قضیہ فلسطین/صمود فلوٹیلا/تحریر/ابوبکر قدوسی
صمود فلوٹیلا کے [ غیر مسلم، خواتین و مرد ] شرکاء کے حوالے سے بعض افراد انتہائی نامناسب طور پر معترض ہوئے ۔۔۔۔
تو اس حوالے سے کچھ امور احباب کے سامنے رکھنا ضروری ہے ۔
📌 ۔۔ یاد رکھیں وہ انسانیت کے ناتے کچھ مظلوم عوام کی مدد کرنے نکلے ہیں نہ کہ ” اسلام کی نصرت کے واسطے” ۔ اور ان کا نکلنا اس لیے مفید ہؤا ہے کہ دنیا بھر کے عوام میں اس سبب مظلومان فلسطین کے لیے ہمدردی ، اعانت کے جذبات پیدا ہوئے ۔
📌 اوائل اسلام میں ایسے افراد کی مدد کو ہمیشہ تحسین کی نظر سے دیکھا گیا بلکہ ان کو محسن جانا گیا اور اس سبب ان کے عقائد کو اپنی جگہ رکھتے ہوئے ممنونیت اختیار کی گئی اور اسی سبب ان کے ذکر میں مہذب انداز و بیان اختیار کیا جاتا ہے ۔۔
اس کی اوّلین مثال ابو طالب کی ذات ہے ، جنہوں نے ہر مرحلے پر رسول مکرم ﷺ کی اعانت کی ، آپ کے آگے ڈھال بن کر کھڑے رہے ، کفار مکہ کے ظلم وبربریت کی مزاحمت کی ۔ حتیٰ کہ شعب بن ہاشم کی محصوری میں مسلمانوں کی ہر اذیت میں شامل رہے ۔
رسول مکرم ﷺ اور بنی ہاشم کو کفار مکہ نے ایک معاہدے کے تحت مکہ کے پہاڑوں کی ایک گھاٹی میں محصور کر دیا اور مکمل معاشرتی بائیکاٹ کر دیا ۔ اور قریش کے بڑے بڑے سرداروں نے اس محصوری کو ایک معاہدے کی شکل میں لکھ کر کعبے کی دیوار پر لٹکا دیا ۔
حکیم بن حزام ہیں کہ جو مسلمانوں کی اسی محصوری خفیہ طور پر اناج گھاٹی میں پہنچاتے ، حتیٰ کہ ایک روز ان کو ابوجہل نے گھیر لیا اور کہا تم ہرگز یہ غلہ بنی ہاشم کے پاس نہیں لے کے جا سکتے ۔ اسی دوران ابوالبحتری بھی چلے آئے ۔۔ پھر وہاں جھگڑا ہوا ، ابوالبحتری نے پاس پڑی اونٹ کی ہڈی ابو جہل کے سر پر دے ماری اوراس کا سر پھٹ گیا ۔۔۔ یہ سب حکیم بن حزام کے قبول اسلام کے پہلے کے واقعات ہیں ۔
یہ محاصرہ جب طول پکڑ گیا تو قریش کے پانچ افراد اسی درد دل کے ساتھ بروئے کار آئے کہ جس درد دل کے سبب آج صمود فلوٹیلا کے مغربی شرکاء نکلے ہیں ۔۔ گویا یہ اسلامی تاریخ کا اوّلین ” صمود فلوٹیلا ” تھا جو اسلام کے اوّلین محصورین کی مدد کو نکلا تھا ۔۔۔
لمبا قصہ ہے بہرحال محصورین شعب بنی ہاشم کے ان معاونین کے نام یہ ہیں
1.ہشام بن عمرو بن حارث
2 ۔ زہیر بن ابی امیہ
3 ۔ مطعم بن عدی
4 ۔ ابوالبحتری بن ہشام
5 ۔ زمعہ بن اسود
ان پانچوں نے مل کر یہ تحریک شروع کی کہ جبر کے اس ضابطے اور صحیفے کو منسوخ کیا جائے ۔۔پھر ابوجہل کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی لیکن اصل مدد اللہ تعالی کی آئی کہ دیمک نے اس معاہدے کو کھا لیا ۔ رسول مکرم ﷺ ابو طالب کو بتایا اور یہ بیا کو وقت یہ خبر اور ان پانچ افراد کی تحریک سے یہ محاصرہ بے اثر ہو گیا اور ان اس تحریک کے ارکان نے اس صحیفے کو کعبے کی دیوار سے اتار کر پھاڑ دیا تب ابو سفیان ابو طالب نے ان لوگوں کی توصیف میں اشعار ہے امام ابن کثیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حسان بن ثابت نے بھی متم بن عدی اور ہشام بن عمر کی مدح و
ستائش میں اشعار بیان کیے ۔۔۔
اسی طرح رسول مکرم ﷺ جب طائف کے سفر سے واپس آئے تب ابو طالب وفات پا چکے تھے کہ جو کفار مکہ کے سامنے آپ کی پناہ گاہ ہوتے تھے ،طائف کے سفر سے واپسی پر آپ نے اپنے ایک ساتھی کو یکے بعد دیگرے دو افراد کے پاس اعلان پناہ کے لیے بھیجا لیکن ان دونوں نے انکار کر دیا۔ عربوں میں کسی کو پناہ میں لینے کا اعلان گویا ایک معاہدہ ہوتا ہے کہ :
” یہ شخص میری حفاظت میں ہے اور کوئی اس کی طرف میلی نگاہ سے نہیں دیکھے گا ۔”
اور اس پناہ کا معاشرتی طور پر احترام کیا جاتا ۔ جب دو افراد نے انکار کیا تو رسول مکرم ﷺ نے مطعم بن عدی کی طرف بھیجا تو اس نے پناہ دینا منظور کرتے ہوئے کہا کہ :
” انہیں کہو تشریف لے آئیں ”
سو آپ نے رات اس کے ہاں بسر کی ۔ اگلی صبح مطعم اور اس کے چھ بیٹے شمشیر بکف ہو کر آپ کے ساتھ نکلے اور بیت اللہ کے صحن میں چلے آئے ۔ رسول مکرم ﷺ کو کہا کہ :
” آپ طواف کیجئے ”
اور خود باپ اور بیٹے تلوار سونت کر مطاف میں کھڑے ہو گئے ۔ [سیدنا] ابو سفیان رض نے دیکھا تو مطعم بن عدی سے پوچھا :
” کیا تم نے ان کو پناہ دی ہے یا اسلام قبول کر لیا ہے ؟”
تو مطعم نے کہا “صرف پناہ دی ہے”۔ تو [سیدنا] ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس پناہ کی اعلانیہ تائید کرتے ہوئے کہا :
” یہ پناہ اور عہد ہرگز نہیں توڑا جائے گا”
گویا مکہ کے دو بڑے سردار حالت کفر میں رسول مکرم کی نصرت اور اعانت کر رہے ہیں ۔۔اور اس نصرت کو قبول کیا گیا ، اور مطعم بن عدی کی وفات پر سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ” میں اس کا مرثیہ پڑھوں
گا۔۔۔۔”. پھر انہوں اشعار کہے ، اور ان اشعار میں مطعم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ :
” تم نے رسول مکرم ﷺ کو پناہ دی اور مطعم اپنے عہد کو پورا کرتا تھا ، بھلے کوئی کتنا ہی دشوار کام ہو ، ۔ اور وہ اپنے ہمسائے کی ذمہ داری پوری کر کے سوتا تھا”
اسی طرح یہی مطم بن عدی تھا کہ جب غزوہ بدر ہو چلا اور قیدی گرفتار کر کے مکہ لائے گئے تو رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس روز بھی مطعم یاد آیا تھا۔۔
کہ جس نے شعب بنی ہاشم کی محصوری کو ختم کروایا ۔ابو طالب کی وفات کے بعد رسول مکرم ﷺ کو اپنی پناہ دی ۔
صحیح بخاری میں روایت ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ،أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ،عَنِ الزُّهْرِيِّ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ،عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ فِي أُسَارَى بَدْرٍ: لَوْ كَانَ المُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا،ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلاَءِ النَّتْنَى لَتَرَكْتُهُمْ لَهُ
جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتے اور ان نجس،ناپاک لوگوں کی سفارش کرتے تو میں ان کی سفارش سے انہیں (فدیہ لیے بغیر) چھوڑ دیتا۔
اس طرح کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں جب رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے سفر کو نکلے عبداللہ بن اریقط کہ جو بنی وائل قبیلے سے تھا اور اس کی والدہ بنی سہم بن بکر سے تھی ۔ یہ مشرک تھا اور بقول امام ابنِ کثیر مشرکین مکہ کے دین پر تھا ۔ لیکن اس نے نہایت دیانتداری سے سفر میں رہنمائی کے فرائض انجام دیے ۔ حالانکہ قریش مکہ نے رسول مکرم ﷺ کی گرفتاری پر سو سرخ اونٹوں کا اعلان کر رکھا تھا ۔
اس طرح بہت سے مزید واقعات دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اور بعد میں عہد صحابہ میں مل جاتے ہیں کہ غیر مسلم ہونے کے باوجود بعض لوگ مسلمانوں کی مدد و نصرت کے لئے نکلے ۔ اور مسلمان ان کے شکر گزار ہوئے ۔
اس عمل کے دوران وہ اپنے عقائد و رسوم و رواج پر بھی کاربند رہے ۔
اسی طرح ایک روز سیدنا ابوبکر صدیق نے رسول مکرم ﷺ سے اجازت لی اور حبشہ کی طرف چل نکلے ابھی ایک یا دو روز کا راستہ طے کیا تھا کہ ان کی ملاقات ابن الدغنہ سے ہوئی ۔ اس نے پوچھا ” ابوبکر یہ کدھر کے ارادے ہیں” تو فرمانے لگے:
” میری قوم نے نکال دیا ،اذیت پہنچائی زندگی مشکل تر ہوتی چلی جا رہی تھی سو نکل آیا” ابن ا لدغنہ نے کہا:
” لوٹ جائیے آپ واپس چلیں آپ میری پناہ میں آگئے ، میں آپ کو پناہ دیتا ہوں” اس پر آپ واپس آگئے ۔
ابن دغنہ نے اعلان کیا کہ
“قریشیو ! سن لو میں نے ابن ابی قحافہ کو اپنی پناہ دی ”
اس پر سیدنا ابوبکر صدیق کا دور ابتلاء کچھ دیر کو رک گیا ۔
آج فلسطین کے مسلمانوں کا دور ابتلا کچھ ایسے افراد کے نکلنے سے رک جاتا ہے تو ہم اس کی تحسین کریں گے اور اس کی تائید کریں گے۔ ۔ یہ تحسین اور تائید ان کے اس عمل کی ہوگی اور اس میں کوئی حرج نہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اوپر بیان کردہ حدیث پر جو باب باندھا ہے وہ گویا ہمارے اس تمام مقدے پر تتمہ ہے۔ ۔ امام نے لکھا ہے :
باب إن الله يؤيد الدين بالرجل الفاجر
باب: اللہ تعالیٰ کبھی اپنے دین کی مدد ایک فاجر شخص سے بھی کرا لیتا ہے۔
قضیہ فلسطین/صمود فلوٹیلا/تحریر/ابوبکر قدوسی