*عنوان: قافلہ صمود فلوٹیلا* *از قلم : حسیبہ انور*
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھ جاے تو چند جری اور باہمت لوگ اٹھتے ہیں ، جو نا صرف انسانیت کا علم بلند کرتے ہیں بلکہ مظلوموں کے لیے امید کی کرن بن جاتے ہیں ۔ قافلہ صمود عالمی سطح پر ” غزہ فلوٹیلا” کے نام سے جانا جاتا ہے ، ایک ایسا جری قدم ہے جس نے دنیا کی خاموشی کو چیر کر مظلوم فلسطینی عوام کی آواز بننے کی کوشش کی ۔ یہ قافلہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے امن پسند الافراد ، انسانی حقوق کے کارکنان ، اور مذہبی رہنماؤں پر مشتمل ایک بحری قافلہ ہے ، جو غزہ کے محصور اور مظلوم عوام تک انسانی امداد پہنچانے نکلا ہے ۔
اس قافلے کا مقصد اسرائیلی محاصرے میں گھرے ہوئے غزہ کے شہریوں کو خوراک ، ادویات اور تعمیراتی سامان اور بنیادی ضروریات زندگی کی امداد فراہم کرنا ہے ۔ اسرائیل نے غزہ پر زمینی ، فضائی اور بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے ، جسکی وجہ سے لاکھوں افراد انسانی بحران کا شکار ہوچکے ہیں ۔
قافلہ صمود صرف ایک امدادی مشن نہیں ، بلکہ یہ حق ، غیرت ، انسانیت ، حریت اور مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کا اعلان ہے ۔ اس نے دنیا کو پیغام دیا کہ فلسطین صرف مسلمانوں کا مسلہ نہیں ، بلکہ یہ انسانیت کا مسلہ ہے ۔
قرآن پاک میں ارشاد!
” اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللّٰہ کی راہ میں ان بے بس مردوں ، عورتوں اور بچوں کےلئے قتال نہیں کرتے ؟ ” ( سورۃ النساء: 75)
قافلہ صمود ایک عہد ہے کہ دنیا کا ضمیر ابھی مکمل مردہ نہیں ہوا ۔ یہ قافلہ ظلم کے خلاف ڈٹ جانے والے ان باہمت باضمیر لوگوں کا ہے ، جو صرف فلسطین نہیں ، بلکہ پوری انسانیت کی امید ہیں ۔
قافلہ صمود ایک پیغام ہے کہ جب انسانیت جاگتی ہے تو وہ ظلم کے سامنے جھکتی نہیں ، بلکہ سینہ تان کر کھڑی ہوتی ہے ۔ یہ قافلہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا ۔ ایک ژندہ ضمیر ، روشن امید ، اور مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کی عظیم مثال کے طور پر ۔
فلسطین زندہ باد — قافلہ صمود پائندہ باد
نبی کریم کا فرمان !
” جو کسی مظلوم کی مدد کرے گا ، اللّٰہ قیامت کے دن اسکی مدد کرے گا ”
یہ قافلہ صرف ایک لمحہ نہیں ہے ، بلکہ ضمیر کی بیداری کا ایک نشان ہے ۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب کوئ قوم یا انسان سچائی اور حق کے لیے کھڑا ہوتا ہے ،تو وہ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کا بھی سامنا کرسکتا ہے ۔ چاہے وہ بحری طوفان ہوں ، یا ڈرون اٹیک ۔ ظالم کی دھمکیاں ہوں ، یا پھر ناکہ بندی ۔ ان سب کے باوجود ایک ہی مشن ۔
کہ ظلم کے خلاف لبیک کہنا ہی اصل انسانیت ہے ، غزہ کے مظلوم عوام آج بھی ہمیں پکار رہے ہیں ۔ اور شاید آج ہمیں ایک نئے قافلے ، ایک نئی امید اور ایک نئی جرآت کی ضرورت ہے ۔
فلسطین ، تیرے ساتھ ہیں ھم — جب تک ظلم
باقی ہے قافلہ صمود رواں دواں رہے گا ۔
قرآن پاک میں ارشاد!
” انصاف پر قائم رہو اور اللّٰہ کے لیے گواہی دو ۔ ” ( سورۃ النساء: 135)
یہ قافلہ ایک واقع نہیں ، ایک تحریک ہے ۔ یہ یاد دہانی ہے کہ ظلم کے مقابلے میں خاموشی بھی جرم ہے ۔ جو لوگ غزہ کی ناکہ بندی توڑنے نکلے ، وہ صرف کشتیوں پر نہیں سوار ، وہ انسانیت ، حریت اور غیرت کا پرچم تھامے ہوئے ہیں ۔ یہ قافلہ رک نہیں سکتا ، کیوں کہ جب تک ظلم باقی ہے صداۓ حق بلند ہوتی رہے گئ ۔
فلسطین زندہ باد — مظلوموں کے حامی سر خرو ۔