
خواتین کے بالوں کے مسائل/تحریر/جویریہ ساجد
میں نے اپنے بالوں پر شروع سے بہت تجربات کیے پرمنگ کروانے سے شروع ہوئی گھونسلہ نما بالوں کا چھتا بنوا لیا۔
اس کے بعد چھ بار سٹریکنگ کروائیں پہلے تو ہوتی بھی کٹ ڈاون کے ساتھ تھیں۔
ایک بال سفید نہیں تھا تبھی سے فیشن ڈائی لگوائے کلر بدلنے کو ڈارک براؤن سے بوریت۔
کئی بار بال سثریٹ کروانے کو ریبونگ کروائی۔
کوئی پنگا چھوڑا نہیں ہر بار سب باتیں سناتے ستیاناس کروا لیا بالوں ( چھتے ) کا
ایک بال نہیں بچے گا خراب ہو جائیں گے
جب خراب ہونے کا ٹائم آیا تو کیرٹن ٹریٹمنٹ آ گئے چلو جی بال بہترین ہو گئے۔
ہمارے یہاں لوگوں کو دوسروں کو ڈرانے کا چسکا ہے نا خود کھل کے سانس لو نا دوسرے کو لینے دو۔ او بھائی! بڑھاپے میں جا کے بندہ ویسے چاہتا ہے کہ کم بال ہوں تاکہ آسانی سے سنبھالے جائیں تو جو عمر گزر رہی ہے اس میں شوق پورے کر لیں بال بچا ںچا کے رکھ کے کیا کرنا ہے۔
ساری عمر خود ہر غیر ضروری پابندیاں لگا لگا کے ہم گھٹن کا شکار ہو جاتے ہیں اور اسی گھٹن کے تحت دوسروں کو نوچتے ہیں۔
پچھلے دنوں یہ بات ایک کینسر سروائیور دوست سے ڈسکس کر رہی تھی تو وہ کہنے لگی کہ میرے لمبے گھنے ساری عمر بچا کے رکھے بال کیمو میں سب اتر گئے۔
اب آئے ہیں تو سب شوق پورے کر رہی ہوں۔
اللہ سب کو موذی بیماریوں سے بچائے مگر ایک سے ایک ایڈوانس چیز ایجاد ہو جاتی ہے بالوں کے اتنے اچھے ٹرٹمنٹ آ گئے ہیں کہ سارے خطرناک تجربات کے باوجود بال پہلے سے زیادہ اچھے ہیں۔
اس لیے کھل کے جئیں خدشات سے پاک ہو کر شوق پورے کریں نا بال ڈائی کرنا گناہ ہے نا ری بونڈنگ کروانا نا سٹریکس کروانا۔ اپنے آپ کو اپنی فریش نیس اور اچھا محسوس کرنے کے لیے خوبصورت بنائیں۔
خدشات کا شکار ہو کر دل کو اس چیز پر نا ماریں جس پر پابندی نہیں ہے۔