حال ہی میں یومِ آزادی گزرا ہے تو اس دن ایک ٹی وی چینل پہ واہگہ بارڈر لاہور سے پرچم اتارنے کی خصوصی تقریب کے مناظر براہِ راست دکھائے جارہے تھے میں بھی بچوں کے ساتھ بڑے انہماک اور توجہ سے دیکھ رہا تھا جس میں وہاں پہ موجود لوگوں کا جوش و جذبہ دیدنی تھا “جیوے جیوے پاکستان” کے فلک شگاف نعروں کے جواب میں عوام کا جھنڈیاں لہرانا اور ہاتھ اٹھا کے نعرے کا جواب دینا عوام کی وطن سے محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
اس تقریب کے دوران پاکستانی رینجرز کے بلندوبالا قدوقامت والے بہادر جوان زور زور سے پاؤں پٹختے اور بار بار مونچھوں کو تاؤ دیتے اور روایتی حریف انڈیا کے سپاہیوں کو آنکھیں دکھاتے اور مُکے لہراتے صاف نظر آرہے تھے۔ جونہی یہ تقریب ختم ہوئی تو چھوٹے بیٹے علی حسن نے ایک سوال داغ دیا کہ یہ ہمارے فوجی مونچھوں کو تاؤ کیوں دیتے ہیں اور پاؤں کیوں پٹختے ہیں؟
مجھے تو موقع چاہیے تھا بچوں کو بٹھا کر بتایا کہ بیٹا ہماری رینجرز کے جوانوں کا یوں مونچھوں کو تاؤ دینا، پاؤں زمین پر پٹخنا اور ہوا میں مُکے لہرانا بےجا نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے بہادری وجوانمردی کی پوری داستان اور ناقابلِ فراموش کارنامے ہیں جن کو یاد کرکے آج بھی ہمارے جوانوں اور ہماری قوم کا سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے۔ ہماری رینجرز دنیا کی سب سے بہترین رینجر ہے۔ رینجرز کا کام ملکی سرحد کی حفاظت اور نگرانی کرنا ہوتا ہے اگر کہیں پہ دشمن حملہ کرے تو رینجرز اس حملے کو تب تک روکے رکھتی ہے جب تک انفنٹری اور دوسرے ہیوی مشینری یونٹس پہنچ نہ جائیں اس عمل کیلیے پانچ چھ گھنٹے کا وقت درکار ہوتا ہے لیکن ستمبر 1965 کی جنگ میں جب دشمن نے اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ وطن عزیز کی سرحدوں پہ حملہ کیا تو پاک رینجرز نے نہایت بہادری اور ہمت کے ساتھ دشمن کو نہ صرف روکا بلکہ اسکا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ سندھ اور بہاولنگر کے بارڈر پر دشمن کو تین دن تک روکے رکھا اور اسکی بھاری مشینری کو بھی ناکام کردیا۔ یہ اعزاز دنیا کی کسی بھی رینجرز فورس کے پاس نہیں ہے کہ اس نے دشمن کے فل سکیل ملٹری اٹیک کو اپنا بارڈر کراس کرنے سے تین دن تک روکے رکھا ہو۔
اس جنگ میں دشمن کا سب سے بڑا ہدف لاہور تھا تو اس نے اپنی سب سے زیادہ لڑاکا فورس (berserk unit) لاہور بارڈر پہ لگادی جسکو وہ آندھی اور طوفان کہا کرتے تھے اور اسکو روکنا یا انکے سامنے کسی کا ٹھہرنا ناممکن سمجھتے تھے. لیکن قربان جائیں پاک رینجرز اور پاک آرمی کے جوانوں کے جنہوں نے لاہور بارڈر کو انڈین آرمی کے خونخوار درندوں کا قبرستان بنا دیا پاک رینجرز اور پاک آرمی نے نہ صرف اس یونٹ کو پسپا کردیا بلکہ انکے پیچھے آنے والے دوسرے لڑاکا یونٹس کو بھی ملیا میٹ کردیا۔
واہگہ بارڈر پر پاک رینجرز کے جوانوں کا غصے اور فخر سے پاؤں پٹخنا، دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مونچھوں کو تاؤ دینا اور ہوا میں مُکے لہرانا ستمبر 1965 کی جنگ میں ہمارے بہادر اور جانباز سپاہیوں کی اسی شاندار کہانی کی یاددہانی ہے جس میں انڈیا کی بھاری مشینری، انفنٹری، بیرسرک یونٹ، پیرنٹ یونٹ اور سپیشل لڑاکا فورسز کو پاک رینجرز کےجوانوں نے یہیں اسی سرزمین پہ دھول چٹائی تھی۔ گویا کہ یہ پاؤں پٹختے، مونچھوں کو تاؤ دیتے، فخر کے ساتھ مُکے لہراتے اور غضبناک آنکھوں سے گھورتے جوان خاموش زبان کے ساتھ دشمن کو چِڑاتے ہیں اور انکو یاد دلاتے ہیں کہ
“ہمیں بھول تو نہیں گئے؟
ہم وہی ہیں 1965 والے اور یہ بارڈر بھی وہی ہے جہاں سے بھاگنے کیلیے تمہیں راستہ نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستمبر 1965 میں پاک رینجرز نے جو سبق تمہیں سکھایا تھا تمہاری نسلیں بھی اسکو یاد رکھیں گی”۔
واہگہ بارڈر کی کہانی سننے کے بعد بچوں کے چہروں پر وطن سے محبت کی چمک دمک اور ہونٹوں پہ فخریہ مسکراہٹ نظر آرہی تھی۔ اگلے ہی۔لمحے ہمارا گھر پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجنے لگا۔ میں نے مسکراتے ہوئے کانوں پہ ہاتھ رکھ لیے اور انکے”پاکستان زندہ باد” کے نعروں میں میری آواز بھی شامل ہوگئی۔
پاکستان۔۔۔۔۔۔۔زندہ باد