0

روزنامہ اسلام: یادوں اور تجربات کا قیمتی سرمایہ/تحریر/عابد محمود عزام


روزنامہ اسلام: یادوں اور تجربات کا قیمتی سرمایہ/تحریر/عابد محمود عزام

روزنامہ اسلام نے ستمبر 2001ء میں کراچی سے اپنا اشاعتی سفر شروع کیا اور ستمبر 2025ء میں اسے شائع ہوتے ہوئے 24 برس مکمل ہوگئے۔ کراچی سے آغاز کرنے والا یہ اخبار کامیابی کے ساتھ اسلام آباد، لاہور، ملتان، پشاور، مظفرآباد اور کوئٹہ تک پھیلا۔ اگرچہ ملک میں پرنٹ میڈیا کے مجموعی زوال کے باعث اس کی اشاعت اب چند مخصوص شہروں تک محدود ہوچکی ہے، تاہم یہ تاحال اپنی آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔
میری وابستگی کو بھی روزنامہ اسلام سے چودہ برس ہوگئے ہیں۔ سات برس ادارے میں مختلف ذمہ داریاں نبھائیں، اس کے بعد بھی وقفے وقفے سے لکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران کئی یادیں اور قیمتی تجربات حاصل ہوئے۔ کراچی اور لاہور کے دفاتر میں پروف ریڈنگ، رپورٹنگ، میگزین اور ادارتی صفحات کی تیاری سے لے کر اسلامی صفحے کی ادارت تک مختلف ذمہ داریاں سنبھالیں۔ سینکڑوں مضامین و فیچرز لکھے، معروف شخصیات کے انٹرویوز کیے اور کالم نگاری بھی کی۔ خبر کی تلاش میں سڑکوں پر بھی نکلے اور دفتر میں بیٹھ کر صفحات کی تیاری کا موقع بھی ملا۔ بہت سے اہم اور حساس موضوعات پر بھی لکھا۔

یہ اخبار ہمیشہ معیاری، تعمیری، منفرد اور مثبت صحافت کا علمبردار رہا۔ اس نے اسلامی سوچ کو پروان چڑھایا، ختمِ نبوت اور اسلامی شعائر کے دفاع کو مشن بنایا، مذہبی جماعتوں کا ساتھ دیا اور سیکولر و لبرل قوتوں کے مقابل ہمیشہ ڈٹ کر کھڑا ہوا۔ دینی مدارس کا مقدمہ بہترین انداز میں پیش کیا اور علماء و مذہبی رہنماؤں کی آواز کو عوام و حکمرانوں تک پہنچایا۔

روزنامہ اسلام نے بہت سے ایسے افراد تیار کیے جنہوں نے اسلام، پاکستان اور امت مسلمہ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ ابتدا میں یہ اخبار صرف اسلام پسندوں کا ترجمان سمجھا جاتا تھا، مگر جلد ہی ایک عوامی و خاندانی اخبار کے طور پر پہچانا جانے لگا۔ بے ہودگی سے پاک اور معاشرتی اقدار کے عین مطابق ہونے کی وجہ سے ایک وقت میں اس کی اشاعت لاکھوں تک پہنچ گئی۔ قارئین اس سے اس قدر محبت کرتے تھے کہ صبح سویرے اس کا انتظار کیا کرتے۔ اخبار کے ہفت روزہ میگزین بچوں کا اسلام اور خواتین کا اسلام نے بھی نہ صرف لکھاریوں کی نئی کھیپ تیار کی بلکہ کئی گھرانوں کی تربیت کی اور مثبت تبدیلی پیدا کی۔

یہ اخبار ایسے وقت میں منظر عام پر آیا جب دشمن قوتیں اسلام کے خلاف متحد ہورہی تھیں۔ اس نازک دور میں جہاں پڑوسی ملک میں اسلام پسند اسلام دشمن طاقتوں سے عسکری میدان میں برسرِپیکار تھے، وہیں پاکستان میں روزنامہ اسلام صحافتی محاذ پر اسلام کا دفاع کر رہا تھا۔ اسے کئی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ بارہا پابندیاں لگیں، دھمکیاں دی گئیں، مگر یہ اپنے مشن سے پیچھے نہ ہٹا۔ یقیناً کسی بھی اخبار کی پالیسی سے اختلاف ہوسکتا ہے، انتظامیہ پر شکوے بھی ممکن ہیں اور بعض کمزوریاں بھی رہی ہوں گی، مگر کوئی بھی انسانی ادارہ خامیوں سے پاک نہیں ہوتا۔

بلاشبہ پرنٹ میڈیا کے زوال نے روزنامہ اسلام کو بھی متاثر کیا اور پالیسیوں میں کسی حد تک نرمی آ گئی، لیکن مجموعی طور پر اس اخبار میں ہمیشہ خیر غالب رہا۔ اس نے دینی مدارس، مذہبی حلقوں اور اسلامی دنیا کا مؤقف پیش کرنے کے ساتھ اسلام دشمن قوتوں کے دوہرے معیار کو بے نقاب کیا۔ محدود وسائل کے باوجود اس نے اپنا وجود منوایا اور اس وقت کامیابی حاصل کی جب بڑے بڑے ادارے بھاری سرمایہ لگانے کے باوجود ناکام ہو گئے۔

روزنامہ اسلام نے اسلام پسندی کا حق ادا کیا اور پاکیزہ، معیاری، تعمیری اور مثبت صحافت کو فروغ دیا۔ انہی اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے چوبیس برس کی تکمیل پر روزنامہ اسلام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں