Ismat Usama 0

قضیہ فلسطین اور ٹرمپ پلان/تحریر/سید ذکر اللہ حسنی

قضیہ فلسطین اور ٹرمپ پلان/تحریر/سید ذکر اللہ حسنی

انٹرنیشنل میڈیا عالمی طاقتوں کی زبان جلد سمجھتا ہے اور اکثر اوقات ان کی خواہش کو خبر بنا کر پیش کرتا رہتا ہے۔
ہمارے ہاں رپورٹرز اور قارئین میں مطالعہ کا رجحان نہیں یہی وجہ ہے کہ ہم ہر خبر کو ایک دو دن کی بت سمجھ کر اس پر سیاق و سباق سمجھے بغیر تبصرہ ٹھوک دیتے ہیں۔
حالیہ مسئلہ فلسطین پر ٹرمپ امن فارمولا پر دنیا بھر کی نظریں ہیں۔
اسلامی اور دوسرے اکثر ممالک جیسے تیسے بھی غزہ میں فوری طور پر جنگ روکنے اور انہیں خوراک، صحت وغیرہ کی سہولیات کے بعد تعمیر نو اور دیر پا امن کیلیے ٹرمپ فارمولے کو کچھ کلی اور کچھ جزوی سپورٹ کر رہے ہیں۔
یقیناْ اس امن فارمولے کو کامیاب تب سمجھا جائے گا جب براہ راست متاثرہ فریق یعنی ح م ا س اور ف ل س ط ی ن ی اسے قبول فرمائیں گے۔
ہمارے کراچی کے صحافی بھائی فیض اللہ خان نے بہت آسان انداز میں تازہ ترین پیش رفت پر تبصرہ کیا ہے!
ان کا کہنا ہے کہ “اسلحہ رکھنا ، جلاوطنی اور سرینڈر ہونا بھائیوں کی ریڈ لائن تھی اسے انہوں نے تسلیم نہیں کیا قیدیوں کی رہائی اور نئے انتظامی بندوبست کو مانا ہے اعصاب و سفارت کے کھیل میں تقریباً وہ کامیاب رہے ہیں یاد رہے ہماری حکومت اس معاہدے کی حمایت کرکے پیچھے ہٹی تھی کیونکہ انکی شقیں مسترد ہوگئی تھیں قدسیوں کی بہترین سفارت کاری کا سب بڑا ثبوت غاصب میڈیا کا چیخنا چلانا ہے کیونکہ نے تن یاہو نے دو ٹوک کہا تھا کہ غ ز ہ خالی نہیں کرینگے {بلکہ ضم کرنے کا اعلان کیا تھا }کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھیں گے اور قدسیوں کی مزاحمت کو سرینڈر کرا کر جلاوطن کیا جائیگا ۔۔۔۔۔۔۔
الحمدللہ ، بھائیوں نے یاہو کے خواب چکنا چور کردئیے اب غاصب ریاست کی اندرونی سیاست کا نیا دور شروع ہوگا جسمیں ہمارے واسطے تو کم و بیش سبھی ایک سے آئیں گے مگر اسکا قوی امکان ہے کہ نے تن یاھو کی سیاست اور وزارت عظمیٰ کا خواب ایک بھیانک تعبیر میں بدل گیا ہے”
فی الحال عالمی دہشتگردوں اور انسانی قصائیوں سے جان بچانا اور ایمان، جان، مال، عزت، معیشت، بچانا بہت ضروری ہے۔ اس میں کامیابی ملتی محسوس ہو رہی ہے۔
قضیہ فلسطین اور ٹرمپ پلان/تحریر/سید ذکر اللہ حسنی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں