0

سالانہ پیام مصطفیٰ کانفرنس بسلسلہ شہدائے ناموس صحابہ و اہلبیت/تحریر/محمد حمزہ کھوکھر

سالانہ پیام مصطفیٰ کانفرنس بسلسلہ شہدائے ناموس صحابہ و اہلیبیت
از قلم محمد حمزہ کھوکھر

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلام دشمن لابیاں ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں بالخصوص نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے مسلمان نوجوانوں میں عقائد و نظریات سے متعلق فکری انتشار،دین سے دوری اور اسلامی تعلیمات سے روگردانی جیسے منفی رجحانات فروغ پا رہے ہیں ۔معاشرے میں پھیلتی ہوئی ان بیماریوں کی نشاندھی ،اسباب اور سدباب سے متعلق عوامی شعور کی بیداری علماء کی ذمہ داری ہے ۔لیکن سیاسی وابستگیاں اور دیگر عوامل کی وجہ سے معاشرتی تقسیم علماء کے اس فریضہ کی ادائیگی کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ ہے۔دشمنان اسلام کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ عام عوام کو دین اسلام سے دور کیا جائے۔ موجودہ دور میں بھی ملک پاکستان میں اسلام دشمن قوتیں سرگرم ہے جنکا مقصد یہ ہے کہ عام عوام کے دلوں سے اصحاب رسول و اہلبیت کی محبت کو نکالا جائے تاکہ وہ اپنے مضموم مقاصد میں کامیاب ہوسکیں یاد رکھیں اسلام کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے، اور سنت ہمیں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرامؓ کے ذریعے پہنچی ہے۔ اگر صحابہ پر طعن و تشنیع کی جائے یا ان کی عدالت و ثقاہت کو مشکوک بنایا جائے تو گویا دین کی اساس ہی ہلا دی جاتی ہے۔ اسی لیے “دفاعِ صحابہ” ہر دور میں ایک دینی و ایمانی ضرورت رہی ہے۔اسی سلسلے میں سنی علما کونسل واہ کینٹ کے زمہ داران نے مدبرانہ فیصلہ کرتے ہوئے معاشرے کے ہر فرد تک اپنی بات پہنچانے کے لئے پیام مصطفیٰ کانفرنس بسلسلہ شہدائے ناموس صحابہ و اہلبیت کانفرنس کا انعقاد کا اعلان کیا تاکہ مسلمانوں اور نوجوان نسل کی بہتر انداز میں دینی تربیت ہوسکے۔جس پر وہ بجا طور پر خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔اللہ تعالٰی اس کانفرنس کا انعقاد کرنیوالوں اور جس جس نے اسمیں تعاون کیا ان تمام کی اس محنت اور جدوجہد کو قبول فرمائے ۔اس سعی وکوشش کو دینی شعور کی بیداری ،جملہ فتنوں کے خاتمے،مسلمانوں اور ان کے نئی نسل کے دین اور ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بنائے۔
یہ صرف ایک کانفرنس ہی نہیں بلکہ یہ تجدید عہد بھی ہے ان شہدائے واہ کینٹ (مولانا شعیب ندیم شہید، مولانا حبیب الرحمن صدیقی شہید و دیگر رفقاء)کے ساتھ کہ جنھوں نے عظمت اصحاب رسول کی خاطر اپنی جان 13 ستمبر 1998 کو اسلام اباد ہائے وے پہ اپنی جان عظمت اصحاب رسول کے لئے قربان کی یقینی طور پر یہ قربانی ایک اہم حثیت رکھتی ہے۔اس کانفرنس میں مہمان خصوصی غازی اسلام مولانا اورنگزیب فاروق, ابن جرنیل مولانا معاویہ اعظم صاحب اور مناظر اسلام مولانا رب نواز جنفی ہونگے۔ اس کانفرنس کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اسمیں نا صرف دیوبندی علماء بلکہ تمام مسالک دیوبندی ،بریلوی اور اہلحدیث علماء کو دعوت دی جاتی ہے یہ 35 ویں سالانہ کانفرنس اس سال ہونے جا رہی ہے اس سے قبل یہی کانفرنس مرکزی مسجد ختم نبوت چوک میں ہوتی رہی حالات کی سختیوں، فورتھ شیڈول کی بلاجواز پابندیوں کی وجہ سے یہ کانفرنس کچھ عرصہ نہیں ہوسکی لیکن اب مقامی زمہ داران کی محنت اور مولانا اسامہ صدیقی کے خلوص کی وجہ سے یہ کانفرنس تسلسل کے ساتھ مرکزی مسجد کی بجائے بستی ختم نبوت چوک المعروف گول چوک میں 13 ستمبر بروز ہفتہ کو منعقد ہورہی ہے۔ اس لئے بستی ختم نبوت چوک میں ہم آپکے منتظر رہیں گے دعا ہے رب کریم ہمیں ایسی محافل کا حصہ بننے اور اصحاب رسول کے سیرت و کردار پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں