بچہ جس طرح اپنے والدین کے لیے ایک نعمت عظمی کی حیثیت رکھتاہے اس ہی طرح وہ معاشرے کی تشکیل نو کے لیے ایک قیمتی سرمایہ بھی ہوتاہے اوراگر دقیق نظر سےجائزہ لیاجائے تو معلوم ہوگا کہ درحقیقت نسل انسانی کے تسلسل اوربقائے کائنات کاراز اس سلسلہ توالدوتناسل ہی میں پنہاہے ۔انسانیت کی کردار سازی ،معاشرے کاامن ،رب کائنات کی جانب سے عطاکردہ خلافت کااستحقاق اس بچہ کے مثبت اورقابل تقلید تربیتی عمل پرہی منحصرہوتاہے ۔
جب یہ بچہ روزاول نومولودیت کاتاج سجائے ممتاکی آغوش میں زندگی کی سانسوں کی ابتداء کرتاہے تو فطری طور پر ذہنی ،جسمانی،اخلاقی وشخصی صلاحیتوں کو لے کرپیداہوتاہے اورملنے والی اس حیات دنیوی میں ان صلاحیتوں کے ارتقائی سفرکو طے کرنے کے لیے لمحہ بہ لمحہ آگے بڑھتاہے اوران صلاحیتوں کے ارتقائی سفر کاسب سے پہلانگران من جانب اللہ والدین ہی کوبنایا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ رب کائنات نے مادروپدر میں فطری طور پر شفقت ومحبت کاعنصر غالب رکھا ہے اوراس ہی عنصر کے مقتضیٰ پر بچہ کے تربیتی عمل کی بنیاد قائم ہوتی ہے ۔
اب یہاں اصولی طورپرکچھ سوال جنم لیتے ہیں کہ بچہ میں موجود فطری صلاحیتوں کا منبع وسرچشمہ کیا ہوتاہے ؟وہ کون سی بنیادی واساسی چیزیں ہیں جن پر بچہ کے اندر فطری صلاحیتوں کو ودیعت رکھا جاتاہے ؟اورتربیتی عمل میں ایسے کون سے امور کو مدنظر رکھا جائے کہ یہ بچہ والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بننے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں ایک باکردار وقابل تقلید فرد کی حیثیت سے زندہ رہ سکے ؟
اگر ان سوالات کے جوابات کی کھوج کی جائے توبہت سے حقائق سے پردہ اٹھ سکتاہے مثلاًیہ بات واضح ہوجائے گی کہ بچے کی فطری صلاحیتوں کامنبع وسرچشمہ اس کے اپنے والدین ہوتے ہیںاورپھر وہ اساسی پہلو بھی سامنے آجائے گا کہ اس بچہ پر والدین کی اپنی تربیت اثرانداز ہوتی ہے۔
چنانچہ بچہ کی فطری صلاحیتیں والدین کی اپنی تربیت کے سائے میں پروان چڑھتی ہیں جدید تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اگر چہ بچہ کے رجحانات قرارحمل کے وقت ودیعت رکھےجاتے ہیں لیکن ان رجحانات میں ماں باپ کی اپنی تربیت ،ان کے جذبات ،ان کی خواہشات ،ان کی ذہانت،ان کی تعلیم ،ان کاانداز زندگی،ان کاطور وطریقہ،ان کاسلیقہ ،ان کی ذکاوت ودانشمندی اوران کااپنا تشخص نو ماہ بعددنیا میں آنے والے بچے کی تربیت ،نشوونمااورفطری صلاحیتوں کو اجاگرہونے پر اثرانداز ہوتاہے یہی وجہ ہے باکرادر بچے کو جنم دینے کے لیے شریعت مطہرہ نے اپنی تعلیمات میں جابجا نیک سیرت بیوی اورباکردار شوہر کے حصول کی ترغیب کو نمایاں صفات میں شمار کیا ہے ۔
والدین کاطریقۂ تربیت اس بچہ کے مستقبل کافیصلہ کرتاہے کہ یہ بچہ معاشرے کے لیے ایک قیمتی سرمائے کی حیثیت سے اجاگر ہوگایا اس معاشرے کے لیے ناسور ثابت ہوگا۔لہٰذا اگر ہم اس بچہ کےتربیتی عمل کو کامیابی کے ساتھ گزارنے کے خواہاں ہیں تو ہمیں روز اول سے ہی ایک مثبت نظام تربیت تشکیل دینا ہوگا۔
بچہ بنیادی طورپر تین قسم کے ادوار سے گزرتاہے اورہرایک دورمیں تربیت کاانداز بھی الگ الگ ہوتاہے اگر والدین اس کو سمجھ لیں تو بچہ اپنی کردار سازی کی منازل بخوبی طے کرسکتاہے
سب سے پہلے بچہ نومولودیت کے دورسے گزرتاہے ،روزاول ہی سے اس میں کچھ فطری صلاحیتیں اس کو مختلف عوامل کی انجام دہی تک لے جاتی ہیں مثلادودھ پینے کی صلاحیت،آوازوں کی جانب توجہ دینا وغیرہ وغیرہ بس اس گزرتے دورمیں والدین کو ایک بات ذھن نشین کرلینی چاہیے کہ بچہ اس نومولودیت میں تقلیدی ومشاہداتی عمر سے گزررہاہوتا ہے اور اس کاذہن ایک خالی کاغذکی مانند ہوتاہے وہ غیرمحسوس انداز میں ہر دیکھاہواعمل اور کان میں پڑنے والی بات کو ذہن کی تختی پرنقش کرتاہے اس دورمیں وہ نصیحت سننے اوراس پر عمل پیراہونے کی صلاحیت سے محروم ہوتا ہے بس وہ اپنے اردگردکے ماحول کی تقلیدکرتاگزررہاہوتاہےچنانچہ بچے کے سامنے ہونے والی گفتگو اوردیگر تمام معاملات میں بڑا محتاط رویہ اختیارکرنےکی ضرورت ہے،اپنے بچے کے بارے میں یہ گمان کرنا قطعاً درست نہیں کہ وہ اس وقت ناسمجھ اورکی جانے والی باتوں سے انجان ہے۔
ہر وہ بات جو حیاکے منافی ،جھوٹ ،لغواور نازیبافعل کسی بڑے اورہم عمر انسان کے سامنے کرنا معیوب اورغیرمہذب سمجھا جاتاہے وہ سب کاسب بچے کے سامنے بھی غلط اورنازیباہی تصور کرنا چاہیے کیوں کہ اس نومولودیت کی عمر میں بچہ ہر لحاظ سے آپ کامقلد ہوتا چنانچہ یہ بات یاد رکھنی ضروری ہے کہ آپ بچہ کو جیسابناناچاہتے ہیں ویساہی عملی نمونہ اس کے سامنے پیش کرنا ہوگا ۔
اس کے بعد بچہ میں نوخیزیت جنم لیتی ہے جس کی ابتداءعموماً 7سال کی عمرسے شروع ہوتی ہے اب اس عمر کے دائرہ کار میں بچہ تقلیدی نقوش کی روشنی میں مختلف زاویوں سے عملی مشق شروع کرنے کی کوشش کرتاہے اس ہی وجہ سے شریعت مطہرہ نے بھی اس ہی عمر میں اس کو سب سے پہلے اورسب سے اہم فریضہ نماز کی تلقین کاحکم دیا ہے تاکہ اس کی عملی مشق میںرب کائنات سے تعلق کی ابتداء ہوسکے اورتاحیات وہ اپنے رب کی بارگاہ میں سربسجود رہے۔
یادرکھیں !یہی وہ نازک دورہوتاہے جہاں اس کے لیے صحیح اورغلط راستے کاانتخاب مشکل ہوتاہے کیوں کہ بچہ کافہم اس وقت اتناتربیت یافتہ نہیں ہوتاکہ درست نتائج اخذ کرکے اپنے کردار کاجزوبناسکے چنانچہ اس موقع پربچہ کاتربیتی عمل صحیح ومثبت رہنمائی کامتقاضی ہوتاہے ،اس نوخیزبچہ کے کردار کی تعمیر ،اس کے فطری مزاج کی تشکیل کے لیے والدین کو حاضر باش اورچوکنا رہتے ہوئے تربیتی سفر پر گامزن رہنا پڑے گاکیوں کہ اگر اس موقع پر اس کو صحیح ومثبت رہنمائی اوراخلاقی تربیت میسرنہ آسکی تو اس بات کاقوی اندیشہ موجود ہے کہ غلط صحبت وعادات یا سخت مزاجی کارویہ پختہ ہوکر اس کے کردار کاحصہ بن جائے گا اورپھر نعوذباللہ وہ دین ودنیا دونوں کے تربیتی اصولوں کے پرخچے اڑادے گااس لیے یہ دوربچہ کے تربیتی عمل میں اتنا نازک ہوتاہےکہ معمولی سی بھی کوتاہی ہزاروں دوسرے افراد بلکہ پورے معاشرے اورملک وملت تک کے تعمیری خدوخال کو متاثرکرسکتی ہے ۔
اورسب سے آخرمیں نوجوانیت کااس پر غلبہ طاری ہوتاہے اوریہ دوربلوغت سے شروع کر تادمِ حیات باقی رہتا ہے اس دورمیں یہ بچہ جو کہ اب نوجوان بن چکاہے تجرباتی پندونصائح کامحتاج ہوتاہے اس کو اب تجرباتی دنیا میں داخل کرکے جزوی اختیاردے کر معاشرے کے نشیب وفراز سے آشناکروایا جانا چاہیے کیوں اب گزرتے دورکاہر تجربہ اس کو کچھ نہ کچھ سکھاتاہے اس معاملہ میں بچہ خودرائی ،خود اعتمادی ،خود کاری کے دور سے گررہاہوتا ہے اوراس میں تابع رہنےکی صفت کچھ مانند پڑی ہوتی ہے ۔
یہ وہ وقت ہوتاہے جب کہ والدین بالخصوص والد پر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس پسرارجمند کی سرپرستی کرتے ہوئے معاشرتی معاملات میں اس کو قدم بڑھانے دے اورماحول کے نشیب وفراز میں اس کا دست بازو بن جائے یقین جانیے اگر اس عمر میں والد اس نوجوان کادست وبازو بن گیا تو یہی بچہ اپنے والدین کے بڑھاپے میں دست وبازو بن جائے گا اورہمارا موجودہ دور کا سب سے بڑا شکوہ’’ہماری اولاد فرمانبردار نہیں رہی یا ہمارا دست وبازو نہ بن سکی وغیرہ وغیرہ‘‘ اپنی موت آپ مرجائے گا۔
اب اگر بچہ نومولودیت کے دورمیں اس کاتربیتی عمل تقلیدکی بنیادپر گزرا ہو،ہم اس کے لیے بہترین نمونہ بن سکے ہوں اورنوخیزیت مثبت رہنمائی اورقابل ذکرنصائح اس کے دامن گیر ہوگئی ہوں اورجوانی کے گرم خون میں تجرباتی مادہ سرایت کرگیا ہو ،اس کے والدین نے اس کا بہترین دوست ہونے اورقابل تقلید سرپرست ہونے کا حق ادا کردیا ہو تو دنیا کی کوئی بھی طاقت اس کو ایک فرمانبردار اولاد اورباکردارروشن ضمیر اورقائدانہ صلاحیتوں کا حامل شخص بننے سے روک نہیں سکتی ۔
سب سے اہم اوربنیادی واساسی بات یہ ہے کہ یہ اس ہی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب کہ والدین از خود بھی تعلیمی شعور اوراخلاقیات کے زیورسے آراستہ ہوں چنانچہ سب سے پہلے ہمیں بدلنا ہے پھر اولاد بدلے گی اورپھر باکردار معاشرہ تشکیل پائے گا یادر کھیں آج کابیٹا کل کا والد اورآج کی بیٹی ہی کل کی ماں ہوگی اگر ہم نے ان کاآج نہ سدھارا یہ اپنا کل کامیاب نہیں بناسکتے ۔
یادرکھیں! کل کی کامیابی آج کی قربانی مانگتی ہے ورنہ خام خیال اوراچھی امیدوں کے بارے میں تو یہی مثل مشہور ہے کہ:
ایں خیال ہست ومحال ہست وجنوں
112