0

فرعون وقت نیتن یاہو/صریرِ قلم/تحریر محمد ہارون قلاتی

فرعون وقت نیتن یاہو/صریرِ قلم/تحریر محمد ہارون قلاتی

فرعون ایک ای لفظ ہے جو تکبر ، سرکشی ، شر اور فساد کی علامت ہے ۔ بنی اسرائیل میں ایک بادشاہ اسی نام سے مشہور ہوا جسے اسکی طغیان ، خود کو خدا کہنے اور غرور کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا : اور فرعون بولا اے درباریو! میں تمہارے لیے اپنے سوا کوئی خدا نہیں جانتا تو اے ہامان میرے لیے گارا پکا کر ایک محل بنا کہ شاید میں موسیٰ کے خدا کو جھانک آؤں اور بےشک میرے گمان میں تو وہ جھوٹا ہے اور اس نے اور اس کے لشکریوں نے زمین میں بے جا بڑائی چاہی اور سمجھے کہ اُنہیں ہماری طرف پھرنا نہیں تو ہم نے اُسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا تو دیکھو کیسا انجام ہوا ستم گاروں کا(القصص:38-39)
مفسرین کے مطابق، فرعون کو نجومیوں نے بتایا کہ بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہوگا، جو تیری حکومت کے خاتمے اور تیرے زوال کا باعث بنے گا۔ فرعون زمین پر خدائی کا دعویٰ رکھتا تھا۔ اس نے کچھ دیر سوچا اور اعلان کیا کہ بنی اسرائیل میں کوئی بچہ پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس کے بعد تاریخ کا بدترین عمل شروع ہوا، جس میں فرعون کے کارندے گھر گھر جاتے اور دیکھتے، اگر کسی عورت میں حمل کے آثار ہوتے تو فوراً اسے ضائع کرا دیا جاتا۔ کہتے ہیں کہ فرعون نے بچوں کے قتل عام کا پورا نظام ترتیب دیا تھا، جس میں تجربہ کار دائیاں بنی اسرائیل کی خواتین پر نظر رکھتی تھیں اور انہیں خواتین کے چلنے سے ہی پتہ چل جاتا تھا کہ یہ حاملہ ہیں یا نہیں۔ غرض فوعون اور بچہ کشی لازم و ملزوم ہوگئی۔
چنانچہ مفسرین لکھتے ہے کہ قبطیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تلاش میں بنی اسرائیل کے نوے ہزار لوگوں کا قتل عام کیا۔
مروی ہے کہ جب بنی اسرائیل کے ہزار ہا بچے قتل ہو چکے تو قبطیوں کو اندیشہ ہوا کہ اگر بنو اسرائیل ختم ہو گئے توجتنے ذلیل کام اور بے ہودہ خدمتیں حکومت ان سے لے رہیں ہیں کہیں ہم سے نہ لینے لگیں۔ تو دربار میں میٹنگ ہوئی اور یہ رائے قرار پائی کہ ایک سال مار ڈالے جائیں اور دوسرے سال قتل نہ کئے جائیں۔
ابن سدی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب فرعون نے ارادہ کیا کہ بنی اسرائیل کی نسل کشی کی جاۓ تو اس نے بچوں کے قتل عام کا حکم دیا ۔ پس وہ ایک سال بچوں کا قتل کرتا تھا اور ایک سال انہیں زندہ رکھتا تھا۔
آج ہزاروں سال گزر جانے کے بعد فرعون بچہ کشی کی وجہ سے قابل نفرت ہے۔دنیا کی منافقت دیکھیں، اس فرعون سے نفرت کرتی ہے اور اسے ایک لعنت کے طور پر جانتی ہے، مگر آج کی تاریخ میں وہی کردار اسرائیل ادا کر رہا ہے۔ آج کی نام نہاد مہذب دنیا اسرائیل کی پشت پر کھڑی ہے، اس وقت بھی طاقت فرعون کے پاس تھی، آج بھی طاقت والے فرعونیت دکھا رہے ہیں۔ تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس طرح بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اپنا تعلق جوڑتے ہیں۔؟ موسیٰ علیہ السلام پہلے خود مظلوم اور زندگی بھر مظلوموں کے حامی و مددگار رہے نتن یاہو کا موازنہ اگر فرعون سے کیا جائے تو دونوں کو مطلق طاقت حاصل ہے۔ فرعون مصر کا مطلق العنان حکمران تھا اور نتن یاہو اسرائیل (مقبوضہ فلسطین) کا طاقتور بادشاہ ہے جسے امریکہ سمیت کئی دوسرے جنونی ممالک کی سیاسی ، عسکری ، اقتصادی اور میڈیا کی حمایت حاصل ہے فرعون نے بچوں کے قتل عام کا شرمناک کام مصر میں سر انجام دیا تو نتن یاہو بھی اپنے روحانی والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مصر کے پڑوس (غزہ) میں وہی مذموم تاریخ دہرا رہا ہے ۔ فرعون نے اپنی حکومت بچانے کے لیے صرف لڑکوں کے قتل کا حکم دیا جبکہ اسکے روحانی اولاد نے صنف کے تمیز کو بھی ختم کر کے سب کے قتل عام کا حکم دے رکھا ہے۔ جس طرح فرعون کو بنی اسرائیل کے بچوں سے خوف تھا کہ وہ اس کے حکومت کو ختم کردینگے اسی طرح فرعونِ وقت کو بھی غزہ کے بچوں سے خوف ہے کہ اگر ان کو زندہ چھوڑ دیا تو ان میں سے کتنے اسماعیل ہنیہ ، یحی سنوار ، ابوعبیدہ اور اس جیسے کئی دوسرے بہادر پیدا ہونگے جو آئندہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے میں ان کے لیے گلے کی ہڈی ثابت ہونگے ۔ غزہ میں بچوں کو قتل کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے جس طرح فرعون کو نجومیوں اور کاہنوں کی پیش گوئی سے یہ خطرہ لاحق تھا کہ ان میں کوئی نبی پیدا ہوکر اسکی بادشاہت ختم کردے گا فرعون وقت کو بھی ان بچوں سے مستقبل میں یہی خطرات لاحق ہیں کیونکہ ان قابضین کو اس پیش گوئی سے یہ ڈر ہے کہ ان کی ریاست آٹھویں عشرے میں زوال پذیر ہوگی بعض مسلمان علماء نے بھی قرآن و سنت کی روشنی میں یہی استنباط کیا ہے کہ 2027 تک ان کی ریاست ختم ہوجاۓ گی۔
دونوں میں ایک اور قدرِ مشترک برتری اور تکبر ہے فرعون نے خود کو معبود قرار دیا اور بنی اسرائیل کو غلام سمجھا ۔ آج اس کے روحانی اولاد بھی فلسطینیوں کو کمتر جانتے ہیں انہیں انسان نما جانور کہہ کر پکارتے اور دنیا کے سامنے اپنی نسل پرستی اور نفرت کو ظاہر کر رہے ہیں۔ کھبی وہ محض تفریح کے لیے قتل کرتے ، گھروں کو برباد کرتے ، حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کرتے ، امداد کے منتظر کھڑے نہتے افراد پر فائرنگ کرتے (جن میں بچے بھی کثیر تعداد میں شامل ہیں) ہیں ۔یہاں تک کہ اسپتالوں میں زخمی بچوں اور عورتوں کو بھی نہیں چھوڑتے ۔ اور فرعونِ وقت اپنے روحانی والد فرعون سے بھی آگے بڑھتے ہوۓ امداد بند کرکے مصنوعی غذائی قلت پیدا کرکے فلسطینیوں کے خلاف بطورِ ہتھیار استعمال کر رہا ہے جس کا سب سے زیادہ شکار بچے ہیں ۔
غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے 7 اکتوبر سنہ2023ء سے غزہ پر جاری جنگی نسل کشی کے نتیجے میں شہداء اور زخمیوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 26 ہزار 735 تک جا پہنچی ہے، جن میں 64 ہزار 368 شہداء اور 1 لاکھ 62 ہزار 367 زخمی شامل ہیں۔ قابض اسرائیل نے معصوم بچوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا۔ اب تک 20 ہزار سے زیادہ بچے اور 12 ہزار 500 خواتین شہید کی جا چکی ہیں جن میں قریب 9 ہزار مائیں شامل ہیں۔ ایک ہزار سے زیادہ شیر خوار بچے شہید ہوئے جن میں 450 نومولود ایسے تھے جو جنگ کے دوران پیدا ہوئے اور بعد میں شہید کر دیے گئے۔ تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ 163 سکول، جامعات اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر تباہ ہوئے جبکہ 369 جزوی طور پر برباد کیے گئے۔ 833 مساجد مکمل طور پر شہید کر دی گئیں اور 167 جزوی طور پر تباہ ہوئیں۔ 19 قبرستان بھی مٹا دیے گئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں