناب رسول اللہﷺ اور حضراتِ خلفائے راشدین نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، دنیا کا کوئی اور نظام اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔
سیرة النبى اور انسانی حقوق/تحریر/ام عمر کراچی
سرکار دو عالم ﷺ! نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا!/تحریر/اعجاز خاں میو آف پسرور