
بے سہارا کی دعا اور بددعا
تحریر،محمدعبداللہ نقشبندی
میرا ایک دوست ہے، جب بھی سفر سے واپس آتا ہے تو اپنی روداد مجھے ضرور سناتا ہے۔ اس بار بھی لمبا سفر کرکے لوٹا۔ اسلام آباد، گوجرانوالہ اور لاہور کی خاک چھان کر آیا تھا۔ حسبِ عادت میرے پاس آ بیٹھا۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا: ’’جی سناؤ، سفر کیسا رہا؟‘‘وہ کچھ لمحے چپ رہا پھر گہری سانس لیتے ہوئے بولا: ’’بھائی، اس بار ایک واقعہ نے دل پر بڑا بوجھ ڈال دیا۔‘‘میں نے چونک کر پوچھا: ’’کیا ہوا؟‘‘
وہ کہنے لگا: ’’میں اسلام آباد سے گوجرانوالہ کے لیے بس اڈے پر پہنچا۔ ٹکٹ پہلے ہی لے چکا تھا، اس لیے مقررہ وقت سے ذرا پہلے انتظار گاہ میں جا بیٹھا۔ ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ ایک باپردہ سائلہ آ کر سب کو ایک ایک سفید کاغذ دینے لگی۔ مجھے بھی دیا۔ میں نے کھولا تو اس پر لکھا تھا کہ ’میری والدہ سخت بیمار ہیں، ان کے علاج کے لیے مدد درکار ہے۔‘
کچھ دیر بعد وہی سائلہ واپس آئی تو دیکھا کہ میرے سامنے دو آدمی بیٹھے تھے۔ ایک نوجوان اور ایک ادھیڑ عمر۔ وہ لڑکی خاموشی سے ان کے سامنے کھڑی رہی۔ مگر بجائے ہمدردی کرنے کے، ان دونوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ قہقہے لگا کر اس کی بے بسی پر ہنسنے لگے۔‘‘یہ کہتے ہوئے دوست کی آواز رُک گئی، جیسے لفظ اس کے گلے میں اٹک گئے ہوں۔ پھر بولا: ’’بھائی، وہ بےچاری پلک جھپکائے بغیر ان کے طعنوں کو سہتی رہی۔ آنکھوں میں کرب لیے کچھ لمحے رکی، پھر آہستہ آہستہ دوسری طرف چلی گئی۔ جن کے دل نرم تھے، انہوں نے خاموشی سے کاغذ کے اندر کچھ رقم رکھ دی اور واپس اس کے ہاتھ پر دے دیا۔‘‘
میرے دوست نے دوبارہ سانس بھری اور کہا: ’’اب تو بتا بھائی! کسی مجبور انسان کا یوں مذاق اڑانا کیا اللہ کے عذاب کو دعوت دینا نہیں؟ بے شک آپ مدد نہ کریں، مگر کسی کی بے بسی پر ہنسنا کہاں کی انسانیت ہے؟ کون جانتا ہے کہ کل حالات پلٹ جائیں اور ہم خود اسی کرب میں گرفتار ہو جائیں۔‘‘یہ کہتے کہتے اس کی آواز بھر آئی۔ میں نے اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھے۔ کچھ دیر خاموش رہا، پھر اسے تسلی دیتے ہوئے کہا: ’’چلو، ایک کام کرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو میں خود یہ نیت کرتا ہوں کہ کبھی کسی سائل یا سائلہ کا مذاق نہیں اڑاؤں گا۔ اور دوسرا یہ کہ تمہاری یہ روداد میں اپنے دوستوں تک پہنچاؤں گا۔ تاکہ وہ بھی یہ عہد کریں کہ آج کے بعد کسی مجبور کا مذاق نہیں اڑائیں گے۔‘‘
یہ سنتے ہی دوست کی آنکھوں میں نمی کے ساتھ چمک آ گئی۔ اس کے چہرے پر ایک سکون سا پھیل گیا، جیسے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہو۔
میں نے دل ہی دل میں دعا کی: ’’اللہ ہمیں دوسروں کی تذلیل سے بچائے اور دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والا دل عطا فرمائے۔‘‘