76

کاغذ کی کشتی۔۔۔۔۔۔!!/تحریر/ام حسان کراچی

آج سوشل میڈیا پہ ایک ویڈیو نظروں سے گزری جس میں ایک کشتی پہ کافی لوگ سوار تھے ان لوگوں کی حالت زار بتاتی تھی کہ حالات کے مارے ہوئے ہیں،
عجیب بے بسی تھی انکے چہروں پہ،
اپنے خواب اپنے پیاروں کی آنکھوں کو دے کر آئے تھے اور خود ان خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے نکلے تھے،
وہ جانتے تھے کہ اپنوں سے دور دیار غیر میں زندگی اور بھی بے رحم ہو جاتی ہے،
وقت نہیں گزرتا،
دل کہیں نہیں لگتا،
لیکن مالی حالات اور اپنوں کی آنکھوں میں سجے خوابوں کو اپنی محنت کا پسینہ دے کر سچ کرنے نکلے تھے،
انھوں نے سوچا ہوگا کہ ہم اپنی آنکھوں کی نیند قربان کر کے اپنے پیاروں کے خوابوں کی تعبیریں انھیں بھیجیں گے،
تاکہ وہ زندگی کے سکھ کو محسوس کریں،
بھر پور زندگی جی سکیں،

لیکن جب کشتی پانی پہ ڈگمگائی ہوگی،
لہروں کے رحم و کرم پہ ڈانواڈول ہوئی ہوگی تو کیا قیامت گزری ہوگی ان بے بس لوگوں پہ،
اپنی زندگی کی بے قدری کا احساس ہوا ہوگا،
اپنے پیاروں کے چہرے آنکھوں کے سامنے گھوم گئے ہونگے،
پھر سوچا ہوگا کہ کاش وہ گھر سے نہ نکلے ہوتے،
صرف خوابوں پہ گزارا کرلیتے کہ تعبیریں تو قیمت مانگتی ہیں،
پھر بے حس حکمرانوں سے شکوہ کیا ہوگا،
کسی کو مدد کے لئے پکارا ہوگا،
آہ و پکار کی ہوگی کہ کوئی بچا لے،

لیکن کاغذ کی کشتیاں تو ڈوب جاتی ہیں،
ساتھ خواب،ارمان اور حسرتیں بھی ڈوب جاتی ہیں،
اور کسی خوش نصیب کو ملتی ہے لاش ماتم کرنے کے لیے،،

میری صرف اپنے ہم وطنوں سے گزارش ہے کہ کچھ بھی ہو اپنا مستقبل یہیں بنانے کی کوشش کریں،مت سوار ہوں ان کاغذ کی کشتیوں پہ جن کا مقدر ڈوبنا ہوتا ہے،

امیر شہر نے کاغذ کی کشتیاں دے کر
سمندروں کے سفر پہ روانہ کیا ہمیں،
ٔ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں