0

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس مبارکہ / تحریر / معلمہ صبیحہ خانم / کراچی

تحریر / معلمہ صبیحہ خانم / کراچی

السلام و علیکم ورحمتہ وبرکاتہ!

عنوان!
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس مبارکہ۔

حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس وہ ہستی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ کی شخصیت کا ہر پہلو سراپا نور ہے، اور آپ کی سیرت انسانیت کے لئے کامل نمونہ ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے مفکرین، فلسفی اور رہنما تاریخ کے صفحات پر روشنی بکھیرتے ہیں، مگر وقت کے ساتھ ان کی باتیں اور اثرات ماند پڑ جاتے ہیں۔ لیکن اللہ کے محبوب، خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات آج بھی اسی طرح زندہ اور تازہ ہیں جس طرح چودہ سو سال پہلے تھیں۔

آپ ﷺ کی شان یہ ہے کہ قرآن پاک نے آپ کو “رحمۃ للعالمین” قرار دیا۔ یعنی نہ صرف مسلمانوں کے لئے، بلکہ پوری انسانیت کے لئے رحمت۔ آپ نے نہ کسی نسل کو حقیر جانا، نہ کسی قوم کو کمتر سمجھا۔ عرب کے صحراؤں میں پھیلی جہالت، ظلم اور اندھیروں میں آپ ﷺ نے انسانیت کو روشنی عطا کی۔ آپ کے اخلاق اتنے بلند تھے کہ قرآن نے گواہی دی: “اور بیشک آپ بلند اخلاق کے مالک ہیں”۔

حضرت محمد ﷺ کی زندگی کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ آپ کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ آپ نے جو کہا، وہ کر کے دکھایا۔ جب ایمان کی دعوت دی تو خود سب سے پہلے ایمان لے آئے، جب صبر کی تلقین کی تو سب سے زیادہ صبر کیا، جب عدل و انصاف کی بات کی تو اپنی ذات کو بھی اس کے تابع کر دیا۔ ایک دفعہ ایک عورت کا مقدمہ آیا جس میں اس کا جرم ثابت تھا۔ کچھ لوگوں نے سفارش کی کہ سزا نہ دی جائے کیونکہ وہ قریش کی معزز خاندان سے ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “اگر میری بیٹی فاطمہ بھی یہ جرم کرتی تو میں اسے سزا دیتا”۔ یہ وہ عدل ہے جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔

آپ ﷺ کی شفقت کا عالم یہ تھا کہ بچے آپ کو دیکھ کر لپٹ جاتے۔ یتیموں کو آپ نے پناہ دی، غلاموں کو عزت دی، عورتوں کو مقام دیا اور بڑوں کو احترام۔ دشمنوں کے لئے بھی دل میں نفرت نہیں رکھی۔ طائف کے سنگ باری کرنے والے جب بددعا کے لائق ہوئے، تو آپ ﷺ نے ان کے لئے ہدایت کی دعا کی۔ احد کے میدان میں جب آپ زخمی ہوئے، تو بھی یہی فرمایا: “اے اللہ! میری قوم کو بخش دے، یہ جانتے نہیں”۔

دنیاوی معیار کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو آپ ﷺ نہ بادشاہ تھے، نہ سلطنتوں کے مالک۔ لیکن اس کے باوجود آپ کی عظمت کے آگے قیصر و کسریٰ کے تاج جھک گئے۔ آپ کے پیغام نے غلاموں کو سردار بنا دیا، بکھری قوموں کو ایک جھنڈے تلے جمع کر دیا، اور عرب کے بے آب و گیاہ ریگستان کو علم و تہذیب کا گہوارہ بنا دیا۔

حضرت محمد ﷺ کی شان کا یہ عالم ہے کہ آپ کے ذکر سے دل کو سکون ملتا ہے، آپ کی سنتوں پر عمل کرنے سے زندگی سنور جاتی ہے، اور آپ کی محبت کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ ایک صحابی نے پوچھا: “یارسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی؟” اس نے کہا: “میرے پاس زیادہ عبادت نہیں، مگر اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے۔” آپ ﷺ نے خوشخبری دی: “انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے”۔

یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے مسلمان آپ کی یاد میں آنکھیں نم کرتے ہیں، آپ کی مدح میں نعتیں پڑھتے ہیں، اور آپ کی تعلیمات کو مشعلِ راہ بناتے ہیں۔ آپ کی شان الفاظ سے بیان نہیں کی جا سکتی، کیونکہ آپ کی زندگی ہر اعتبار سے کامل اور بے مثال ہے۔

آج کی دنیا میں جہاں نفرت، خود غرضی اور ظلم بڑھ رہا ہے، وہاں اگر سکون اور انصاف کی تلاش ہے تو صرف اور صرف نبی کریم ﷺ کی سیرت میں۔ آپ نے ہمیں سکھایا کہ امیر و غریب، گورا و کالا، عربی و عجمی سب برابر ہیں۔ فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔ آپ نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ طاقتور کمزور کا محافظ ہے، نہ کہ اس پر ظلم کرنے والا۔

حضرت محمد ﷺ کی شان یہ بھی ہے کہ آپ صرف ایک دور کے نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے ہر دور کے رہنما ہیں۔ آپ کی تعلیمات وقت اور حالات کے پابند نہیں۔ قرآن پاک اور سیرتِ نبوی ہر دور میں انسانیت کو روشنی عطا کرتے رہیں گے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ اگر دنیا امن چاہتی ہے، انسانیت بھائی چارہ چاہتی ہے، دلوں کو سکون چاہیے اور معاشرہ عدل و انصاف چاہتا ہے تو اس کا راستہ صرف ایک ہے: حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کو اپنانا۔ آپ ﷺ کی محبت دل کو جِلا دیتی ہے، آپ کی اطاعت زندگی کو نکھار دیتی ہے، اور آپ کی اتباع آخرت کو سنوار دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی معنوں میں نبی کریم ﷺ کی سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہوں۔ آمین۔

معلمہ صبیحہ خانم
کراچی ۔ بروز پیر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں