کیا ہمیشہ مذہبی طبقہ غلط ہوتا ہے؟/تحریر/عابد محمود عزام 0

کیا ہمیشہ مذہبی طبقہ غلط ہوتا ہے؟/تحریر/عابد محمود عزام

کیا ہمیشہ مذہبی طبقہ غلط ہوتا ہے؟/تحریر/عابد محمود عزام

سوشل میڈیا پر ایک صاحب کی تحریر نظر سے گزری، جس کا مفہوم تھا کہ:“اگر درست سمت معلوم کرنا چاہتے ہیں تو پاکستان کے مذہبی طبقے کے مخالف سمت کھڑے ہو جائیں، تب آپ تاریخ کی صحیح سمت میں ہوں گے۔” یہ جملہ دراصل اسی فکری مغالطے کی عکاسی کرتا ہے جس نے ہمارے معاشرے میں نظریاتی انتشار پیدا کیا ہے۔ اسلام نے انسان کو کسی سیاسی یا فکری خانے سے نہیں، بلکہ اصولوں سے پہچاننے کی دعوت دی ہے۔ حق کا تعلق کسی “ونگ” سے نہیں، بلکہ عدل، توازن اور اعتدال سے ہے۔ یہ سوچ کہ “جہاں مذہبی طبقہ کھڑا ہے، وہاں مخالفت ہی درست ہے” دراصل تعصب، فکری سطحیت اور ذہنی غلامی کی علامت ہے۔

پاکستان کا لبرل طبقہ ابتدا ہی سے مغربی نظریات سے متاثر رہا ہے، جن کی بنیاد مذہب سے لاتعلقی، اخلاقی ابہام اور مادیت پرستی پر ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے یہی طبقہ سیکولر ریاست کے خواب دیکھتا رہا، حالانکہ قائداعظم اور علامہ محمد اقبال نے واضح طور پر کہا تھا کہ یہ ملک اسلام کے اصولوں پر قائم ہونے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اُس وقت بھی مذہبی طبقہ ہی اسلام اور قومی تشخص کے تحفظ کے لیے آگے بڑھا۔ 1971ء کے سانحۂ مشرقی پاکستان میں لیفٹ ونگ علیحدگی کے بیانیے کو “آزادی” کے نام سے پیش کر رہا تھا، جبکہ رائٹ ونگ نے وحدتِ امت اور ملک کے استحکام کا پرچم بلند رکھا۔ افغا۔نستان کی مزاحمت ہو یا کشمیر کی جدو۔جہد، ہر موقع پر یہی مذہبی طبقہ ظلم کے خلاف ڈٹا رہا، جب کہ لیفٹ ونگ کی “انسانیت پسندی” خاموش رہی۔ یقیناً مذہبی طبقے میں کمزوریاں موجود ہیں، مگر ان ہی کے ادارے لاکھوں یتیموں کو سہارا دیتے ہیں، لاکھوں طلبہ کو تعلیم دیتے ہیں اور قدرتی آفات میں سب سے پہلے مدد کے لیے پہنچتے ہیں۔ دوسری طرف، لیفٹ ونگ مذہبی طبقے کی کسی لغزش پر تو آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے، لیکن ان کی خدمات اور قربانیوں پر کبھی زبان نہیں کھولتا۔

لیفٹ ونگ کا اصل مسئلہ فکری انحصار ہے۔ مغرب جو سوچتا ہے، وہی ان کے نزدیک “روشن خیالی” بن جاتی ہے، چاہے وہ ایمان، اخلاق یا قومی وقار کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے برعکس مذہبی طبقہ قوم کی روحانی اور اخلاقی اساس کا محافظ ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو مدارس میں علم کے چراغ جلاتا ہے، کردار سازی کرتا ہے اور عملی طور پر انسانی خدمت میں سب سے آگے ہے۔

تاریخ کی درست سمت کسی گروہ کے پاس موروثی طور پر نہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ اسی کے ساتھ ہوتی ہے جو عدل، ایمان، اخلاق، دیانت اور قومی تشخص کا محافظ ہو۔ ماضی اور حال، دونوں کے تناظر میں یہ حقیقت واضح ہے کہ مذہبی طبقے نے ہمیشہ دین، نظریۂ پاکستان اور اخلاقی اقدار کا دفاع کیا ہے، جبکہ لیفٹ ونگ اکثر مغربی فکری اثرات کے زیرِ سایہ اپنی شناخت کھوتا رہا ہے۔
کیا ہمیشہ مذہبی طبقہ غلط ہوتا ہے؟/تحریر/عابد محمود عزام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں