،،،آزادی پاکستان کا فلسفہ،،،،تحریر: جلال الدین الدیامری
واضح رہے کہ پاکستان کی آزادی صرف سرحداتی اور جغرافیائی تقسیم پر مبنی نہیں کہ ہندوستان سے صرف زمین کا الگ ٹکڑا حاصل کیا گیا ہو ، بلکہ آزادی پاکستان اسلامی اور مذہبی آزادی کو بھی شامل ہے۔
تحریک آزادی پاکستان کا اغاز۔۔۔
مسلم کمیونٹی کیلئے ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی قیام کا تصور تقریبا (1857ء) کی جنگ آزادی کے بعد ہی شروع ہوچکا تھا، بالخصوص جب انگریز نے جنگ آزادی کے بعد خاص طور پر مسلمانوں کو تعلیمی اور معاشی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کی ، تو مسلم رہنماؤں نے مسلمانوں کی جدید تعلیم و تربیت کے لئے اپنے اپنے طور پر کوششیں کیں ،،،،،،
چنانچہ سر سید احمد خان نے ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھی جہاں مسلم نوجوانوں کو جدید تعلیم اور مغربی تہذیب سکھائی جائے ، اس مقصد کیلئے موصوف نے علی گڑھ یونیورسٹی قائم کی۔
دوسری طرف ایک عالم دین ، اور اسلامی پیشوا مولانا قاسم نانوتوی رح نے ایک ایسے ادارے کا قیام چاہا ، جہاں مسلمانوں کو دین ، اور مذہب، کی تعلیم دی جائے ، مغرب اور مغربی تہذیب سے دور رکھا جائے ۔ 1866ء میں مولانا نے اس عظیم مقصد کیلئے دارالعلوم دیوبند جیسے عظیم ادارے کی بنیاد رکھی۔
1867ء میں جب ہندوؤں نے اردو کی جگہ ہندی زبان سرکاری طور پر نافذ کرنے کی کوشش کی ، تو اس وقت سر سید احمد خان نے کہا تھا کہ ہندوؤں نے تفریق میں پہل کردی ہے، اب مسلم ہندو اتحاد کی کوشش ناکام ہوگی ۔
“کانگریس اور مسلم لیگ”
یہ دونوں سیاسی تنظیمیں تھیں ، دونوں کے مقاصد و اہداف اور مؤقف جدا جدا تھے ، کانگریس کی قیادت ہندو اور مسلم لیگ کی قیادت مسلم رہنماؤں نے کی ۔
کانگریس 1885ء میں بنی ، اور اس کا مقصد پاک و ہند اتحاد تھا ، یہ تنظیم چاہتی تھی مسلم اور ہندو دونوں متحد ہوکر ہندوستان میں رہیں، ہندوستان تقسیم نہ ہو ، اسی نظریئے کی تائید کچھ علماء نے بھی کی جن کے سرخیل مولانا حسین احمد مدنی رح تھے ۔
جبکہ مسلم لیگ 1906ء میں بنی ، اور اس کا مقصد مسلمانوں کیلئے الگ ریاست قائم کرنا تھا ، ان کا مؤقف یہ تھا کہ پاکستان بننا چاہیے ، اس تنظیم میں بھی علماء شامل تھے ، جن میں سر فہرست مولانا شبیر احمد عثمانی اور ان کے رفقاء شامل ہیں ۔
“تحریک ریشمی رومال”
پہلی جنگ عظیم کے بعد مولانا محمود حسن دیوبندی کے دل میں خیال آیا کہ اب اگر مسلمان اپنی آزادی کیلئے کوشش کریں تو کامیابی مل سکتی ہے ، چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کی آزادی کیلئے باقاعدہ تحریک کا آغاز کیا اور اپنے شاگردوں کو مختلف مقامات پر تشکیل کیا ، جس کی وجہ سے شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی گرفتار ہوکر مالٹا کے جیل پہنچے ، اور قید و بند کی صعوبتیں اپنے نام کردیں ، بالآخر تین سال کی قید بعد رہائی ملی اور رہائی کے تقریبا چھ ماہ بعد (1920ء) کو تحریک آزادی کا یہ ستارہ بجھ گیا ، اور خالق حقیقی سے جا ملے ۔
لکھنے والے نے بھی پھر کمال لکھا کہ :
بنا کر دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را ۔
اسی دوران میثاق لکھنؤ ، تحریک خلافت ، اور نہرو رپورٹ ، کے مراحل بھی گزرے۔
” علامہ اقبال کا خطبہ الہ آباد “
1030 کو علامہ اقبال نے اپنے خطبہ میں کہا کہ ہندوستان میں تقریبا 480 زبانیں بولی جاتی ہیں ، اور ان میں مسلمان اپنی الگ شناخت اور زبان رکھتے ہیں ، لہذا مسلمانوں کو بھی حق ہے کہ ان کی بھی الگ حکومت ہو ، اور فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ سندھ ، سرحد ، پنجاب ، اور بلوچستان ، کو ملاکر مسلمانوں کیلئے الگ ریاست کا انتظام ہونا چاہئے ۔
اقبال ،،،،،، کے اس خطبے کے بعد چودھری رحمت علی نے ، پنجاب سے “پ” سندھ، سے “س” افغان (سرحد) سے “الف” کشمیر سے “ک” اور بلوچستان سے “تان” لیکر پاکستان کا نام تجویز کیا ، اور اپنے ساتھیوں سے ملکر ایک زبردست پمفلٹ “Now or never ” اب نہیں تو کبھی نہیں کے نام سے شائع کیا ، اس پمفلٹ میں پاکستان کا مطالبہ بھی پیش کیا گیا ، جو اب چاروں صوبوں پر مشتمل پاکستان ہمارے پاس ہے۔
1937ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نے زبردست کامیابی حاصل کی ، اور کئ وزارتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ، جو آزادی پاکستان کیلئے راہ کرنے کا بہترین موقع کے طور پر ثابت ہوا ۔
اور پھر 1940 کو لاہور میں مسلم لیگ کا اجلاس ہوا جس میں قرار لاہور منظور ہوئی ، اور پھر یہی تحریک قدم جمانے لگی بالآخر 14 اگست 1947 کو پاکستان ایک آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔
14 اگست یوم آزادی اور ہماری ذمہ داری،،،،
تحریک آزادی پاکستان “” کی مختصر جھلک کے بعد یقینا سب کو اندازہ ہوگیا ہوگا یہ ملک صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ، بلکہ تاریخ پاکستان ہمیں بتاتی ہے کہ اس ملک کی آزادی ، مذہبی اور اسلامی آزادی پر مشتمل ہے ، کہ یہاں مسلمان آزادی کے ساتھ اللہ کی عبادت اور رسول اللہ کی اطاعت کرسکیں ، مگر صد افسوس کہ یہ ملک ابھی تک اپنی منزل کی دہلیز پر ہے ، منزل حقیقی تک پہنچ نہیں پایا ۔
اور نہ ہی یہ ملک خوابوں میں ، اور مذاکرات کے ٹیبل پر مذاکرات جیت کر حاصل کردہ ہے ، بلکہ اس ملک کے حصول کیلئے لاکھوں ، بزرگوں ، جوانوں ، ماؤں بہنوں ، اور بیٹیوں ، نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ، خون بہایا گیا ، بہنوں ، اور بیٹیوں ، کی عزتیں پامال ہوئیں ، مائیں روتی رہیں ، باپ بے بس دیکھتے رہے ، علماء کو خنزیر کی کھال میں باندھ کر جلایا گیا ، درختوں پر باندھ کر علماء کے گلے کاٹے گئے ، اکابرین ، اور بزرگوں کی ان تمام قربانیوں کے باوجود آج ہم ، آزادی ، منانے کے نام پر ناچتے ہیں ، آورہ گردی کرتے ہیں ، باجے بجاتے ہیں ، جو ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔
البتہ ؛ کمی کوتاہی اپنی جگہ لیکن اس ملک کی آزادی بھی کسی نعمت عظمیٰ سے کم نہیں ، اور نعمت پر شکر بجا لانے کا حکم ہے ، ناشکری اور ناقدری سے ممانعت ہے ؛ لہذا ہمیں چاہئے کہ یوم آزادی ،
اللہ کی عبادت ، قرآن کی تلاوت ، اور ذکراللہ کے حلقے ، رب کے حضور سجدے ، اور شکرانے کے نوافل پڑھ کر منائیں، نہ کہ فحاشی ، عریانی ، اور نافرمانی کے ساتھ ۔
اللہ ہم سب ہدایت نصیب فرمائے ، آمین ثم آمین ۔
اخوکم: جلال الدین الدیامری