
مریم صفت مریم اپنی جان دے گئی، مگر اپنی شہادت سے اعلان کر گئی کہ حق و صداقت کی آنکھ ہمیشہ بیدار رہتی ہے
غزہ، مریم کا مقدس لہو/تحریر/ضیاء چترالی
دنیا کی بڑی خبر رساں ایجنسی، ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) صدیوں سے سچائی کے چراغ جلاتی آئی ہے۔ اگر کسی اور ملک میں اس کے نمائندے کو یوں بے دردی سے قتل کیا جاتا تو اقوام عالم لرز اٹھتیں، عدالتیں جاگ جاتیں اور ایوانوں میں شور برپا ہوتا۔ لیکن دجالی قوت کے سامنے انسانیت کی چیخیں بھی دب جاتی ہیں۔
غزہ اے پی کی صحافی مریم ابودقہ اپنے کیمرے کی آنکھ سے حقیقت رقم کر رہی تھی، آج وہ خود غزہ کی تاریخ کے صفحات پر ایک لازوال حقیقت بن گئی ہے۔ اس کا مقدس لہو اب بھی کیمرے کے عدسے پر جما ہوا ہے، گویا گواہی دے رہا ہو کہ سچائی کبھی مر نہیں سکتی۔ مریم صفت مریم اپنی جان دے گئی، مگرغزہ میں اپنی شہادت سے اعلان کر گئی کہ حق و صداقت کی آنکھ ہمیشہ بیدار رہتی ہے۔
مریم کا کیمرہ خاموش ہو گیا، مگرغزہ کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں اس کا لہو بول رہا ہے۔ یہ خون دنیا کو یاد دلاتا رہے گا کہ سچ کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔
خونِ شہید سے ہے خطۂ ارض کی زینت
وہ حیات کیا ہے جو ہو قوم کے کام نہ آئے