ماں نے کہا ’’سو جا بیٹا، صبح امن ہوگا‘‘
صبح ہوئی تو گھر ہی ملبے میں دفن تھا
’’راکھ میں دفن انسانیت کی کہانی‘‘
65ہزار قبریں، 20ہزار شہیدبچے ‘دو سال بعد بھی غزہ جل رہا ہے
بچوں کے جسموں پر بھوک کے داغ،دنیا کے منہ پر خاموشی کا زخم، انسان مر رہا ہے مگر سیاست زندہ ہے
’’امی، میں مرنے سے پہلے روٹی دیکھنا چاہتا ہوں‘‘ایک جملہ جو پوری انسانیت کے چہرے پر طمانچہ ہے
غزہ کی راکھ سے اٹھتے دھوئیں میں دنیا کے وعدے جل چکے،اسرائیل کا نعرہ فتح، ظلم کو زوال کب ملے گا؟
ہر بم کے ساتھ ایک ماں کا دل پھٹتا ہے اور ایک بچہ ہمیشہ کیلئے سو جاتا ہے،اقوامِ متحدہ کی بے بسی سوالیہ نشان
طاقت کے سوداگر بندوقوں سے امن بیچ رہے ہیں،امن کی باتیں کرنے والے، خون کے دھبے نہیں دھو سکتے
کئی علاقے قحط کے درجے تک پہنچ چکے ، وہاں اب کھانا نہیں بلکہ خاموشی سے مرنے والوں کی قطاریں ہیں
دنیا کی آنکھوں کے سامنے ایک ایسی زمین جل رہی ہے جس پر کبھی زیتون کے باغ لہلہاتے تھے، جہاں بچوں کی ہنسی گلیوں میں گونجتی تھی اور جہاں ہر اذان امید کی نوید بن کر فضا میں بکھر جاتی تھی مگر اب وہاں دھواں ہے، چیخیں ہیں اور قبرستانوں کی وسعت ہے۔ یہ غزہ ہے ،وہ سرزمین جو پچھلے دو برس سے ایک ایسی آگ میں جل رہی ہے جس کی لپٹوں نے نہ صرف اس کے مکینوں کو بلکہ انسانیت کے ضمیر کو بھی جلا ڈالا ہے۔
7اکتوبر 2023ء کا دن تاریخ کے ان المناک دنوں میں شامل ہو چکا ہے جب اسرائیل نے فلسطین پر ایک ایسی جنگ مسلط کی جو آج دو سال بعد بھی ختم نہیں ہوئی۔ اسرائیلی بمباری نے صرف عمارتوں کو نہیں گرایا بلکہ نسلوں کو مٹا دیا۔ ہسپتال، سکول، پناہ گاہیں کچھ بھی محفوظ نہ رہا۔ غزہ کی فضا میں اب بارود کی بو رچ بس چکی ہے اور بچوں کے چہروں پر معصومیت نہیں، خوف کے سائے ہیں۔ان دو برسوں میں فلسطین کا کوئی شہر ایسا نہیں بچا جو ویرانی کی علامت نہ بن گیا ہو۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 65,000سے زائد فلسطینی اب تک مارے جا چکے ہیں۔ ان میں تقریبا 20,000بچے اور 14,000خواتین شامل ہیں۔ یہ وہ اعداد ہیں جو دنیا کے سامنے آئے مگر ان ملبوں کے نیچے دبے ہوئے وہ لوگ جنہیں کوئی گن نہیں سکا، وہ اعداد نہیں، وہ داستانیں ہیں۔ ایسی داستانیں جنہیں شاید کبھی کوئی مکمل لکھ نہ سکے۔
اقوامِ متحدہ، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور یونیسف کی رپورٹیں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ غزہ اب صرف جنگ زدہ نہیں بلکہ فاقہ زدہ علاقہ بن چکا ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں 440سے زائد افراد بھوک اور غذائی قلت کے باعث مر چکے ہیں جن میں 147بچے شامل ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر 15افراد صرف خوراک کی عدم دستیابی کی وجہ سے جان سے جا رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں بچے دم توڑ رہے ہیں، کیونکہ دودھ ختم ہو چکا ہے، ادویات ناپید ہیں اور پانی زہر بن چکا ہے۔
غزہ میں بھوک ناچ رہی ہے۔ عورتیں اپنے بچوں کو تسلی دیتی ہیں کہ ’’بیٹا، کل کچھ ملے گا‘‘ مگر کل کبھی نہیں آتا۔ وہ بچے جن کے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہئیں تھیں، وہ اب کھنڈرات میں اپنے والدین کی تصویریں تلاش کرتے ہیں۔ دنیا کے سب سے طاقتور ممالک کے ایوانوں میں بحثیں ہوتی ہیں، قراردادیں بنتی ہیں اور پھر فائلوں میں دب جاتی ہیں مگر غزہ کی سڑکوں پر لاشوں کے اوپر سے زندگی گزرنے کی کوشش کرتی ہے۔دو برس میں یہ جنگ انسانی تاریخ کی سب سے بھیانک انسانی تباہیوں میں شامل ہو چکی ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر، ہزاروں معذور اور ایک پوری نسل نفسیاتی زخموں کے ساتھ پل رہی ہے۔ WHO کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق 2025ء میں غزہ کے کئی علاقے فیمین یعنی قحط کے درجے تک پہنچ چکے ہیں۔ وہاں اب کھانا نہیں بلکہ خاموشی سے مرنے والوں کی قطاریں ہیں۔
ایسے میں امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں اسرائیل کے لیے غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’’اسرائیل کے پاس اپنی سلامتی کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا حق ہے‘‘ مگر کسی نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ کیا ایک چھوٹے بچے کے جسم پر بم گرانا بھی سلامتی کا اقدام ہے؟ کیا ایک حاملہ عورت کو ملبے میں دفن کرنا خود دفاع ہے؟ٹرمپ کے الفاظ اسرائیل کے لیے تائید کا پیغام ضرور بنے، مگر انسانیت کے لیے تازیانہ بھی۔ انہوں نے حالیہ کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ’’غزہ میں حماس کا خاتمہ اسرائیل کا حق ہے اور امریکہ اس کے ساتھ کھڑا ہے‘‘ مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ ہزاروں بے گناہ جو حماس نہیں بلکہ بھوک، خوف اور جنگ کا شکار ہیں، ان کا کیا قصور ہے؟
فلسطین بحران پر مسلم دنیا نے بالآخر ایک متفقہ آواز میں ردِعمل دیا ہے۔ گزشتہ مہینے امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں مسلم ممالک کے رہنمائوں اور وزرائے خارجہ کی ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں سعودی عرب، ترکی، مصر، قطر، پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور دیگر اسلامی ممالک کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس ملاقات میں تمام رہنمائوں نے ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے پر مشترکہ موقف اپناتے ہوئے واضح کیا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان رہنمائوں نے غزہ میں جاری خونریزی کو فوری طور پر ختم کرنے، مکمل جنگ بندی، انسانی امداد کے راستوں کے کھلنے اور اسرائیلی محاصرے کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ مسلم ممالک نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس انسانیت سوز صورتِ حال میں خاموش تماشائی نہ بنے بلکہ فعال کردار ادا کرے۔ اجلاس میں بیت المقدس کے مقدس مقامات کے تحفظ، غرب اردن میں غیر قانونی اسرائیلی بستیاں بسانے کے عمل کی مذمت اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے مشترکہ فنڈ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
رہنمائوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے قلب پر لگنے والا زخم ہے، جس کا حل انصاف، امن اور سیاسی مساوات میں پوشیدہ ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ نے اس ملاقات میں مسلم ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امن عمل میں زیادہ سرگرم کردار ادا کریں، قیدیوں کی رہائی، اسرائیلی افواج کے جزوی انخلا اور حماس کی سیاسی شمولیت کے لیے راستہ ہموار کریں۔ اس موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے ٹرمپ سے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ غزہ کی تباہی کو امن کا راستہ نہیں کہا جا سکتا، جب تک اسرائیل کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا جاتا، امن صرف ایک خواب رہے گا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب دنیا نے دیکھا کہ تمام اسلامی ممالک ایک ہی آوازمیں امن، انصاف اور فلسطین کی آزادی کے حق میں بولے ۔
ٹرمپ نے اپنے تازہ ترین امن منصوبے میں غزہ کی تباہی کے بعد ایک ایسا خاکہ پیش کیا جسے وہ’’ دی نیو مڈل ایسٹ پلان‘‘ قرار دیتے ہیں۔ اس منصوبے کے بنیادی نکات میں چند نمایاں پہلو تھے جن میں سب سے پہلے غزہ میں مکمل جنگ بندی، حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ، اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں ایک غیر عسکری انتظامی حکومت کے قیام کی تجویز شامل تھی، جسے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ مسلم ممالک کے نمائندے چلائیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے عالمی فنڈ قائم کیا جائے گا، جس میں امریکہ، خلیجی ممالک اور یورپی یونین حصہ ڈالیں گے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکہ بیت المقدس میں اسرائیلی دارالحکومت کے فیصلے پر قائم رہے گا، تاہم مسجدِ اقصی کے تقدس اور مذہبی آزادی کے احترام کو یقینی بنانے کی بات کی۔ ٹرمپ کے مطابق، اگر فلسطینی قیادت اس منصوبے کو قبول کر لے، تو وہ غزہ کی مکمل بحالی اور ریاستی درجہ دینے کے لیے تیار ہیں۔
تاہم مسلم ممالک نے اس منصوبے پر محتاط لیکن پرعزم ردعمل دیا۔ سعودی عرب، ترکی، پاکستان، قطر، مصر، اردن اور انڈونیشیا نے مشترکہ بیان میں کہا کہ امن کا کوئی بھی منصوبہ تب تک قابلِ قبول نہیں ہو سکتا جب تک وہ انصاف اور مساوات پر مبنی نہ ہو۔ انہوں نے ٹرمپ کے اس موقف کی تعریف کی کہ فلسطینی عوام کو انسانی امداد اور تعمیر نو کا حق حاصل ہے لیکن ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ حماس کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا خطرناک ہوگا کیونکہ وہ غزہ کی حقیقت کا حصہ ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے واضح الفاظ میں کہا کہ امن کے نام پر اگر مظلوم کی آواز دبائی گئی تو یہ امن نہیں بلکہ تسلیمِ ظلم ہوگا۔ پاکستان کے وزیرِاعظم نے بھی کہا کہ فلسطین کے مسئلے کا پائیدار حل صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور دو ریاستی فارمولے کے مطابق ممکن ہے۔ عرب لیگ اور او آئی سی کے رہنمائوں نے ایک بار پھر دو ٹوک انداز میں کہا کہ بیت المقدس صرف فلسطین کا دارالحکومت مانا جائے گا اور کوئی بھی منصوبہ جو اس حیثیت کو چیلنج کرے گا، مسلم دنیا کے لیے ناقابلِ قبول ہوگا۔یہ ردِعمل ایک طرح سے مسلم دنیا کی بیداری کا ثبوت بھی ہے کہ وہ اب اسرائیل اور مغربی دنیا کے دبائو کے باوجود اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں۔ غزہ کی تباہی کے ملبے سے اب جو آوازیں اٹھ رہی ہیں، وہ صرف ماتم نہیں بلکہ ایک عہد ہیں کہ فلسطین کے انصاف کے بغیر دنیا کا امن محض ایک سراب ہے۔
غزہ کی گلیوں میں اب مائیں اپنے بچوں کی قبروں پر بیٹھ کر یہ دعائیں کرتی ہیں کہ ’’اے خدا، اگر انصاف نہیں ملنا، تو ہمیں بھی اٹھا لے‘‘ان کے لیے زندگی اب صرف بوجھ بن گئی ہے۔ وہ دن جب اذان کے بعد مسجدوں سے امید کی روشنی پھیلتی تھی، اب وہاں ملبے کا ڈھیر ہے اور اذان کی آواز گولیوں کی گونج میں دب جاتی ہے۔دنیا کے طاقتور ممالک نے اسرائیل کو جدید ہتھیاروں سے لیس کر دیاہے۔ امریکی اسلحہ، یورپی امداد اور سیاسی تحفظ یہ سب ایک ایسی قوم کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں جس کے پاس نہ فوج ہے، نہ پناہ گاہ۔ صرف ایمان ہے اور وہ ایمان اب بھی زندہ ہے۔
اقوامِ متحدہ کی قراردادیں دھول چاٹ رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں تھک چکی ہیںمگر غزہ کے بچے اب بھی زمین پر اپنے نام انگلیوں سے لکھتے ہیں تاکہ دنیا کو یاد رہے کہ وہ موجود ہیں ،وہ زندہ ہیں، چاہے سانس کتنی ہی بھاری کیوں نہ ہو۔یہ جنگ صرف فلسطین کی نہیں ،یہ پوری انسانیت کی شکست ہے۔ دنیا نے اگر اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو کل تاریخ یہی کہے گی کہ ایک چھوٹے سے خطے میں انسانیت مر گئی اور باقی دنیا صرف دیکھتی رہی۔بیت المقدس کے آسمان پر اب بھی دھواں ہے، مگر اس دھوئیں میں امید کے ذرات باقی ہیں۔ ہر وہ فلسطینی جو ملبے سے اپنے بچے کی تصویر نکالتا ہے، وہ دراصل یہ اعلان کر رہا ہے کہ ظلم جیت نہیں سکتا۔
پاکستان، ترکی، ایران، انڈونیشیا سمیت دیگر عرب ممالک کوکو اب صرف بیانات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ یہ وقت سفارت نہیں، ضمیر کے جاگنے کا ہے۔ دنیا کو یہ بتانے کا ہے کہ فلسطین کا دکھ صرف عربوں کا نہیں بلکہ ہر انسان کا ہے جو انصاف پر یقین رکھتا ہے۔غزہ کے بچوں کی آنکھوں میں اب روشنی نہیں، مگر ان کی خاموشی میں سوال ہے کہ اگر انسان ہی انسان کے کام نہ آئے، تو پھر خدا بھی کب تک خاموش رہے گا؟یہ جنگ صرف بموں کی نہیں، بھوک، خوف، اور بے بسی کی ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جس نے دنیا کے ہر باشعور انسان کو آئینہ دکھایا ہے اور اس آئینے میں ہم سب کے چہرے دھندلے پڑ چکے ہیں۔وقت آگیا ہے کہ دنیا فیصلہ کرے یا تو وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہے، یا انسانیت کے ساتھ۔