محرم الحرام کی اہمیت وفضیلت :
مسلمانوں کے لئے نئے سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے۔رب تعالیٰ نے اسلام ایک مکمل دین کی صورت میں ہم کو عطا کیا ہے۔دین اسلام میں ہمارے لئے مکمل ضابطہ حیات موجود ہے۔
اسلام نے ہم کو سال کا کیلنڈر بھی دیا ہے تقویم دی ہے۔ہمارا سال یعنی مسلمانوں کا نیا سال محرم سے شروع ہوتا ہے۔اسی طرح عیسائیوں کا سال جنوری سے شروع ہوتا ہے۔
اسلامی کیلنڈر کے مہینوں کے نام الگ ہیں اور عیسائیوں کے مہینوں کے نام الگ ہیں۔اسی طرح انکے دنوں کی تعداد میں اور ہمارے سال کے دنوں کی تعداد میں تھوڑا سا فرق ہے۔اسلامی سال اور شمسی سال کے دنوں میں گیارہ دن کا فرق ہے۔
محرم کا لفظ تحریم سے بنا ہے اور تحریم حرمت سے نکلا ہے۔حرمت کے لفظی معنی احترام اور عظمت کے ہیں۔
اس وجہ سے محرم بہت عظمت والا،احترام والا مہینہ ہے۔اسی فضیلت کی وجہ سے اس ماہ کو محرم الحرام کہا جاتا ہے۔
محرم الحرام میں کرنے کے کام:
محرم الحرام قابل احترام اور عظمت والا مہینہ ہے۔احادیث مبارکہ میں محرم کی دس تاریخ کا روزہ رکھنے کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔
رمضان المبارک کے علاوہ باقی گیارہ مہینوں میں محرم کی دس تاریخ کی بہت فضیلت بتائی گئی ہے۔
دس تاریخ کے ساتھ نو محرم یا گیارہ محرم کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ محرم الحرام میں روزہ رکھنے کی تر غیب دی ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: افضل
ترین روزے رمضان کے بعد ماہ محرم کے ہیں، اور فرض کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے۔
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزیں کبھی
ترک نہیں فرماتے تھے: 1- عاشوراء کا روزہ۔ 2- عشرہ ذو الحجہ کے روزے۔ 3- ہر ماہ تین روزے۔ 4- فجر سے پہلے دو رکعت۔
قرآن مجید میں حرمت والے مہینے کا زکر سورہ البقرہ میں ہے ۔رب تعالیٰ فرماتے ہیں :
یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّهْرِالْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ ط قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ کَبِیْرٌ ط وَصَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللهِ وَکُفْرٌم بِهٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَاِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَکْبَرُ عِنْدَ اللهِ ج وَالْفِتْنَةُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ.
(البقرة، 2: 217)
لوگ آپ سے حرمت والے مہینے میں جنگ کا حکم دریافت کرتے ہیں، فرما دیں اس میں جنگ بڑا گناہ ہے اور الله کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجدِ حرام (خانہ کعبہ) سے روکنا اور وہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا الله کے نزدیک (اس سے بھی) بڑا گناہ ہے، اور یہ فتنہ انگیزی قتل و خون سے بھی بڑھ کر ہے۔
یوم عاشورہ میں خرچ کرنے کی فضیلت :
یوم عاشورہ کے دن دین اسلام نے یہ تعلیم بھی اپنے امتیوں کو دی ہے کہ اس دن اہل وعیال پر کھانے پینے میں وسعت کرنا بہترین عمل ہے، کیونکہ اس عمل کی برکت سے پورے سال اللہ تعالیٰ رزق میں وسعت اور فراخی عطا فرماتے ہیں اور برکت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارکہ ہے کہ:
جو شخص عاشورے کے دن اپنے اہل وعیال پر کھانے پینے میں وسعت اور فراخی کرے گا تو اللہ تعالیٰ پورے سال اس کے رزق میں وسعت عطا فرمائے گے۔
ماتم ، نوحے اور سینہ کوبی کی شرعی حیثیت :
اس مہینے کو ماتم اور غم میں منانے کی دین میں کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ اس مہینے میں جو اور دوسرے لغو اور خرافات کی جاتی ہیں ان سب کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
جو کام کرنے کے ہیں جو اللہ نے احکامات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زریعے ہم تک پہنچائے ان سے تو امت محمد دور ہوگئی ہے۔جن کاموں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے وہ کام خوشی سے انجام دئیے جا رہے ہیں۔
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماتم کرنے ،بالوں کو نوچنے، سینہ کوبی کو سختی سے منع فرمایا تھا ان ہی کاموں کو ہم ذمانہ جاہلیت کی طرح عبادت سمجھ کر انجام دے رہے ہیں۔
زمانہ جاہلیت میں جب کوئی مر جاتا تھا تو سوگ اسی طرح ماتم کر کے اپنے بالوں کو نوچ کر اور سینہ کوبی کر کے کیا جاتا تھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح سے کرنے کو سختی سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ:
“میں ایسی عورتوں پر لعنت بھیجتا ہوں۔”
جو شخص ماتم کرے ،سینہ کوبی کرے،اپنے جسم کو نوچے تو اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کے جسم پر تار کول کی تہہ چڑھا دی جائے گی اور پھر اس کو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دیا جائے گا۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس طرح ماتم کرنا سوگ منانا کتنا کبیرہ گناہ ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہم کو دین کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
امین یارب العالمین.