امیر المؤمنین جانشین مصطفی , دعائے محبوب خدا, جبل استقامت واستقلال ,خسر پیمبر جناب عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا یوم شہادت بھی درس جرات دیتا ہے۔
عدالت کا کوئی چہرہ اگر ہوتا تو عمر ہوتا سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیمبر گر کوئی ہوتا تو عمر ہوتا رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔
مولٰی عمر کوئی معمولی ہستی نہیں سارے صحابہ در رسالت مآب پر خود آئے یہ وہ شخصیت ہیں جنہیں محبوب علیہ السلام نے رب کعبہ سے طلب کیا۔
اللھم اعز الاسلام بعمر بن الخطاب خاصۃ(سنن ابن ماجہ)
اس کی شرح میں صوفیا کہتے ہیں کہ کچھ مرید ہوتے ہیں اور کچھ مراد ہوتے ہیں ۔ مرید وہ ہوتا ہے جو چل کر آتا ہے مراد وہ ہوتا ہے جس کے لئے خواہش کی جاتی ہے کہ یہ کبھی میرا بن جائے نا اور سیدنا عمر میرے مصطفی کریم علیہ السلام کی مراد ہیں رضی اللہ تعالی عنہ
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت واقعہ فیل کے تیرہ برس بعد مکہ مکرمہ میں ہوئی آپ کے والد کا نام خطاب ہے اور آپ کی والدہ کا نام حتمہ بنت ہاشم ہے آپ کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت میں محبوب کریم علیہ السلام سے جا ملتا ہے ۔
فاروق اعظم توانا جسم اور عمدہ صلاحیتوں سے مزین تھے۔ آپ علم الانساب کے ماہر تھے آپ کی علمی قابلیت کی بناء پر زمانہ جاہلیت میں قریش اپنا سفیر مقرر کرتے تھے۔آپ فن پہلوانی سے بھی بخوبی آگاہ تھے اور ماہر شمشیر زن اور ماہر نیزہ باز بھی تھے۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں دین اسلام کی سرحدیں مشرق تا مغرب پھیل گئیں اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں مسلمانوں پر فتوحات کا دروازہ کھل گیا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں ہجری سال کا آغاز ہوا۔ انتظامی امور کے لئے دفاتر کا قیام عمل میں آیا, بیت المال کا قیام عمل میں لایا گیا, مجلس شوریٰ قائم کی گئی, محکمہ پولیس کی بنیاد رکھی گئی, محکمہ فوج قائم کیا گیا, صدقہ کا مال خود پر خرچ کرنے کی ممانعت کی گئی, عوام الناس کی حالت سے آگاہی کے لئے رات کے وقت گشت کو معمول بنایا گیا, نماز جنازہ میں چار تکبیریں پڑھنے کا طریقہ رائج ہوا , نماز تراویح باجماعت ادائیگی کو معمول بنایا گیا, تجارتی گھوڑوں پر زکوٰۃ وصول کی گئی, عدالتی نظام کا قیام عمل میں آیا, جیل خانے قائم کئے گئے, محکمہ تعلیم کا قیام عمل میں آیا , نہری نظام جاری کیا گیا, فوجی چھاؤنیاں تعمیر کی گئیں, مقبوضہ ممالک کو صوبوں کا درجہ دیا گیا, اذان فجر میں “الصلوۃ خیر من النوم ” کا اضافہ کیا گیا مسافروں کے لئے مہمان خانے تعمیر کروائے گئے , بیت المال سے غیر مسلموں کے وظیفے جاری کئے گئے, لاوارث بچوں کی پرورش کے لئے روزینوں کا اجراء کیا گیا, فوجی اصطبل کا قیام عمل میں آیا, غلہ کے لئے گودام تعمیر کئے گئے, عمال کی تقرریاں اور ان کے محاسبہ کا قانون بنایا گیا, زمینوں کی پیمائش اور ان کا ریکارڈ مرتب کیا گیا , دریائی پیداوار پر محصول لگایا گیا اور ایک ساتھ دی جانے والی طلاقوں کو طلاق بائن قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ بھی بےشمار کام تھے جن کی بناء پر دورِ فاروقی کو منفرد حیثیت حاصل ہے.
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو مالک کریم نے اعلی درجے کی فہم و فراست سے نواز رکھا تھا۔۔آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے دور حکومت میں ایک شخص کو آپ کی خدمت میں لایا گیا جو چور تھا۔ آپ نے تحقیقات کے بعد اس شخص کے ہاتھ کاٹنے کا حکم جاری کیا۔ اس شخص نے عرض کیا میں نے پہلی مرتبہ چوری کی ہے آپ مجھے معاف کردیں آئندہ میں چوری نہیں کروں۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تم غلط کہتے ہو تم نے اس سے پہلے بھی کئی بار چوری کی ہے۔ اس شخص نے انکار کر دیا جب آپ نے دوبارہ اپنی بات دہرائی تو وہ اس نے اقرار کر لیا کہ وہ اس سے قبل بھی کئی بار چوری کر چکا ہے۔پھر اس نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ سے دریافت کیا کہ میرے سوا ان چوریوں کو کوئی نہیں جانتا تو پھر آپ کو علم کیسے ہوا؟؟
آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا( جو قیامت تک آنے والوں کے لئے ایک نصیحت ہے)
” اللہ تعالی اس وقت تک کسی شخص کو ذلیل نہیں کرتا جب تک اس کی برائی حد سے نہ بڑھ جائے”
مالک ہم سب کو اپنی مہربانی کے سائے تلے جگہ دے.
امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خشیت الہی کا یہ عالم تھا کہ جب آپ تلاوت قرآن فرماتے تو دنیا عمر بن خطاب جیسے جری جرنیل کے اک اور ہی روپ سے آشنا ہوتی ۔
حضرت عبداللہ بن شداد کے مطابق نماز کی امامت کرتے وقت سورت یوسف کی آیات إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللّٰهِ(يوسف: 87) پڑھتے ہوئے ایسی رقت طاری ہوتی کہ رونے کی آواز پچھلی صفوں میں سنائی دیتی ’’
ایک دفعہ سورۃ التکویر کی تلاوت کرتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ (جب تمام اعمال ظاہر کر دیے جائیں گے)تو غش کھا کر گر پڑے۔
اسی طرح وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا۔ (الفرقان:14) پڑھا تو اس قدرخضوع وخشوع طاری ہوا کہ اگر کوئی ان کے حال سے ناواقف شخص دیکھ لیتا تو یہ سمجھتا کہ اسی حالت میں روح پرواز کر جائے گی۔