غزہ اور ہماری ذمہ داری/تحریر/اُم حسن
غزہ میں جاری انسانیت سوز مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ایسے میں اقوام متحدہ اور مسلم امہ کی خاموشی انتہائی قابل مذمت ہے۔
فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی مدد آج امت مسلمہ پر فرض ہو گئی ہے، لیکن امت مسلمہ ارض مقدس کی اہمیت کو سمجھے بغیر یہ فرض ادا نہیں کر سکتی۔ یہ وہی سر زمین ہے جس پر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات آسمانوں پر گئے اور جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء کی امامت کروائی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟
کرنے کے کام
1۔۔مسلمانوں میں آگاہی پیدا کرنا۔ مایوسی کو خاتم کرنا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔
2۔۔نئی نسل کو ارض مقدس کی اہمیت سمجھانا اور ذہنی طور پر جہاد کے لیے تیار کرنا۔
3۔۔اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ اور ان مسلمانوں کا بھی بائیکاٹ جو کہ اسرائیلی مصنوعات رکھتے ہیں۔
4۔۔تمام اسلامی دنیا میں امریکہ کے سفارت خانوں کا گھیراؤ کرنا۔
5۔۔عرب حکمران اگر خواب غفلت میں ہیں تو عرب نوجوانوں کو سرحدوں کی طرف پیش قدمی کرنی چاہیے۔
6۔۔مجاہدین اور غزہ کے لوگوں کو دعاؤں میں یاد رکھنا۔
ہمارا دعاؤں کا انداز بھی غلط ہے اور دعا بھی ہم صحیح طریقے سے نہیں مانگتے ہم کہتے ہیں کہ اے اللہ آپ ان لوگوں کی مدد فرما، اللہ تو ان کی مدد ہمارے ذریعے سے ہی کرے گا۔ ہمیں دعا مانگنی چاہیے کہ اے اللہ ہمیں ان کی مدد کے لیے تیار کر لے ہمارے دلوں سے دشمن کا رعب ختم فرما اور ہمیں ان کا قوت بازو بنا اور اب صرف دعاؤں کا وقت نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے بس ہم دعا کر رہے ہیں۔ اب وقت ہے عملی طور پر کچھ کر دکھانے کا اللہ آسمان سے فرشتے اتار کے ان کی مدد نہیں کرے گا۔ اللہ ہمارے ذریعے سے ہی ان کی مدد کرے گا۔ اللہ آسمان سے میزائل اور اسلحہ نہیں اترے گا ہم یہ اسلحہ ان کو فراہم کرینگے لہذا وقت ہے اپنے آپ کو تیار کرنے کا۔ اس وقت پوری امت یہ دعا مانگ رہی ہے کہ اللہ تو ان کی مدد کر دے یہ تو ایسا ہے جیسے شاعر نے کہا کہ! ”یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا۔“
کیا اب بھی ہم سوتے رہیں گے؟کیا اب بھی وقت نہیں آیا؟ کیا تب جاگیں گے جب پورا غزہ ختم ہو جائے گا؟
غزہ اور ہماری ذمہ داری/تحریر/اُم حسن
غزہ کے آنسو/آزاد نظم/شاعری/عصمت اسامہ
غزہ، مریم کا مقدس لہو/تحریر/ضیاء چترالی
غزہ میں صحافیوں کی شہادت/تحریر/محمد عزیر گل