0

وہ قیامت خیز لمحے / تحریر /شہباز اکبر الفت

وہ قیامت خیز لمحے
شہباز اکبر الفت

آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کی صبح آٹھ بج کر پچپن منٹ …
میری آنکھ اس زور دار جھٹکے سے کھلی تھی جس نے گویا مجھے صوفے اٹھا کر قالین پر پٹخ دیا، شب بھر اخبار کی تدوین اور طباعت کے طویل اور تھکا دینے والے مراحل سے گزر کر، تھکن سے چور بدن کو ابھی آرام کا ہی موقع ملا تھا، دماغ گہری نیند کے غلبے میں تھا، حواس ابھی قابو میں نہ آئے تھے کہ باہر سے زور زور سے، مسلسل دروازہ پیٹنے کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی، میں ہڑبڑا کر اٹھا، گرتا پڑتا دروازے تک پہنچا، دروازہ کھولا تو باہر ایک نئی حیرت میری منتظر تھی، باہر کوئی بھی نہیں تھا، پوری گلی سنسان، میں حیران سا واپس مڑنے لگا کہ گلی سے باہر، سڑک سے شور کی آواز آئی، بہت سارے لوگ چلا چلا کر مجھے آوازیں دے رہے تھے
” زلزلہ، زلزلہ، باہر آجاؤ”
باہر آیا تو ایسے لگا کہ جیسے سارا علاقہ سڑک پر امنڈ آیا ہو، اچانک میری نظر نکڑ والی عمارت پر ، لوہے کے مضبوط پائپ کیساتھ لگے، گائناکالوجسٹ کے بورڈ پر پڑی جو کسی پتنگ کی طرح ہلکورے کھا رہا تھا اور تب مجھے پہلی بار اپنے پاؤں کے نیچے، زمین پر ارتعاش سا محسوس ہوا، اس دن میں نے انسانیت کی پہلی مثال اپنی صفائی والی کی ماسی کی صورت میں دیکھی جس کے تسلسل نے آگے بڑھ کر پوری قوم کو یکجا کر دیا، تسبیح کے دانوں کی طرح ایک لڑی میں پرو دیا تھا،
جب وہ میرے دفتر والی گلی میں داخل ہوئیں تو اچانک ہی زلزلے کا شدید جھٹکا لگا، لوگ چیخیں مارتے، گرتے پڑتے، کلمہ طیبہ کا ورد کرتے, درود شریف پڑھتے باہر کو لپکے لیکن ماسی … وہ اپنی جان بچانے کی بجائے اندر کی طرف بھاگیں، میری خاطر، انہیں پتہ تھا کہ میں اندر سویا ہوا ہوں، اب تو ہم اسی گائناکالوجسٹ والی بلڈنگ میں منتقل ہوچکے ہیں لیکن ہمارے دفتر کی وہ پرانی عمارت بہت شکستہ اور سال خوردہ تھی، اتنی ناگفتہ بہ کہ ایک بار میں باتھ روم سے نہاکر، باہر نکل رہا تھا کہ میرے باہر نکلتے ہی بغیر کسی وجہ، باتھ روم کی چھت ہی گرگئی تھی اور میں بال بال بچا، خیر ماسی نے لوگوں کے منع کرنے کے باوجود، اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر زور زور سے دروازہ پیٹنا شروع کر دیا اور جب تک لوہے کی جالی سے مجھے باہر آتے نہ دیکھ لیا، وہیں کھڑی رہیں.
تب تک ہم لاہور والوں کو سات اعشاریہ چھ کی شدت کے اس زلزلے کی ہلاکت خیزیوں کا بالکل بھی اندازہ نہیں تھا، تھوڑی دیر بعد اسلام آباد سے مارگلہ ٹاور گرنے کی خبر آئی تو پوری قوم اسے قومی سانحہ سمجھ کر سوگ میں ڈوب گئی لیکن خیبر پی کے اور آزاد کشمیر میں کیا قیامت گزر گئی تھی؟ اس کا اندازہ بہت بعد میں ہوا، چند شہروں میں مکانات گرنے کی خبروں سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ ہلاکت خیزیوں کی داستان سناتے سناتے تھک گیا، بالا کوٹ صفحہ ہستی سے مٹ گیا تھا، اموات کی سرکاری تعداد بیس ہزار، مظفر آباد کی شاید ہی کوئی عمارت سلامت بچی ہو، سب سے زیادہ نقصان سرکاری عمارتوں میں ہوا، سکول اور کالج ہزاروں معصوم طلباء طالبات کے قبرستان بن گئے تھے، زخمیوں کی تعداد اور لاشوں کا شمار کرنا مشکل ہوگیا تھا
اس کڑے وقت میں پوری قوم آگے بڑھی، بے سر و ساماں اپنے ہم وطنوں کے لئے خیمے، خوراک، ملبوسات اور ادویات کا ڈھیر لگا دیا، زخمیوں کو سنبھالا، لاشوں کی تدفین کی، یہ دنیا کا واحد ریسکیو آپریشن تھا جس میں کروڑوں لوگوں نے کسی نہ کسی طریقے سے لازمی حصہ لیا، شاید پاکستان کے بیس کروڑ عوام نے …. لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اتنی لاشیں تھیں کہ دفنانا مشکل ہوگیا، کفن کم پڑگئے، پاکستانی میڈیا سے شاید سب سے پہلے ایک پشتو چینل کے نمائندے ان دشوارگزار راستوں کو عبور کرکے وہاں پہنچے تھے، انہوں نے وہاں جو دیکھا، اسے بیان کرتے ہوئے ان کا ایک نمائندہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پاتے ہوئے، بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا.
‏8 اکتوبر 2005ء کے زلزلے کو آج چودہ سال گزر گئے لیکن دنیا سے گزر جانے والوں کا غم آج بھی تازہ ہے، وہ مناظر آج بھی آنکھوں کے سامنے گھوم رہے ہیں جب ہر طرف اجل کی حکمرانی تھی
یقینا … زلزلے اور قدرتی آفات اللہ کی طرف سے آتی ہیں، شاید وہ ہم سے ناراض ہوگیا تھا، ہمارے اعمال بھی تو ایسے ہی ہیں لیکن …. ہم اللہ کی رضا پر راضی ہیں، ہم اس سے اپنے گناہوں، غلطیوں اور کوتاہیوں کی معافی چاہتے ہیں، اے رب … تو بہتر جانتا ہے، ہمیں معاف کر دے، ہمارے گناہوں کو بخش دے، ہمیں ناگہانی اموات سے محفوظ رکھ، اے اللہ، 8 اکتوبر کے زلزلہ میں جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت فرما دے، انہیں جنت میں اعلی مقام عطا فرما دے (آمین)

اب آپ بتائیے کہ آپ اس وقت کہاں اور کیا کر رہے تھے اور کیا محسوسات تھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں