حادثہ میں چھپی حکمت
تحریر/ ام عبدالرحمن
زندگی کئی بار ایسے موڑ پر لے آتی ہے جہاں قدم تو تھم جاتے ہیں، مگر سیکھنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں ایسا ہی ایک لمحہ ثریا بیگم کی زندگی میں آیا، جس نے تکلیف کے ساتھ دو انمول سبق سکھا دیے۔
شام کا وقت تھا، دھیرے دھیرے کمرے میں ہلکی سنہری روشنی پھیل رہی تھی۔ ہلکی ہوا چل رہی تھی، باہر سے بچوں کے کھیل کود اور ہنسی کی آوازیں آ رہی تھیں۔ سب کچھ ایک عام پرسکون شام کی طرح لگ رہا تھا۔ ثریا بیگم صوفے پر بیٹھی تھیں، ایک کپ چائے کے ساتھ، دل ہی دل میں خوشی محسوس کر رہی تھیں کہ کل سے چند دن بیمار بہن کے پاس گزاریں گی، اس کی خدمت بھی کریں گی اور دل کا سکون بھی پائیں گی۔
لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب انسان سکون کے لمحوں میں ڈوبا ہوتا ہے تو زندگی اچانک کسی ان دیکھی آزمائش سے آشنا کرا دیتی ہے۔
شام کے بعد، باورچی خانے میں کام کرنے کے دوران ایک شیشے کا گلاس اچانک ثریا بیگم کے پاؤں پر گر گیا — اور ایسی چوٹ دے گیا کہ ڈاکٹر سے “رفو کاری” کروا کر مرہم پٹی کروانی پڑی۔ یوں ثریا بیگم خدمت گزار بننے کی بجائے خود بیمار بن گئیں — اب وہ کسی کی کیا خدمت کرتیں، انہیں تو خود کسی خدمت گزار کی حاجت آن پڑی.
چھوٹے چھوٹے قدم بھی اٹھانا مشکل ہو رہے تھے۔ کبھی چھڑی، کبھی واکر کے سہارے چلتی۔ روزمرہ کے معمولات میں چھوٹی چھوٹی رکاوٹیں انہیں یہ یاد دلا رہی تھیں کہ صحت اور آسانی کی زندگی کتنی قیمتی ہوتی ہے۔ دوسری طرف یہ احساس بھی دل میں گھل رہا تھا کہ محتاجی ۔۔۔۔ چاہے صحت کی ہو یا بڑھاپے کی ۔۔۔ اللہ کسی کے نصیب میں نہ فرمائے۔
یہ حادثہ چھوٹا تھا مگر اس نے دو بڑی حقیقتیں ثریا بیگم کو سکھا دیں — جو شاید صحت و آسانی کے دنوں میں وہ کبھی سمجھ یا سیکھ نہ پاتیں۔
پہلی حقیقت: بیمار، اپنی بیماری سے کم اور خدمت گزاروں کے رویے سے زیادہ گھلتا ہے۔ اکثر خدمت کرتے وقت، جانے انجانے میں ایسا رویہ اختیار کیا جاتا ہے کہ یہ خدمت مریض پر بوجھ محسوس کراتی ہے۔ ایسے رویے سے مریض گھٹن اور بے بسی کا شکار ہو جاتا ہے اور مریض میں چڑچڑا پن یا بیزاری پیدا ہو جاتی ہے۔ خدمت واقعی خالص ہو، تو اس میں صرف محبت، خلوص اور خاموشی ہونی چاہیے — بوجھ یا بد دلی کا احساس ہرگز نہیں۔
دوسری حقیقت: محض جسمانی خدمت کافی نہیں۔ بیمار کی چھوٹی بڑی ذمہ داریاں بھی خوش دلی سے سنبھالنی چاہییں۔ اس سے مریض کو ذہنی سکون ملتا ہے اور خدمت گزار خود بھی مریض کے مزاج کی سختیوں سے محفوظ رہتا ہے۔ یعنی خدمت صرف مشقت کا نام نہیں۔۔۔۔ بلکہ جذبات کا بوجھ بانٹنے کا نام بھی ہے، اور یہی اصل نیکی ہے۔
یہ حادثہ تھا یا حکمت سے بھرا ایک تربیتی کورس؟ فیصلہ تو مشکل ہے… مگر ثریا بیگم نے جو سیکھا، وہ انمول تھا۔ شاید اللہ تعالیٰ اسی کے ذریعے صبر، برداشت، خدمت اور خلوص کا ایک نیا سبق سکھانا چاہتے تھے۔ ایسے لمحات انسان کو اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتے ہیں — اور جو سبق دل میں اُتر جائیں، وہی اصل دولت ہوتے ہیں۔
خدمت کا اصل حسن رویے اور نیت میں ہے۔ مریض کو سکون دینا، اس کے جذبات کا خیال رکھنا اور بوجھ بانٹنا سب سے بڑی نیکی ہے۔۔۔۔اور اگر کوئی عملی زندگی میں یہ اصول برتنا چاہے، تو یہ اتنا مشکل بھی نہیں۔ مثال کے طور پر:
* اگر کسی کے گھر میں بزرگ یا بیمار ہوں تو اُن کے سامنے ہمیشہ خوش روی اور نرم لہجہ رکھیں۔
* ان کے چھوٹے چھوٹے کام، جو وہ سر انجام دے رہے تھے، اپنے ذمے لے لیں۔
* خدمت کے دوران یہ جتائیں کہ یہ سب محبت کی وجہ سے ہے، نہ کہ احسان یا بوجھ سمجھ کر۔
خلوص سے اٹھائے گئے یہی چھوٹے چھوٹے قدم انسان کو نیکی کے اُس مقام تک پہنچا دیتے ہیں جہاں دل اور دعائیں یکجا ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَأَحْسِنُوا ۛ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
(القرآن، سورۃ البقرہ 2:195)
‘اور اچھا برتاؤ کرو، بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔'”
حادثہ میں چھپی حکمت تحریر/ ام عبدالرحمن