چلا صمود فلوٹیلا!
( آزاد نظم).
از قلم: عصمت اسامہ ۔
~ظلم و وحشت کی فضا
بربریت کا دھواں
پکار_ اہل_ایماں
سنے کوئی تویہاں
جل گئے اہل_غزہ!
کدھر ہے بھائی چارہ؟
اٹھ گئی یہ صدا
ابر دوش_ہوا
دل سے نکلا ہوا
پیغام پہنچا ہوا
بن گیا سب کی دعا
آندھیوں کا دھواں
اک چراغ جل گیا
غیرت بھڑک کے اٹھی
غم بنا شعلہ نما
چلا صمود فلوٹیلا
سمندروں کی سیاہی پر
ایک نوری قطعہ
استعارہ ہمت کا
انسانیت کی صدا
چلا صمود فلوٹیلا
سرفروش قافلہ
وقت کا عصاۓ موسیٰ
فضاۓ خوف میں راستہ
بحر_ظلمات کا گھوڑا
توڑنے محاصرہ
حضور کی امت کا
بن گیا پاسباں
چلا صمود فلوٹیلا !
چلا صمود فلوٹیلا! ( آزاد نظم) از قلم: عصمت اسامہ