
زندگی کا ایک اور یادگار دن/تحریر/خواجہ مظہر صدیقی
گزشتہ دو دن علی پور اور سیت پور (ضلع مظفرگڑھ) کے سیلاب متاثرین کی مدد میں گزرے۔ یہ دو دن خدمت، محبت اور احساس کے وہ لمحات تھے جو ہمیشہ یاد رہیں گے۔ ارتقاء آرگنائزیشن پاکستان کی پندرہ رکنی ٹیم نے انسانی ہمدردی کے اس سفر کو انتہائی بہترین انداز میں مکمل کیا۔
اس موقع پر 200 متاثرہ خاندانوں کو فوڈ سپورٹ پیکج دیے گئے، جب کہ 700 خواتین و حضرات کو چکن بریانی اور چکن قورمہ کے ساتھ خصوصی لنچ پیش کیا گیا۔ معصوم بچوں کے لیے مچھر دانیاں، مچھر سے بچاؤ کے لوشن، جوتے اور کپڑے تحائف میں دیے گئے۔ انتہائی غریب اور بے سہارا متاثرین کے درمیان ڈیڑھ لاکھ روپے نقد بھی تقسیم کیے گئے۔ ساتھ ہی متاثرہ افراد کے حوصلے بلند کرنے کے لیے ہمت اور امید سے بھرپور کہانیاں بھی سنائی گئیں۔
سیت پور میں قیام کے دوران ایک نہایت رقت انگیز لمحہ بھی آیا جب مقامی افراد کے مطابق، سیلابی پانی کے باعث ایک روز قبل کشتی الٹنے سے ڈوبنے والے بچے کی نعش ریسکیو ٹیموں نے ارتقاء وفد کی موجودگی میں برآمد کی۔ یہ منظر سب کے دلوں کو غمگین کر گیا اور سب نے اس معصوم بچے کے لیے دعا کی۔
اس عظیم خدمت میں شریک ٹیم کے ارکان میں علامہ عبد الستار، بلال حمید، ملک محمد یوسف، ڈاکٹر عبد القدیر رانا، ڈاکٹر کامران اشفاق، ڈاکٹر اکرم ہریری، ڈاکٹر افتخار گیلانی، مظہر صدیقی، فہیم چغتائی، اقبال خان، میر اسامہ، عبدالصبور شاہین، فرخ آفتاب، اے ڈی جٹ اور مشہود صدیقی شامل تھے۔ یہ قافلہ بروز ہفتہ دوپہر ایک بجے ارتقاء کے مرکزی سیکرٹریٹ ملتان سے روانہ ہوا تھا اور آج رات گیارہ بجے واپس پہنچے گا۔
ان دو دنوں کی یہ خدمت اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ مشکل کی گھڑی میں دوسروں کے لیے محبت، ہمدردی اور ایثار کا جذبہ ہی اصل سرمایہ ہے۔ انسانی خدمت کی یہ کاوش نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر مرہم بنی بلکہ ہماری ٹیم کے دلوں کو بھی سکون، خوشی اور روحانی اطمینان بخش گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کے لیے جینے کا نام ہی زندگی ہے ۔