نام و نسب، کنیت اور لقب:
آپ کا نام و نسب یہ ہے:
عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزی بن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوئی بن غالب القرشی العدوی۔
آپ کی کنیت ابو حفص ہے۔ آپ کا لقب فاروق ہے۔ اس لیے کہ آپ نے مکہ مکرمة میں جب اسلام ظاہر کیا تو اس کے ذریعے سے اللہ نے کفر اور ایمان کے درمیان کھلی جدائی کردی۔
پیدائش اور جسمانی اوصاف:
عمر رضی اللہ عنہ عام الفیل کے تیرہ (١٣) سال بعد پیدا ہوئے۔ آپ کے جسمانی اوصاف یہ تھے کہ آپ خوب گورے چٹے، سرخی مائل رنگ کے تھے۔ دونوں رخسار ، ناک اور دونوں آنکھیں نہایت خوبصورت تھیں۔ دونوں پاوں اور ہتھیلیاں موٹی تھیں، گوشت سے بھرے ہوئے اعضاء، دراز قامت اور مضبوط جسم کے مالک تھے، سر کے آگے کے بال گرے ہوئے تھے، قدوقامت کے اتنے لمبے گویا کہ آپ گھوڑے پر سوار ہوں، سخت طاقتور تھے، کمزور اور بزدل نہ تھے، مہندی کا خضاب لگاتے تھے، مونچھیں دونوں طرف بڑھی رہتی تھیں، جب چلتے تو تیز چلتے اور جب بولتے تو تیز آواز سے بولتے اور مارتے تو کاری ضرب لگاتے۔
خاندان:
آپ کے والد خطاب بن نفیل ہیں۔ آپ کے دادا نفیل بن عبد العزی ان لوگوں میں سے تھے جن کے پاس قریش کے لوگ فیصلہ لے کر آتے تھے۔ آپ کی والدہ کا نام حنتمہ بنت ہاشم بن مغیرہ ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ ابوجہل کی بہن تھیں۔
آپ کی بیویاں جن سے آپ نے زمانہ جاہلیت یا اسلام میں شادی کی، پھر ان کو طلاق دے دی جو آپ کی عصمت میں وفات تک رہیں ان کی مجموعی تعدادسات ہے۔
آپ کی کل تیرہ اولادیں ہوئیں:
“زید اکبر، زید اصغر، عاصم ، عبداللہ، عبدالرحمن اکبر، عبدالرحمن اوسط، عبد الرحمن اصغر، عبید اللہ، عیاض، حفصہ، رقیہ، زینب اور فاطمہ رضی اللہ عنھم۔
زمانہ جاہلیت کی زندگی:
عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کا لمبا عرصہ زمانہ جاہلیت میں گزارا آپ اس اعتبار سے ممتاز تھے کہ آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے پڑھنا سیکھ لیا تھا اور ایسے لوگ تعداد میں بہت تھوڑے تھے۔ آپ نے بچپن ہی سے ذمہداری کا بوجھ اٹھایا، اور سختی وتنگی کے ماحول میں جوان ہوئے، ایسی سختی کہ عیش و عشرت اور مالداری کی علامت کو جانا ہی نہیں۔ آپ کے باپ خطاب سختی سے آپ کو چراگاہ کی طرف اونٹ چرانے کے لیے بھیجتے تھے۔ باپ کی اس سختی نے آپ کی ذات پر برا اثر چھوڑا۔
بلاشبہ اسلام لانے سے پہلے مکہ کی زندگی میں عمر رضی اللہ عنہ کے اس پیشے ( گلہ بانی) سے جڑے رہنے نے ان کو قوت تحمل و برداشت، بہادری اور سخت گیری جیسی صفات کا مالک بنادیا۔ زمانہ جاہلیت میں آپ کی پوری زندگی ایسی نہ تھی کہ صرف بکریاں چرانے میں گزری ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ تجارت میں مشغول ہوئے اور اس سے بھی خوب فائدہ اٹھایا، اسی تجارت نے ان کو مکہ کے مالداروں میں شامل کردیا۔ اور جاہلیت کی مکی زندگی میں اپنا نمایاں مقام بنالیا۔ عرب کے لوگ اپنے جھگڑوں کو ختم کرانے کے لیے آپ ہی کے پاس آتے تھے۔ آپ صاحب حکمت و دانش، بلیغ، عمدہ رائے والے، طاقتور، بردبار، شریف، دلیل میں پختہ اور گفتگو میں واضح الکلام تھے۔ آپ دل کے ایسے مخلص تھے کہ جس بات پر یقین کر لیتے اس کی طرف سے دفاع کرنے میں جان کھپا دیتے۔ یقین کی بنیاد پر دفاع کرنے والی اسی طبیعت و مزاج کی سختی کی وجہ سے عمر رضی اللہ عنہ نے اسلامی دعوت کے بالکل ابتدائی مرحلے میں اس کی جم کر مخالفت کی، لیکن جب اسلام قبول کیا، اس کی خوبی و حقیقت کو پہچان لیا، ہدایت و گمراہی، ایمان و کفر اور حق و باطل کے درمیان حقیقی فرق سے واقف ہوگئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا ارادہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام:
عمر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے عزم و یقین کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے، اور احساس کیا کہ انکا سینہ تنگ ہے۔ اس نئے دین کے ماننے والے اتنی زبردست مشکلات و مصائب کا سامنا کررہے ہیں پھر بھی وہ اس پر جمے ہوئے ہیں۔ آخر اس ناقابل تسخیر قوت کا راز کیا ہے؟ آپ غمگین ہوئے اور دل کو ایک چرکا لگا۔ اس واقعہ کے کچھ ہی دنوں بعد اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی وجہ سے آپ اسلام لے آئے، دعائے نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہی آپ کے قبول اسلام کا بنیادی سبب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تھی:
“اے اللہ ابوجہل بن ہشام اور عمر بن خطاب میں سے جو تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہو اس کے ذریعے سے اسلام کو غالب کردے”
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: “اللہ کے نزدیک ان دونوں میں سے عمر زیادہ پسندیدہ تھے”
قریش کے لوگ اکھٹے ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں مشورہ کیا، انہوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کون قتل کرے گا؟ عمر بن خطاب نے کہا: میں یہ کام کروں گا۔ وہ سخت گرمی کے دن میں، ٹھیک دوپہر کے وقت گردن میں تلوار لٹکائے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے کچھ ساتھیوں کو قتل کرنے کےلیے نکلے، قریش نے عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھی صفا پہاڑی کے نیچے دار ارقم میں جمع ہیں۔ راستہ میں نعیم بن عبد اللہ النحام رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی، تو انہوں نے کہا: اے عمر کہاں کا ارادہ ہے؟ آپ نے کہا: میں اس صابی (بد مذہب) کے پاس جارہا ہوں جس نے قریش کی جمعیت کو پارہ پارہ کردیا ہے، تاکہ اسے قتل کردوں۔ نعیم رضی اللہ عنہ نے کہا: اےعمر! تم کتنے غلط راستے پر چل رہے ہو، تمہارا کیا خیال ہے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردوگے اور عبد مناف تم کو زمین پر آزاد چھوڑ دیں گے؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا گمان ہے کہ تو بھی صابی( بدمذہب)ہوگیا ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو تجھ ہی سے شروع کروں گا۔ جب نعیم رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ وہ بازآنے والے نہیں تو کہا: میں تم کو خبر دیتا ہوں کہ تمہارے خاندان اور تمہارے بہنوئی کے گھر والے بھی مسلمان ہوچکے ہیں اور جس گمراہی پر تم ہو اس کو انہوں نے چھوڑ دیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ بات سنی تو پوچھا کہ وہ کون کون ہیں؟ انہوں نے کہا: تمہارے بہنوئی و چچیرے بھائی اور تمہاری بہن۔ عمر بن خطاب نے جب سنا کہ ان کہ بہن اور بہنوئی اسلام لے آئے ہیں تو آپ کو سخت غصہ آیا اور ان کے پاس پہنچے۔ جب گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو انہوں نے پوچھا: کون؟ آپ نے کہا: ابن خطاب۔ وہ لوگ اپنے ہاتھوں میں لیے قرآن پڑھ رہے تھے۔ جب عمر کے آنے کا احساس ہوا تو جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور قرآن کو اسی حالت میں بھول کر چھپنے لگے۔ جب آپ داخل ہوئے اور آپکی بہن نے آپ کو دیکھا تو چہرہ سے غصے کو بھانپ لیا، آپ نے کہا: ابھی مبہم اور پست آواز جو میں نے تمہارے پاس سنی یہ کون سی بات تھی۔ در حقیقت وہ لوگ سورہ” طہ” کی تلاوت کررہے تھے۔ انہوں نے کہا: ہماری آپس کی بات کے علاوہ کوئی چیز نہ تھی۔ آپ نے کہا: شاید کہ تم دونوں صابی (بدمذہب) ہوگئے ہو۔ ان کے بہنوئی نےکہا: تمہاری کیا رائے ہے اگر حق تمہارے دین کے علاوہ دوسری جگہ ہو۔ اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ اپنے بہنوئی سعید رضی اللہ عنہ پر چڑھ دوڑےاور ان کی داڑھی کو پکڑ لیا۔ عمر رضی اللہ عنہ سخت طاقتورتھے۔ آپ نے سعید رضی اللہ عنہ کو زمین پر پٹخ دیا اور خوب روندا، پھر ان کے سینے پر بیٹھ گئے۔ اتنے میں آپکی بہن آگئیں اور آپ کو اپنے شوہر سے دور کرنے لگیں۔ آپ نے ان کو تھپڑ رسیدکیا جس سے ان کا چہرہ خون آلودہوگیا۔ بہن نے غصہ کی حالت میں کہا: اے اللہ کےدشمن! کیا تو مجھے اس لیے مار رہا ہے کہ میں اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتی ہوں؟ آپ نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: جو تجھے کرنا ہےکرلے۔
اشھد ان لا الہ الا اللہ وان محمد رسول اللہ۔
تیری مرضی کے خلاف ہم اسلام لا چکے ہیں۔
جب عمر نے ان سے یہ باتیں سنیں تو شرمندہ ہوئے اور بیٹھ گئے، پھر کہا: تمہارے پاس جو صحیفہ ہے مجھے دو، میں اسے پڑھوں گا۔ آپ کی بہن نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گی۔ آپ نے کہا: تمہاری بربادی ہو! تمہاری بات نے میرے دل کو متاثر کیا ہے۔ مجھے صحیفہ دو، میں اسے دیکھ تو لوں، میں تجھے یقین دلاتا ہوں کہ اس میں خیانت نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا: تم ناپاک ہو (“اسے صرف پاک لوگ ہی چھوتے ہیں”) جاو غسل کرلو یا وضو کرلو۔ آپ غسل کرنے گئے، پھر اپنی بہن کے پاس لوٹ کر آئے۔ انہوں نے آپ کو صحیفہ دیا۔ جس میں “طہ” اور دوسری سورتیں تھیں۔ آپ نے اس میں دیکھا۔جب بسم اللہ الرحمن الرحیم پر پہنچے تو کانپ اٹھے، صحیفہ ہاتھ سے گرگیا، پھر خود کو سنبھالا اور سورة طہ کی تلاوت شروع کی۔ یہ آیتیں آپ کے دل پر بہت اثر انداز ہوئیں۔ آپ نے کہا: کیا قریش اسی سے بھاگتے ہیں؟ پھر جب اللہ کے اس فرمان تک پہنچے فلا یصدنک عنھا من لا یومن بھا واتبع ھوہ فتردی تو آپ نے کہا: جو ایسی بات کہ رہا ہو اس کے لیے یہی مناسب ہے کہ اس کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت نہ کی جائے۔ مجھے بتاو محمد کہاں ہیں؟ جب خباب رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ سنا تو گھر سے نکلے۔ وہ چھپے ہوئے تھے۔ اور کہا: اے عمر! خوش ہوجاو، آپ کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاقبول ہو چکی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی کے نیچے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار سنبھالی، گردن میں لٹکالی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی طرف چل نکلے۔ وہاں پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا، صحابہ نے دیکھا کہ عمر رضی اللہ عنہ ہیں تو خوفزہ ہوگئے۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے کہا: عمر بن خطاب ہیں،دروازہ کھول دو۔ اگر اللہ نے اس کے لیے بھلائی چاہی تو وہ اسلام لے آئے گا، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے آدمی نے عمر رضی اللہ عنہ کے دونوں بازوؤں کو پکڑ لیا،یہاں تک کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو اور کہا:
“اے خطاب کے بیٹے! تمہارا کیسے آنا ہوا؟”عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس اللہ، اس کے رسول، اور اللہ کی طرف سے آپ جو لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے آیا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا، اور صحابہ نے جان لیا کہ عمر اسلام لے آئے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اسلامی دعوت پر اثر:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مکمل خلوص و للہیت کے ساتھ اسلام میں داخل ہوئے اور پوری طاقت کے ساتھ اسلام کے استحکام کےلیے کام کیا۔اللہ تعالی نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کو قوت بخشی،آپ بہت نڈر آدمی تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا ایک فتح اور آپ کی ہجرت ایک مدد اور خلافت ایک رحمت تھی۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہجرت کاعزم کیا تو علی الاعلان ہجرت کا عزم کیا، تلوار کو گردن میں لٹکایا اور ترکش کو کندھے پر رکھا، ہاتھ میں تیر پکڑے اور لاٹھی لیکر نکل پڑے اور کہا: “چہرے برباد ہوجائیں اللہ تعالی ان کی عزت کو خاک میں ملادے گا۔ جس کی یہ خواہش ہو کہ اس کی ماں اسے گم پائے اس کی اولاد اس پر ماتم کرے یا اس کی عورت بیوہ ہو جائےتو وہ اس وادی کے پیچھے مجھ سے ملاقات کرے”۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صرف کمزوروں کی ایک جماعت ساتھ رہی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ان ساتھیوں کی بھرپور مدد کی جو ہجرت کرنا چاہتے تھے۔
قرآن کریم کی موافقت:
عمر رضی اللہ عنہ صحابہ کرام میں سب سے زیادہ دلیر اور بہادر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نامانوس عمل کو صادر ہوتا دیکھتے تو پوچھ لیتے، مکمل صداقت اور صاف گوئی کے ساتھ اپنی رائے ظاہر کرتے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائمی صحبت:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھنا لکھنا اور ابتدائی تعلیم حرب بن امیہ یعنی ابو سفیان کے والد سے حاصل کی۔ اگر چہ یقینی طور پر ہم کہ سکتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کی شخصیت نکھارنے، صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، کردار کو نمایاں کرنے اور نفس کو مہذب بنانے کا سب سے بڑا محرک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائمی صحبت اور تعلیم گاہ نبوت سے فیض یاب ہونا تھا۔ ایسا ہادی اور معلم جسے اس کے رب نے تعلیم وتربیت دی تھی۔ یہ بلند اور پاکیزہ محبت ہی تھی جس کی وجہ سے عمر رضی اللہ عنہ غزوہ بدر ، غزوہ احد اور تمام غزوات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مصاحبت اور آپ کے ساتھ کثرت گفتگو نے عمر رضی اللہ عنہ کو فصاحت و بلاغت، کلام میں روانی اور بات کرنے میں مختلف اسلوب عطا کیے۔
عمر رضی اللہ عنہ خلافت صدیقی میں:
بیشک امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فضل و منقبت میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد ہیں۔ آپ انبیاء و مرسلین اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بعد تمام انسانوں میں بلا قید و شرط سب سے افضل ہیں۔ آپ کی افضلیت کے متعلق مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہونا چاہئیے۔ اوریہی اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔ امام طبرانی نے معجم الاوسط میں حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث ان الفاظ میں نقل کی ہے:
“عمر رضی اللہ عنہ جب سے مسلمان ہوئے ( اس وقت سے وہ یعنی شیطان) جب بھی آپ سے ملا تو چہرہ پھیر کر بھاگا”۔
خلافت صدیقی میں مرتدین سے قتال ہوا اور آپ نے ان کی ہوا اکھاڑ دی۔
جنگ یمامہ میں مسلمان شہداء میں ان شہیدوں کی تعداد زیادہ تھی جو قرآن کے حافظ تھے، اس کے نتیجے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے قرآن جمع کرنے کا حکم دیا اور اسے چمڑے کے ٹکڑوں، ہڈیوں، کھجور کی شاخوں اور لوگوں کے سینوں سے لیکر یکجا کیا گیا۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اگر ابو بکر رضی اللہ عنہ مجھے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیتے تو وہ مجھ پر اتنا گراں نہ ہوتا جتنا قرآن کا جمع کرنا مجھ پر بھاری پڑا۔
خلافت کے لیے نامزدگی:
جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیماری میں اضافہ ہوگیا تو آپ نے صحابہ سے مشورہ کیا اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا: عمر بن خطاب کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انکا باطن انکے ظاہر سے اچھا ہے۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تم پر رحم کرے، قسم اللہ کی اگر میں عمر کو خلافت کےلیے نامزد نہ کرتا تو تمہیں خلافت کےلیے نامزد کرتا۔ پھر آپ نے ایک عہد نامہ لکھا جسے امرائے لشکر کے ذریعے سے مدینہ اور انصار میں پڑھ کر سنایا گیا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے امت کی بیماری کی بہترین تشخیص کرلی تھی، اس لیے آپ نے امت کےلیے بہترین اور کامیاب دوا کا انتظام کردیا۔ عمر رضی اللہ عنہ ایک بلند پہاڑ تھے کہ جب دنیا آپ کو دیکھتی مایوس ہوجاتی اور پیٹھ پھیر کر بھاگتی۔ چنانچہ جب عثمان رضی اللہ عنہ عہد نامہ پڑھ کر فارغ ہوئے تو سب اس پر راضی ہوگئے اور عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور آپ کی بیعت کی۔
عدل و مساوات:
ایک روایت میں ہے کہ منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف لائے اور کہا: ” اے اللہ! میں سخت ہوں مجھے نرم کردے، میں کمزور ہوں مجھے قوت دےدے، میں بخیل ہوں مجھے سخی بنادے”۔
منصب خلافت سنبھالنے کے بعد حکومت کا ایسا منشور سامنے آتا ہے جس سے ہٹ کر چلنے کی ادنی گنجائش بھی نہیں ہے۔ آپ کے نظام حکومت کے نمایاں خدوخال کچھ اس طرح ہیں:
١: آپ خلافت کو ایک آزمائش سمجھتے تھے کہ اس سے آپ آزمائے گئے ہیں اور یہ کہ اس کے حق کی ادائیگی کے متعلق آپ سے محاسبہ کیا جائے گا۔
٢: آپ کی نگاہ میں منصب خلافت کا یہ تقاضا ہے کہ ملکی ذمہ داریوں سے متعلق جو معاملات بھی آپ کے سامنے آئیں انہیں آپ خود حل کریں اور رعایا پر جو آپ سے دور رہیں بہترین و باصلاحیت امراء اور گورنر مقرر کریں۔
٣: عمر رضی اللہ عنہ نے عسکری ادارے کو ترقی دی اور اپنے دور میں وہ ایسا زبردست فوجی ادارہ بنا کہ پوری دنیا میں اس کی کوئی مثال نہ تھی۔
۴: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مالی محکمہ اور مالی خزانہ کو بہت ترقی دی، بیت المال کی آمدنی کے ذرائع اور ملکی مفاد میں اس کے مصارف کو نہایت منظم کیا۔
۵: آپ رضی اللہ عنہ نے خطبہ میں اس بات کی طرف آگاہ کیا کہ اس ذمہ داری کی ادائیگی کی راہ میں اللہ کے تقوی، نفس کے محاسبہ اور آخرت میں جواب دہی کے احساس کے علاوہ کوئی دوسری چیز معاون نہیں ہوسکتی۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے عدل و انصاف کا نمونہ تھے جس نے دلوں کو فتح کرلیا اور عقلیں حیرت زدہ رہ گئیں۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل پر چلتے رہے، آپ کی سیاست اس عدل پر قائم تھی جس سے تمام انسان مستفید ہورہے تھے۔ آپ حق پر مضبوطی سے قائم رہنے والے تھے۔ اللہ سے جلد ملاقات پر آپ کا ایمان اس قدر مضبوط تھا کہ ہر کام میں لوگوں کی رضامندی سے پہلے اللہ کی رضامندی کے طالب ہوتے تھے، صرف اللہ سے ڈرتے اور انسانوں میں کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔
آپ نے ایک مسلمان کے خلاف یہودی آدمی کے حق میں عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا، یہودی کے کفر نے آپ کو اس بات پر نہیں ابھارا کہ آپ اس پر ظلم کریں اور عدل سے ہٹ جائیں۔ جب تک سارے مسلمانوں کو کھانا میسر نہ ہوتا آپ خود نہیں کھاتے تھے، آپ ایک دن چھوڑ کر ایک دن روزہ رکھتے تھے۔
معاشرتی اور مذہبی آزادی:
خلفائے راشدین کی حکومتیں جن اہم اصولوں پر قائم تھیں ان میں سے ایک اصول “آزادی” کا بھی تھا۔ اس اصول کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام انسانوں کی ہر طرح کی آزادیوں کی ضمانت لی جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ذمیوں کی غلطیوں سے بہت درگزر کرتے تھے، یہاں تک کہ اگر وہ کبھی جزیہ دینے سے عاجز رہتے تو آپ انہیں معاف کردیتے۔
اسلام ہر فرد کو اظہار رائے کی آزادی کا مکمل حق دیتا ہے۔ خلفائے راشدین کے دور میں یہ آزادی محفوظ تھی، عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو موقع دیتے تھے کہ اپنی بہترین آراء بیان کریں۔ عہد فاروقی اور خلفائے راشدین کے دور میں حاکم وقت پر تنقید اور اسے نصیحت کرنے کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا: اے لوگو! تم میں کوئی بھی شخص اگر مجھ میں ٹیڑھا پن دیکھے تو اسے سیدھا کردے۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اگر ہم آپ میں ٹیڑھا پن دیکھیں گے تو اسے اپنی تلواروں سے سیدھا کریں گے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: “اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اس امت میں ایسا بھی آدمی پیدا کیا ہے جو عمر کے ٹیڑھے پن کو اپنی تلوار سے سیدھا کرے گا”۔
ہجری تاریخ کا آغاز:
ابن مسیب سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے ڈھائی سال گزر جانے کے بعد سب سے پہلے اسلامی تاریخ کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے علی بن طالب رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے محرم کی ١٦ تاریخ کو اسے مقرر کیا۔
امیر المومنین کا لقب:
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ” کہے جاتے تھے، لیکن جب آپ کی وفات ہوگئی تو مسلمانوں نے کہا:بہتر ہے کہ خلیفہ کےلیے کسی نام پر اتفاق کرلیا جائے تاکہ بعد میں آنے والے خلفاء کو بھی اسی سے پکارا جائے۔ چنانچہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے کہا: ہم” مومن” اور عمر”ہمارے امیر” کہے جائیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ “امیرالمونین” کہے جانے لگے اور آپ سب سے پہلے اس نام سے موسوم کیے گئے۔
اوصاف حمیدہ:
عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ایمان ہی نے آپ کی شخصیت کو متوازی، بارعب اور پر کشش بنادیا تھا۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ اکثر فرماتے تھے: “جہنم کو کثرت سے یاد کرو، اس کی گرمی سخت ہے، اس کی گہرائی بہت طویل ہے، اس کا ٹھکانا بہت سخت ہے۔”
قرآن کے سایہ میں زندگی گزار کر، نبی صادق و امین صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کرکے اور حیات فانی کا جائزہ لےکر آپ نے بخوبی سمجھ لیا تھا کہ دنیا ابتلاء و آزمائش کا گھر اور آخرت کی کھیتی ہے۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: “اللہ کی قسم، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہم سے ہجرت میں مقدم نہ تھے، میں جانتا ہوں کہ آپ کس چیز میں ہم سے افضل تھے، آپ ہمارے مقابلے میں سب سے زیادہ زاہد اور دنیا بیزار شخص تھے”۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ورع و تقوی کے شیدائی تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ کی تواضع اور آپ کی نگاہ میں فضلاء کا قدر واحترام نمایاں تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عزت و احترام کے بارے میں کسی فضل و سبقت کو نظر انداز نہ کرتے تھے۔
عائلی زندگی:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر والوں کو رفاہ عامہ کےلیے خاص کی گئی ملکیتوں سے استفادہ کرنے سے منع کردیا تھا۔
ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن کی خبر گیری:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ازواج مطہرات کے حالات معلوم کیا کرتے تھے۔ کوئی میوہ یا پھل کھاتے تو اس میں ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن کا حصہ ضرور لگاتے۔
خواتین کی خبر گیری:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلمان عورتوں، لڑکیوں اور ضعیف خواتین کی خصوصی دیکھ بھال کرتے تھے، انہیں انکا حق دیتے اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہیں ہونے دیتے تھے۔ جن خاندانوں کے مرد حضرات جہاد پر ہوتے انکی تمام ضروریات پر نگاہ رکھتے۔ اگر لڑکیوں کو کوئی شادی کا پیغام دیتا تو قبول و انکار سے متعلق آپ لڑکیوں ہی کی طرف داری کرتے تھے اور کہتے: “اپنی لڑکیوں کو قبیح آدمی سے شادی کرنے پر مجبور نہ کرو، کیوں کہ وہ بھی وہی پسند کرتی ہیں جو تم پسند کرتے ہو”۔
تراویح:
جس شخص نے سب سے پہلے لوگوں کو نماز تراویح کےلیے اکھٹا کیا وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ اب کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ تراویح کی ایجاد عمر رضی اللہ عنہ نے کی ہے اور آپ ہی نے سب سے پہلے اس کی بنیاد ڈالی ہے، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سےاس پر عمل ہورہا تھا۔ البتہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے تمام لوگوں کو ایک امام کے پیچھے نماز پڑھنے کی بنیاد ڈالی، اس سے پہلے لوگ الگ الگ تراویح پڑھتے تھے تو آپ نے ان کو ایک امام کے پیچھے اکھٹا کردیا۔
زکوة،حج اور رمضان:
عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے زکوة پر بھی خصوصی توجہ دی۔ آپ لوگوں کو حج کی رغبت دلاتے اور انہیں اس کا حکم دیتے۔
عمر رضی اللہ عنہ کا راتوں کو گشت:
عمر فاروق رضی اللہ عنہ بذات خود مسلمانوں کی نگرانی اور پہرہ داری کرتے تھے تاکہ بذات خود ان چیزوں کو دیکھ اور سن سکیں جنھیں بعض عمال آپ تک پہنچانے میں تردد محسوس کرتے ہیں یا حقیقی صورت حال آپ کے سامنے پیش نہیں کرپاتے۔
جانوروں سے شفقت اور رحمدلی:
جانوروں سے آپ کی شفقت اور رحمدلی صرف ایمان صادق کا نتیجہ تھی۔ آپ کا دل ذکر الہی کی وجہ سے نرم ہوچکا تھا۔ مسیب بن دارم سے روایت ہے کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ایک ساربان کو ماررہے تھے اور کہ رہے تھے:” تم نے اپنے اونٹ پر اتنا بوجھ لاددیا ہے جسے اٹھانے کی وہ طاقت نہیں رکھتا”۔
علم سے شغف:
اسلام کے شروع دور میں آپ امت مسلمہ کے فقیہ تھے۔ علمی مدارس کی تاسیس میں سب سے پہلی اینٹ آپ نے رکھی اور یہ علمی مدارس جیسے بصرہ، کوفہ اور شام کے علمی مدارس امت مسلمہ کے دلوں میں کافی موثر ثابت ہوئے۔ مدنی مدرسہ کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ دیگر شہروں کے لوگ مدینہ والوں کے علم پر بھروسہ کرتے تھے اور ہر علم و فتوی پر اسے مقدم رکھتے تھے۔
آپ ایسے تمام علوم کے سیکھنے سکھانے کا اہتمام کرتے جن کا تعلق قرآن اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو، خاص طور سے عربی زبان پر زیادہ ہی توجہ دیتے تھے۔فتوحات:
عراق کی فتح:
جب عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی تو اہل عراق سے جنگ کرنے کےلیے لوگوں کو آمادہ کیا، لیکن کوئی آگے نہ آیا۔ اس لیے کہ وہ اہل فارس کی جنگی قوت اور خونریز معرکہ آرائی کی وجہ سے ان سے جنگ کرنا نا پسند کرتے تھے۔ پھر سب سے پہلے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی آواز پر ابو عبید ثقفی کے بعد سلیط بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ نے لبیک کہا۔ اس کےبعد آپ نے مثنی بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مزید فوجوں کے ساتھ عراق جانے کا حکم دیا۔ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم سے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے شاہ فارس یزدگرد کے پاس اسلام کی دعوت دینے کےلیے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کی قیادت میں وفد بھیجا۔ انہوں نے کہا: جزیہ دو یا اسلام قبول کر کے اپنے آپ کو بچالو” ۔ لیکن یزدگرد نے کہا: “اگر قاصدوں کا قتل کرنا خلاف اصول نہ ہوتا تو میں تمہاری گردنیں اڑادیتا، جاو تمہارے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے”۔
اسکے بعد ابو عبید اور مثنی اپنا اپنا لشکر لےکر” خفان” پہنچے اور مورچہ بندی کی تیاریاں شروع کردیں۔ پھر” نمارق” کے میدان میں دونوں فوجیں صف آراء ہوئیں اور گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ اس معرکہ میں اللہ تعالی نے اہل فارس کو شکست دی۔
معرکہ قادسیہ:
حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ کی بے نظیر بہادری، درست رائے اور ایمانی قوت سے ان کے بہادر ساتھیوں نے دشمن کے قلب پر زبردست وار کیا، جس سے فارسی فوج کے قلب میں شگاف پڑ گیا۔ سب سے پہلے اللہ کے فضل و توفیق سے، پھر جاں باز مسلمانوں کی کوشش اور ان کے قائد اعلی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حکمت سے معرکہ قادسیہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ یہ بڑا سخت و جاں گسل معرکہ تھا، دشمن بڑی ثابت قدمی سے تین دن تک مسلمانوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ تعداد و تیاری کی اس سخت کمی کے باوجود مسلمانوں نے اپنے آٹھ ہزار پانچ سو( ٨۵٠٠) شہداء کو گنوانے کے بعد دشمن پر فتح کاپرچم لہرایا، اس معرکہ میں اتنی جانوں کے نذرانے دینا اس بات کی دلیل ہے کہ معرکہ بہت سخت جاں تھا اور مسلمان عزم و شجاعت کے پیکر بن کر شہادت کےلیے تیار تھے۔اسکے علاوہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فتوحات میں فتح مدائن، معرکہ جلولاء، فتح تستر، معرکہ نہاوند، معرکہ خراسان، فتح آذربائیجان،فتح اصطخر، فسا اور دار ابجرد کی فتح، فتح مکران، فتح کرمان و سجستان، فتوحات شام، فتح دمشق، بیت المقدس کی فتح، فتوحات مصر و لیبیا وغیرہ شامل ہیں۔
مسجد نبوی اور مسجد حرام کی توسیع:
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کی توسیع کی اور اس میں عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا گھر شامل کرلیا، توسیع میں دس ہاتھ قبلہ کی طرف، بیس ہاتھ مغرب کی طرف اور ستر ہاتھ شمال کی طرف بڑھایا، اس کی دوبارہ تعمیر کچی اینٹوں اور کھجور کی ٹہنیوں پر کی۔ اس کے پائے لکڑی سے اور چھت کھجور کی ٹہنیوں سے بنائی، اور چھت کے اوپر کھجور کی پتیاں ڈالدیں تاکہ لوگ بارش سے محفوظ رہیں۔ اسی طرح آپ نے مسجد کو رنگ روغن کرنے اور اس میں نقش و نگار کرنے سے منع کردیا تاکہ لوگوں کی نماز میں خلل نہ واقع ہو۔ شروع سے مسجد نبوی کا فرش مٹی کا تھا، آپ نے پتھروں سے اسے پختہ کرایا تاکہ لوگ صاف اور بہترین جگہ پر نماز ادا کرسکیں۔
آپ نے مسجد حرام(خانہ کعبہ) میں بھی معمولی ترمیم کی، مقام ابراہیم جو خانہ کعبہ سے متصل تھا، وہاں سے ہٹا کر آج ہم جس جگہ دیکھ رہے ہیں وہاں منتقل کردیا تاکہ طواف کرنے والوں اور نمازیوں کےلیے آسانی ہو جائے اور اس کے اوپر سائبان تعمیر کیا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت:
عمرو بن میمون کا بیان ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فجر کی نماز میں صفوں کے بیچ سے گزرتے تو فرماتے: صفیں درست کرلو۔ پھر آپ نے تکبیر تحریمہ سے نماز شروع کی۔ آپ نے اللہ اکبر کہ کر نماز شروع ہی کی تھی کہ میں نے آپ کو کہتے ہوئے سنا: کتے نے مجھے مار ڈالا۔
پھر یہ مجوسی مردود اپنا دو دھاری چھرا لیکر بھاگا، دائیں بائیں جو مسلمان بھی ملا اسے زخمی کرتا ہوا بھاگتا رہا، یہاں تک کہ تیرہ آدمیوں کو زخمی کردیا، ان میں سے سات لوگ مرگئے۔ یہ حال دیکھ کر ایک مسلمان شخص نے اس پر اپنا جبہ پھینک کر پھنسالیا، جب اس نے سمجھ لیا کہ اب میں پکڑ لیا جاوں گا تو اس نے اپنے آپ کو ذبح کر لیا۔
یہ مجوسی مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا اور اس کا نام ابو لولو تھا۔ صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ ٢٦ یا ٢٧ ذی الحجہ بروز بدھ ٢٣ ہجری میں عمر رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش کیا، اس وقت آپ کی عمر ٦٣ سال تھی۔ آپ کی مدت خلافت دس سال چھ مہینے اور کچھ دن ہے۔
101