سیلاب کی تباہ کاریاں/تحریر/بلال ترکایک تباہ حال مکان کے ملبے پر بکھرے بچے کھچے سامان کے بیچ یہ بربادی دیکھتے ہوئے میں سوچ رہا تھا زندگی کی سب سے بڑی ویرانی وہ ہوتی ہے جب برسوں کی محنت اور خواب لمحوں میں مٹی کے ڈھیر میں بدل جائیں،
مکانوں کو گھر بننے میں عمریں بیت جاتی ہیں چھوٹی چھوٹی بستیاں آباد ہونے میں بڑے بڑوں کی زندگیاں تمام ہو کر خاک میں مل جاتی ہیں کچی بستیوں کے مکین کیسی مشقتوں سے اینٹ اور گارا جوڑ کر سر چھپانے کا یہ آسرا بناتے ہیں ،کئی برسوں کا خون پسینہ بہتا ہے تبھی ایک گھر تکمیل کو پہنچتا ہے۔
یہ بستر ، چادریں ، کپڑے یہ سب ان ہنر مند عورتوں کی کڑی دھوپ میں کی گئی ریاضتوں کے بعد خریدی گئی متاع ہوتی ہیں وہ عورتیں جو گھربار سنبھالنے کے بعد کھیتوں میں جاتی ہیں، مٹھی بھر اجرت پر دن لٹاتی ہیں وہ سینت سینت کے پیسے جوڑتی ہیں
خواب بُنتی ہیں گھر سنوارتی ہیں ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے پیچھے دنوں، مہینوں کی محنت پوشیدہ ہوتی ہے۔
پروردگار!
تو “کن” کہنے پر قادر ہے تو جانتا ہے ان کمزور ہاتھوں کی تھکن ان آنکھوں کی لالی، ان دلوں کی امید تو نے دیکھا تھا نا کہ یہ بستیاں برسوں میں بسیں ، لمحوں کے کن فیکن سے آباد نہیں ہوئیں تو لمحوں میں اجڑ کیوں گئیں؟؟
یہاں کھڑا انسان سوچنے سے محروم ہو جاتا ہے دل چیختا ہے، جیسے کوئی بچہ اپنی محنت سے بنایا ریت کا گھر ٹوٹ جانے پر بلک پڑے ، یہاں بھی فرد چیخنا چاہتا ہے لیکن اگر چیخیں بھی تو ان کی صدا انہی ملبوں میں دفن ہو جانی ہے۔
یہاں ایک صدمہ نہیں صدمات ہیں خدایا یہاں سب اجڑ چکا ہے ازسر نو ترتیب کےلیے کوئی پونجی جمع رہی نہ ہمت۔۔۔!
خالی ہاتھ خالی پیٹ یہ لوگ تہی داماں ہو چکے امیدوں کے چراغ جلائیں بھی تو کہاں سے ؟ کہ پھر سے آباد ہونے میں برسوں بیت جائیں گے اور عمر یونہی تمام ہو جائیں گی ۔
میں یہاں آ کر دیکھتا ہوں سوچتا ہوں یونہی تو آنسو نہیں چھلک آتے یہ برسوں کی محنت ملبوں میں مل جانے کا نوحہ ہوتے ہیں۔۔!