29

سال 2024 میں کون کون سی اہم شخصیات دنیا چھوڑ کر چلی گئی؟/تحریر/حافظ بلال بشیر

دسمبر کا آغاز دکھ اور جدائی کی یادیں تازہ کر دیتا ہے، جب ہم ان ہستیوں کو یاد کرتے ہیں جو محبت اور قربانیوں کی روشنی چھوڑ کر رخصت ہو گئیں۔ 2024ء میں بچھڑنے والی ان شخصیات کا مختصر تعارف پیش ہے جنہوں نے تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔
سرتاج عزیز
وفات: 2 جنوری: پاکستان کے سابق وزیر خارجہ سرتاج عزیز 2 جنوری 2024 کو 94 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے 1952 سے 1971 تک سول سروس میں خدمات انجام دیں اور 1977 سے 1984 تک عالمی ادارہ برائے زراعت میں نائب صدر رہے۔ 1984 میں پاکستان واپس آ کر زراعت اور فوڈ سکیورٹی کے وزیر مملکت بنے، اور پھر 1990 سے 1993 تک وزیر خزانہ اور 1997 میں وزیر خارجہ کے طور پر خدمات فراہم کیں۔ 2004 میں انہوں نے بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر تعلیم کے شعبے میں قدم رکھا اور 2013 سے 2015 تک قومی سلامتی کے مشیر بھی رہے۔
ہیج گینگوب
وفات: 4 فروری: نمیبیا کے صدر ہیج گینگوب 82 سال کی عمر میں چار فروری کو دار فانی سے کوچ کر گئے۔ ہیج جینگوب نے 12 سال وزیر اعظم کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں اور 9 سال سے ملک کے صدر تھے۔
روئیداد خان
پاکستان کے سابق سینیئر بیوروکریٹ، 21 اپریل کو 101 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ خیبرپختونخوا کے شہر مردان میں پیدا ہونے والے روئیداد خان نے ایک طویل کیریئر میں چیف سیکریٹری، پاکستان ٹیلی ویژن کے مینیجنگ ڈائریکٹر، اور وزارت اطلاعات سمیت مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے پانچ صدور اور تین وزرائے اعظم کے ساتھ کام کیا، اور ان کی زندگی پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم باب رہی۔
شہزادہ بدر بن عبد المحسن
وفات: 4 مئی: معروف شاعر، ادیب، مصنف، اور نقاد، جن کی شاعری نے عربی ادب میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ عربی ادب کے معروف شاعر، ادیب، مصنف، اور نقاد شہزادہ بدر بن عبد المحسن، جنہوں نے 4 مئی کو وفات پائی، اپنی شاعری اور تحریروں کی بدولت عربی ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے۔
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی
وفات: 20 مئی: ایران کے صدر ابراہیم رئیسی، جو کہ 20 مئی کو ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں دار فانی سے کوچ کر گئے، اپنے وطن اور عوام کے لیے خدمت کا جذبہ رکھنے والے رہنما کے طور پر اپنی قوم میں یاد کیے جا رہے ہیں۔ ان کے ہمراہ وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور وزیر داخلہ احمد وحیدی بھی حادثے کا شکار ہو کر اپنے ملک کی خدمت کرتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ابراہیم رئیسی کی قیادت میں ایران نے مختلف چیلنجز کا سامنا کیا اور وہ ملک کی بہتری کے لیے سرگرم رہے۔ انہوں نے داخلی اور خارجی معاملات میں ایران کی خودمختاری اور ترقی کو ترجیح دی اور عوام کی فلاح کے لیے منصوبے پیش کیے۔
شیخ صالح الشیبی
وفات: 22 جون: شیخ صالح الشیبی، خانہ کعبہ کے معزز کلید بردار، 22 جون کو وفات پا گئے۔ ان کا خاندان صدیوں سے اس منصب پر فائز رہا، اور وہ خانہ کعبہ کی خدمت اور عقیدت کا پیکر سمجھے جاتے تھے۔
اسماعیل ہنیہ
وفات: 31 جولائی: فلسطینی رہنما اسماعیل ہنیہ کو اکتیس جولائی 2024 کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک دہشتگردانہ حملے میں شہید کردیا گیا، جس نے فلسطینی عوام اور امت مسلمہ کے لیے ایک اور سانحہ رقم کیا۔ اسماعیل ہنیہ نے اپنی زندگی فلسطینیوں کے حقوق، اسرائیل کے مظالم کے خلاف جدوجہد اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت کی حمایت میں وقف کر دی۔ انہوں نے اسرائیل کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کی، فلسطینیوں کی آزادی کے لیے عالمی سطح پر کام کیا، اور حماس کے پلیٹ فارم سے اسرائیلی جارحیت کے خلاف مزاحمت کی قیادت کی۔ ان کی شہادت نے فلسطین کی آزادی کی تحریک میں ایک خلا پیدا کیا، لیکن ان کا نظریہ اور جدوجہد فلسطینیوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اس حملے نے اسرائیل کے ظلم اور عالمی دہشتگردی کے جال کو مزید اجاگر کیا، جس کا مقصد فلسطینی قیادت کو خاموش کرانا تھا، لیکن اس سے فلسطین کی آزادی کی جدوجہد مزید مضبوط ہوئی ہے۔
ڈاکٹر شاہد صدیق
وفات: 2 اگست: ڈاکٹر شاہد صدیق، لاہور کے معروف بزنس مین اور سیاسی رہنما، 2 اگست 2024 کو لاہور میں قتل کر دئیے گئے ۔ غربت سے ایم بی بی ایس تک کا سفر طے کر کے انہوں نے اقراء میڈیکل کمپلیکس کے ذریعے کامیاب کاروبار کیا اور ارب پتی بنے۔ ان کی زندگی کا اختتام ایک المناک سانحے پر ہوا۔ اور ان کے بیٹے کو ان کی قتل کی منصوبہ بندی پہ گرفتار کر لیا گیا۔
ذاکر بلوچ
وفات: 13 اگست: ذاکر بلوچ، جو 13 اگست 2024 کو دہشت گردوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوئے، پنجگور کے ڈپٹی کمشنر تھے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ ان کی شہادت پر حکام نے افسوس کا اظہار اور قاتلوں کو گرفتار کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
مولانا انور بدخشانی
وفات: مولانا محمد انور بدخشانی 13 اگست 2024 کو انتقال کر گئے، آپ نے 40 سے زائد کتب تحریر کیں اور جامعہ بنوری ٹاؤن میں شیخ الحدیث کے طور پر خدمات انجام دیں۔ آپ کی فارسی میں ترجمہ کردہ قرآن مجید افغان عوام میں مقبول ہوئی، اور آپ کی تدریس کا اثر دنیا بھر میں پھیلا۔ آپ کی زندگی علم، سادگی اور اخلاص کا نمونہ تھی، اور ان کا علمی ورثہ امت مسلمہ کے لیے قیمتی رہے گا۔
مولانا انتظار الحق تھانوی
وفات: 25 اگست: مولانا انتظار الحق تھانوی 25 اگست 2024ء کو انتقال کر گئے۔ آپ ایک عظیم عالم دین اور سرپرست اعلیٰ متحدہ علماء پاکستان تھے۔
مولانا قاضی عبد الرشید
وفات: 28 اگست: مولانا قاضی عبد الرشید 28 اگست 2024ء کو انتقال کر گئے، آپ وفاق المدارس العربیہ پنجاب کے ناظم اور پاکستان کے معروف علماء میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نے تعلیم و تدریس اور دین اسلام کی ترویج میں اہم خدمات انجام دیں۔
مولانا عبد الرحیم چترالی
وفات: 13 ستمبر: مولانا عبد الرحیم چترالی 13 ستمبر 2024ء کو وفات پا گئے، آپ جامعہ اشرفیہ لاہور کے استاذ الحدیث اور 50 سال تک دینی علوم کے استاد رہے۔ آپ کی علمی خدمات اور تدریسی محنت نے سینکڑوں طلباء کو اسلامی علوم کی گہری بصیرت دی۔
محمد اسلم سلیمی
وفات :4 اکتوبر: محمد اسلم سلیمی، سابق نائب امیر جماعت اسلامی، 4 اکتوبر 2024 کو انتقال کر گئے۔ وہ ایک معروف اسلامی سکالر اور مولانا مودودی کے قریبی دوست تھے۔
الٰہی بخش سومرو
وفات: 10 اکتوبر: الہٰی بخش سومرو سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پاکستان کے سینئر سیاستدان، جن کی عمر انتقال کے وقت 98 برس تھی۔ وہ شکار پور میں پیدا ہوئے اور جنرل ضیاء الحق کے دور میں وفاقی وزیر بنے تھے۔ دس اکتوبر کو انتقال کر گئے۔
رتن ٹاٹا
وفات : 10 اکتوبر: بھارت کے بزنس ٹائیکون رتن ٹاٹا 10 اکتوبر 2024ء کو انتقال کر گئے، آپ نے ٹاٹا گروپ کی قیادت کرتے ہوئے بھارتی صنعت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔
یحییٰ سنوار
وفات : 16 اکتوبر: یحییٰ سنوار حماس کے رہنما، اسرائیلی فوج کے حملے میں سولہ اکتوبر کو شہید ہو گئے۔ سال 2024 حماس کے رہنماؤں ، مجاہدین اور عام عوام کی شہادتوں کی لمبی فہرست ہے۔ جس پہ ایک الگ اور طویل مضمون کی ضرورت ہے۔
خالد احمد
وفات: 17 نومبر : خالد احمد، پاکستان کے معروف صحافی اور محقق، 17 نومبر 2024 کو 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے کئی معتبر اداروں سے وابستگی کے دوران تحقیقی اور معروضی تجزیوں سے منفرد پہچان بنائی۔
صدیق الفاروق
مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما صدیق الفاروق 15 دسمبر 2024 کو انتقال کر گئے، آپ نے اپنی زندگی جماعت کی خدمت اور عوامی فلاح کے لیے وقف کی۔
سال 2024 دکھ اور افسوس کا سال رہا، جس میں غزہ میں صہیونی ریاست کی جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں مسلمان شہید ہوئے جب کہ اس کے علاوہ دنیا نے کئی اہم شخصیات کو بھی کھو دیا جو علم، ادب، سیاست، مذہب، سائنس، اور انسانی حقوق میں نمایاں کردار ادا کر رہی تھیں۔ ان عظیم افراد کی قربانیاں اور خدمات انسانیت کے لیے ناقابلِ فراموش ہیں، اور ان کے نقوش ہمیں عزم، استقامت اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتے ہیں۔ یہ سال ہمیں ان کے مشن کو آگے بڑھانے اور ان کی رہنمائی سے استفادہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں