تاریخ کے بعض واقعات ایسے عبرت ناک ہیں کہ جس پر تاریخ بھی ہچکیاں لے کر روتی رہی ہے انہی واقعات میں سے ایک واقعہ کربلا ہے۔
واقعہ کربلا میں ظلم و ستم اور بے وفائی کے ایسے الم انگیز واقعات پیش آئے کہ جن کا تصور کرنا بھی ناممکن ہے۔
سانحہ کربلا دراصل اغیار کی سازشوں اور یہودیوں کی مجرمانہ ذہنیت اور پروپیگنڈے کے نتیجے میں واقع ہوا تھا۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے آخری زمانے میں میں عبداللہ بن سبا یہودی اٹھا اس نے نئے نئے عقیدے پیش کئے اور کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل حضرت علی ہیں اور کہا کہ ہر پیغمبر کا ایک رازدان ہوتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رازدار حضرت علی ہیں۔
ابن سبا نے بصرہ و کوفہ جاکر اپنے ہم خیال پیدا کئے اور ایسے حالات بنائے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کا سانحہ واقع ہوا۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ خلیفہ مقرر ہوئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ”عبد الرحمن بن ملجم“ نے جب شدید زخمی کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے شہادت سے پہلے اپنے بیٹے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو نماز کے لئے اپنا جانشین مقرر کیا (ایسا کرنا اس وقت خلافت کے استحقاق کی طرف اشارہ تھا) اس کے ساتھ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کی تلقین بھی کی چنانچہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرکے ان کے ہاتھ پر بیعت کی اور اپنے بھائی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھی بیعت پر آمادہ کیا۔
صلح کے بعد امن و سکون کا دور شروع ہوا اور بیس سال تک امت پوری طرح متحد رہی اسلام کی دعوت و تبلیغ اور کفار سے جہاد کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا اور اسلامی سرحدیں وسیع ہونے لگی۔
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد سبائی ٹولے نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھ کر دعوت دی کہ ہم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت فسخ کردی ہے اگر آپ کوفہ تشریف لے آئیں تو ہم آپ کی بیعت کرلیں گے۔ سبائی ٹولے اور کوفیوں کو جس کمزور بات یا موقعہ کی تلاش تھی وہ ان کو اس وقت ہاتھ آیا جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مختلف صحابہ کرام اور اصحاب رائے سے مشورے کے بعد یزید کو اپنا جانشین بنانے کا فیصلہ کیا۔
حضرت ”مغیرہ بن شعبہ“ رضی اللہ عنہ جو حضرت علی کے کٹر حامیوں میں سے تھے انہوں نے بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یزید کی ولی عہدی کا مشورہ دیا، علماء کا اس بات پر یقین ہیکہ ان کا مشورہ اخلاص اور دیانت پر مبنی ہوگا، اس وقت دو سو سے زائد صحابہ کرام زندہ تھے چند ایک کے سوا کسی نے بھی یزید کی ولی عہدی کی مخالفت نہیں کی۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی مخلصانہ رائے یہ تھی کہ باپ کے بعد بیٹے کی ولی عہدی اسلام کے شورائی نظام کے خلاف ہے۔
ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہیکہ کسی بھی صحابی کو تنقید کا ہدف بنائیں تو ہمارے لئے ایمان کی حفاظت مشکل ہوگی علماء کرام فرماتے ہیں کہ اس صورت میں محفوظ راستہ یہ ہیکہ خاموشی اختیار کی جائے زیادہ سے زیادہ یہ کہ سکتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اجتہادی غلطی ہوگئی تھی۔
سبائی کوفیوں نے یزید کی ولی عہدی کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو مسلسل خطوط لکھے کہ ”ہم نے یزید کی بیعت فسخ کردی ہے آپ کوفہ تشریف لے آئیں ہم آپ کی بیعت کے لئے تیار ہیں “
یہ خطوط اتنی کثرت کے ساتھ بھیجے گئے کہ بعض اوقات ان کی تعداد ایک دن میں چھ سو تک پہنچ گئی، اس کے علاوہ کوفی وفود کی شکل میں بھی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کوفہ چلنے کی دعوت دی۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے حالات کی تحقیق اور جائزے کے لئے اپنے چچا زاد بھائی ”مسلم بن عقیل“ کو کوفہ بھیجا جن کے ہاتھ پر ایک روایت کے مطابق اٹھارہ ہزار کوفیوں نے بیعت کی انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بڑی مسرت کے ساتھ یہ اطلاع دی۔
مسلم بن عقیل کی حوصلہ افزاء رپورٹ ملنے کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ اپنے عزیزوں کے ساتھ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اس اقدام کی حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مخالفت کی اور کئی خیر خواہوں نے سمجھایا اور یاد دلایا کہ یہ وہی کوفی ہیں جنہوں نے آپ کے والد اور بھائی کے ساتھ بے وفائی کی مگر آپ عزیمت کا پہاڑ تھے اپنے ارادے پر ڈٹے رہے۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں مسلم بن عقیل کی شہادت اور کوفیوں کی بے وفائی کا علم ہوا تو آپ نے واپس پلٹنا چاہا مگر آپ کے ہم سفر مسلمان ڈٹ گئے کہ ”ہم خون کا انتقام لئے بغیر واپس نہیں جائینگے ان کے علاوہ آپ کے لشکر میں جو کوفیوں کا وفد تھا اس نے بھی اصرار کیا کہ آپ کو دیکھ کر کوفیوں کے حوصلے بڑھ جائینگے اور بکھری ہوئی جماعت متحد ہوجائیگی“ چنانچہ آپ نے سفر جاری رکھا جب آپ کربلا پہنچتے تو ”حر بن یزید“ کی قیادت میں ایک ہزار کے لشکر نے آپ کا گھیراؤ کیا حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے جب یہ دیکھا کہ لشکر میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو بڑی التجاؤں کے ساتھ کوفہ آنے کی دعوت دیتے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ ” میں تمہارے پاس خود نہیں آیا تمہارے خطوط اور وعدوں کے بھروسے پر آیا ہوں اگر تم اپنے عہد پر قائم ہو تو پورا کرو اگر پھر گئے ہو تو میں واپس چلا جاتا ہوں“ وہ غدار خاموش رہے اور کوئی جواب نہیں دیا۔
پھر عمر بن سعد کی قیادت میں چار ہزار کا مزید لشکر پہنچ گیا عمر بن سعد کی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی کئی رشتوں سے قرابت تھی اسلئے ان کی خواہش تھی کہ مصالحت کی کوئی صورت نکل آئے چنانچہ مذاکرات شروع ہوئے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے تین صورتیں پیش کی (1) یا تو مجھے واپس مکہ مکرمہ جانے دو (2) یا مجھے اسلامی سرحدوں کی طرف جانے دو تاکہ کفار کے خلاف جہاد میں زندگی گزار دوں (3) یا مجھے دمشق جانے دو تاکہ یزید سے اپنا معاملہ اسی طرح طے کرلوں جس طرح میرے بھائی حسن نے اس کے والد (حضرت معاویہ)کے ساتھ کیا تھا۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی پیش کردہ تینوں صورتوں سے یہ بات واضح ہورہی ہیکہ آپ لڑائی نہیں چاہتے تھے اور یزید کا مقصد بھی بغیر لڑائی کئے ہورہا تھا لیکن لڑائی تک نوبت سبائی کوفیوں اور غداروں کی وجہ سے اسلئے پہنچی کہ انہیں محسوس ہوگیا تھا کہ ہماری سازش کا بھانڈا پھوٹنے والا ہے حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر ہماری حقیقت واضح ہوچکی ہے اور یزید کو بھی منہ دکھانے کے قابل نہیں رہینگے چنانچہ انہوں نے مصالحتی مذاکرات کو کامیاب نہ ہونے دیا اور بلآخر خونریزی ہو کر رہی اور کربلا کی خاک میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے مظلوم ساتھیوں کا خون جذب ہوکر رہا۔
اگرچہ یزید حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل میں براہ راست شریک نہیں تھا بلکہ اس نے آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا سن کر افسوس کا اظہار بھی کیا لیکن حکمران وقت ہونے کی وجہ سے اسکو سارے معاملے سے بری الزمہ بھی نہیں سمجھتے
144