معاشرے میں استاد کا مقام اور کردار/تحریر/محمد شہزاد بھٹی
ہر سال 5 اکتوبر کو پوری دنیا میں اساتذہ کا عالمی دن منایا جاتا ہے، کسی بھی مذہب معاشرے میں استاد کا بہت اہم کردار ہوتا ہے جبکہ ملک کی تعمیر و ترقی میں استاد کے کردار سے کسی صورت انکار ممکن نہیں۔ اسلامی تعلیمات میں بھی استاد کو والد کے برابر درجہ دیا گیا ہے جو قومیں استاد کا احترام نہیں کرتیں وہ کبھی ترقی کے منازل طے نہیں کر سکتیں۔ استاد ہی انسان کا ایک ایسا روحانی پیشوا ہے کہ جس کی رہنمائی کی بدولت ہی انسان زندگی میں اعلی مقام حاصل کرتا ہے اور استاد کے علم کے حوالے سے فراہم کردہ خدمات کی وجہ سے انسانی معاشرتی حیوانیت سے بالاتر ہو کر انسانیت کے روپ میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ 5 اکتوبر 1994 سے لیکر اب تک ٹیچرز ڈے یعنی اساتذہ کا عالمی دن ہر سال بڑے جوش و جذبے اور عقیدت سے منایا جاتا ہے یہ بھی ایک خوشی کی بات ہے کہ کم از کم کوئی ایک دن تو استاد کے ادب و احترام کے لیے مخصوص ہے۔ یاد رہے، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ 365 دنوں میں سے باقی 364 دن پاکستان میں استاد کی کوئی خاص عزت نہیں ہوتی، استاد بسوں میں دھکے کھاتے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں جاتے ہیں اور طلباء بڑی بڑی گاڑیوں میں سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں آتے ہیں۔ استاد صرف اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں یا مدرسوں میں ہی نہیں پائے جائے بلکہ ہر شعبے میں الگ الگ استاد ہوتے ہیں۔ استاد ہی وہ چراغ ہے جو جلتا ہے تو ہزاروں قندیلیں روشن ہوتی ہیں جو جہالت کی تاریکیوں کو علم کے نور سے روشن کرتا ہے جو انسان کو زمین سے آسمان تک پہنچا دیتا ہے۔ بلاشبہ، کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کی علمی استعداد کار میں ہی چھپا ہے۔ یاد رکھیں، تعلیم کا میدان ہو یا ہنر کا میدان دونوں میں ہی اساتذہ کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے۔ بدقسمتی سے ہم تو اس راز کو سمجھ ہی نا پائے لیکن اہل مغرب نے استاد کی اہمیت کو خوب جانا اور دل سے مانا ہے۔ اس کی ایک خوبصورت مثال مشہور دانشور اشفاق احمد نے ایک بار اپنے مشہور ٹی وی پروگرام “زاویہ” میں کچھ یوں بیان کی کہ جب میں اٹلی کے شہر روم میں مقیم تھا تو ایک بار اپنا جرمانہ بروقت ادا نہ کرنے پر مجھے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہونا پڑا۔ جب جج نے مجھ سے پوچھا کہ جرمانے کی ادائیگی میں تاخیر کیوں ہوئی؟ اس پر میں نے کہا کہ میں ایک استاد ہوں اور کچھ دنوں سے مصروف تھا اس لئے جرمانہ ادا نہیں کر پایا۔ اس سے پہلے کہ میں اپنا جملہ مکمل کرتا، جج اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا اور بآواز بلند کہنے لگا: عدالت میں ایک استاد تشریف لائے ہیں۔ یہ سنتے ہی عدالت میں موجود سب لوگ احتراماً کھڑے ہو گئے۔ اس دن مجھے معلوم ہوا کہ اس قوم کی ترقی کا راز کیا ہے۔ میں آج جو کچھ بھی ہوں اپنے اساتذہ کی بدولت ہوں، آج میں اگر یہ آرٹیکل لکھ رہا ہوں تو یہ بھی میرے اساتذہ کی محنت و تربيت کا نتیجہ ہے جن کی محنت و تربیت نے مجھے اس قابل بنایا ہے۔ میرا لکھا گیا ہر آرٹیکل میرے اساتذہ کی مجھ پر کی گئی محنت و تربيت کا ہی مرہون منت ہے۔ اللہ کریم میرے تمام اساتذہ کرام کو صحت و تندرستی والی لمبی زندگی عطا فرمائے۔ آمین
معاشرے میں استاد کا مقام اور کردار/تحریر/محمد شہزاد بھٹی