0

پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیاں اور تنخواہوں کے مسائل/تحریر/خواجہ مظہر صدیقی

پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیاں اور تنخواہوں کے مسائل/تحریر/خواجہ مظہر صدیقی

یہ آج صبح سویرے پیش آنے والے ایک واقعہ کا ذکر ہے ۔ صبح پونے چھ بجے میں گھنٹہ گھر سے کچہری روڈ کے راستے کچہری چوک کی طرف جا رہا تھا ۔ تکہ اپنے دوست کی والدہ اور بھائی کو وہاں سے لے سکوں۔ راستے میں ایک معروف پلازے کے مرکزی گیٹ کے باہر میری نظر ایک سیکورٹی گارڈ پر پڑی جو اپنی کرسی پر سو رہا تھا۔ اس نے اپنے چہرے پر ایک رومال ڈال رکھا تھا۔ میں نے اسے نظر انداز کیا اور آگے بڑھ گیا۔

گزری شب میرے ایک عزیز دوست، جو ایک سوفٹ ویئر کمپنی میں جاب کرتے ہیں، نے لاہور سے فون کر کے بتایا تھا کہ اس کے بھائی اور والدہ صبح سویرے علی پور سے ملتان آ رہے ہیں۔ سیلاب نے ان کا سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔ اس نے کہا تھا: “دو دن انہیں اپنے پاس رکھ لو، میں ویک اینڈ پر آ کر انہیں لاہور لے جاؤں گا۔”

جب میں کچہری چوک پہنچا تو میرے دوست کی والدہ اور بھائی شریف پلازہ کے باہر میرا انتظار کر رہے تھے۔ میں نے انہیں کار میں بٹھا کر ایم ڈی اے چوک لے گیا، جہاں ایک ریستوران میں ہم نے ناشتہ کیا۔ وہ دونوں سخت پریشان اور دل گرفتہ تھے۔ ماں جی بار بار کہہ رہی تھیں کہ یہ آفت ہمارے گناہوں کی سزا ہے۔ میں نے حوصلہ دیا اور کہا کہ ان شاءاللہ حالات بہت جلد بہتر ہو جائیں گے۔

واپسی پر جب ہم دوبارہ اسی پلازے کے سامنے سے گزرے تو میری نظر پھر اسی گارڈ پر پڑی۔ اب وقت سوا سات بجے کا تھا۔ میں نے گاڑی روکی، اس کی تصویر بنائی اور پھر پیار سے اسے جگایا۔ اس نے چہرے پر سے رومال ہٹایا تو وہ ایک پینتیس برس کے قریب خوبصورت نقوش والا شخص نظر آیا۔ بات چیت سے معلوم ہوا کہ وہ شاہ جمال کا رہائشی ہے۔ بارہ بارہ گھنٹے کی دو جگہ ڈیوٹی کرتا ہے۔ دو بیٹیاں، بوڑھے والدین اور ایک بہن کی کفالت اس کے ذمے ہے۔

اس نے بتایا کہ دونوں نوکریوں سے بمشکل چالیس ہزار روپے بنتے ہیں۔ نہ آرام کا وقت ملتا ہے اور نہ اچھٹی۔ خوشی ہو یا غم، اگر ایک دن کی رخصت لیں تو اگلے دن نوکری سے جواب مل جاتا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی ادارے سے تربیت یافتہ نہیں لیکن دس برس سے پرائیویٹ طور پر چوکیداری کر رہا ہے اور یونیفارم بھی پلازے کے صدر نے دی ہے۔

میں نے کہا: “آپ کئی گھنٹوں سے سو رہے تھے، یہ تو درست بات نہیں ہے۔” وہ شرمندہ لہجے میں بولا: “کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے، گھر جا کر آرام کا وقت ہی نہیں ملتا۔”

یہ سن کر میرا دل بھر آیا۔ میں وہیں سے، جہاں اپنے مہمانوں کو ناشتہ کروایا تھا، پارسل کی صورت میں حلوہ پوری، پانی اور چائے لایا اور اسے پیش کیا۔ ساتھ ہی میں نے اسے اپنے ایک عزیز دوست کا فون نمبر دیا جو ایک بڑی سیکورٹی کمپنی چلا رہے ہیں۔ وہ ملتان کے سب سے اچھے سیکورٹی سروسز پرووائیڈر ہیں۔ میں نے کہا: “میرے دوست تمہیں ایسی نوکری دیں گے جس کی ڈیوٹی دس گھنٹے سے زیادہ نہیں ہو گی اور تنخواہ بھی چالیس ہزار سے زائد ملے گی۔”

پھر میں اپنی گاڑی کی طرف لوٹ آیا جہاں میرے مہمان میرا انتظار کر رہے تھے۔

اکثر میں مختلف جگہوں پر سیکورٹی گارڈز کو ڈیوٹی پر اونگھتے یا سوتے یا موبائل فون میں مصروف دیکھ کر دل ہی دل میں سخت غصہ کرتا تھا۔ لیکن آج پہلی بار ان کے سونے کی اصل وجہ سامنے آئی۔ اور میرے دل کو ایک عجیب سا اطمینان نصیب ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں