0

صبر — کی سات کرنیں / تحریر/ ام عبدالرحمن

صبر — کی سات کرنیں
تحریر/ ام عبدالرحمن

صبر ایک چھوٹا سا لفظ ہے، مگر اپنے اندر ایک بے پناہ وسعت لیے ہوئے ہے—جو سمندر کی گہرائی، آسمان کی بلندی، اور سورج کی روشنی جیسی ہے۔ اکثر ہم صبر کو صرف خاموشی سے برداشت کرنے کا نام سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں صبر ایک ایسی باطنی روشنی ہے جو انسان کے کردار، روح اور رویے کو منور کرتی ہے۔
صبر ایک خوبی ہے، مگر اس کی تین اہم جہتیں ہیں:

* وہ روشنی ہے جو سورج کی طرح رہنمائی دیتی ہے۔
* وہ بلندی ہے جو آسمان کی مانند روح کو بلند کرتی ہے۔
* وہ گہرائی ہے جو سمندر کی طرح انسان کو اندرونی طاقت عطا کرتی ہے۔
یہ تینوں جہتیں بعض اوقات آپس میں ملتی جلتی محسوس ہوتی ہیں، مگر دراصل یہ صبر کی جامعیت اور کمال کی علامت ہیں۔
آئیے، ان تین جہتوں سے ایک جہت کے ذریعے صبر کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں:
صبر — روشنی، اُمید، اور رہنمائی کا فلسفہ
صبر صرف ایک آلہ نہیں، بلکہ ایک روشنی ہے جو انسان کو اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے۔ یہ عمل نہیں، بلکہ ایک مکمل فلسفۂ حیات ہے، جو انسان کو امید، طاقت، اور رہنمائی فراہم کرتا ہے — جیسے سورج جو خود بھی روشن ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی روشنی دیتا ہے۔

صبر کی کرنیں — سورج جیسی روشنی

1. بردباری — صبر کی پہلی نرم و گرم کرن
صبر کی سب سے پہلی کرن بردباری ہے، جو ہمیں سب سے پہلے نرم مزاج بناتی ہے۔ جیسے سردیوں کی منجمد فضا میں سورج کی پہلی کرن زندگی کی حرارت جگا دیتی ہے، ویسے ہی بردبار انسان آزمائش کی گھڑی میں دوسروں کے لیے باعثِ راحت بن جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“المؤمنُ الذي يُخالِطُ الناسَ ويصبرُ على أذاهم، أعظمُ أجرًا منَ الذي لا يُخالِطُ الناسَ ولا يصبرُ على أذاهم”
“وہ مؤمن جو لوگوں کے ساتھ گھل مل کر رہتا ہے اور ان کی اذیت پر صبر کرتا ہے، اُس مؤمن سے بہتر ہے جو ان سے الگ تھلگ رہتا ہے اور اذیت پر صبر نہیں کرتا۔” (سنن ابن ماجہ)

2. تحمل و رحمت — غصے میں سکون اور دل میں نرمی کی کرن
تحمل وہ خوبی ہے جو سورج کی طرح بے آواز مگر روشن ہوتی ہے۔ یہ صبر کی وہ کرن ہے جو انسان کو غصے کے طوفان میں ضبط کا ساحل عطا کرتی ہے۔
جو شخص غصے کی شدت میں بھی خاموش رہتا ہے، وہ رحمت کا پیکر بن جاتا ہے — دوسروں پر غصہ نہیں برساتا، بلکہ سورج کی طرح محبت اور برداشت کی روشنی پھیلاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ” (بخاری)
“قوی وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے، بلکہ قوی وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔”

3. اُمید — اندھیروں میں روشنی بکھیرنے والی کرن
صبر کی سب سے خوبصورت کرن اُمید ہے،
جو دل کے تاریک اندھیروں میں روشنی کی مانند جگمگاتی ہے۔ جیسے رات کے سناٹے کے بعد سورج کی سنہری شعاعیں نمودار ہوتی ہیں، ویسے ہی یہ کرن ہر تنگی کے بعد ایک روشن صبح کی نوید سناتی ہے۔ اسی روشنی کی بدولت انسان ناامیدی کے سائے میں نہیں ڈوبتا، بلکہ یقین اور اُمید کے روشن چراغ تھامے آگے بڑھتا ہے۔

“فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا”
“یقیناً ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔”(سورۃ الشرح)

4. قناعت — محرومی میں شکر کی روشنی جگانے والی کرن
قناعت صبر کی وہ کیفیت ہے جو انسان کو کمی کے باوجود شکر گزار رکھتی ہے۔ جیسے کبھی بادلوں میں بھی سورج کی ہلکی سی روشنی ہمیں حرارت دیتی ہے، ویسے ہی قناعت انسان کے دل کو گرم رکھتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“قد أفلح من أسلم، ورزق كفافًا، وقنعه الله بما آتاه”
“کامیاب ہوا وہ شخص جو اسلام لایا، جسے روزمرہ کی ضروریات کے مطابق رزق ملا، اور اللہ نے اسے جو دیا اس پر قناعت نصیب کی۔” (صحیح مسلم)

5. سکون — اللہ پر بھروسا کرنے والے دل کی کرن
صبر صرف برداشت نہیں، بلکہ اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے دل کو اُس کے فیصلے کے سپرد کر دینا ہے۔ یہی یقین انسان کو بےچینی سے نکال کر سکون کی روشنی عطا کرتا ہے۔
جب دل مان لیتا ہے کہ “اللہ میرے ساتھ ہے”, تو وہ پرسکون ہو جاتا ہے۔
یہی یقین، صبر کی وہ نورانی کرن ہے جو دل کی گہرائی میں اُتر کر سکون بن جاتی ہے۔

“الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ”
“وہ لوگ جو ایمان لائے اور جن کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان پاتے ہیں۔
خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔”(سورۃ الرعد: 28)

6. استقامت — مسلسل آگے بڑھنے کی حوصلہ افزا کرن
صبر کی یہ کرن انسان کو **ٹھہراؤ، استقلال، اور ہمت** عطا کرتی ہے۔ جیسے سورج ہر صبح نئی روشنی کے ساتھ طلوع ہوتا ہے، ویسے ہی صبر کرنے والا ہر دن ثابت قدمی، ہمت اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ وہ گر کر بھی اٹھتا ہے، تھکتا نہیں، اور پیچھے نہیں ہٹتا۔
“فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ”
“پس قائم رہو، جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا۔”(سورہ ہود: 112)
استقامت دراصل وہ روحانی روشنی ہے جو انسان کو اندھیروں میں بھی واضح سمت عطا کرتی ہے۔ یہ روشنی وقتی نہیں، بلکہ مسلسل ہے ۔

7. معافی — دلوں کو جوڑنے اور خود کو آزاد کرنے والی کرن
صبر کی سب سے لطیف، نرم اور روشن کرن معافی ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو جلائے نہیں، بلکہ زخمی دلوں کو جوڑ دے، ٹوٹے رشتوں کو سنوار دے، اور غلطیوں کی سیاہی کو مٹا کر زندگی کو نئے سرے سے جینے کا موقع عطا کرے۔
معاف کرنا صرف دوسروں کو آزاد کرنا نہیں، بلکہ خود کو بھی بوجھ سے آزاد کرنا ہے۔ یہ صبر کا وہ جمالیاتی اظہار اور ایک دل سے روشنی دینے والی کرن ہے، جو دوسروں کی اندھیریوں کو مٹا کر خود کو بھی نور سے بھر دیتی ہے۔
“وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ”
“معاف کر دو اور درگزر کرو، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟”(النور: 22)

اختتامیہ:
صبر، جب سورج بن جائے، تو وہ صرف روشنی نہیں دیتا — وہ امید، برداشت، رحم اور وقار کا استعارہ بن جاتا ہے
رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ
ترجمہ:
اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے (یعنی خوب صبر عطا فرما) اور ہمیں حالتِ اسلام میں وفات دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں