افسانہ عنوان: خوابِ بے تعبیر
افسانہ نگار: وجہیہ زہرا
روشنی کمرے کی کھڑکی سے آتی چاند کی سفید دھاری روشنی میں اپنا گمشدہ وجود ڈھونڈ رہی تھی، وہ کہاں کھڑی ہے ؟وہیں جہاں چند سال پہلے تھی؟ مگر کیوں؟ گھڑی کی سوئیاں تو تیزی سے وقت کو آگے لے کے جارہی ہیں، مگر ان سب کے بیچ یوں لگ رہا ہے، کہ تقدیر کے پنوں پہ اپنا وجود اسی چکر کے گرد گھوم رہا ہے؛ جہاں ناکامی ہی ناکامی ہے۔۔۔
آج سے کچھ عرصہ پہلے جب روشنی نے حصول تعلیم کےلیے ایک عمارت بنُی، نہ جانے کیوں اسے عمارتوں سے پیار تھا۔ وہ پرواز چاہتی تھی بلندیوں تک، کامیابی کی حدود کو چھونا اور اپنا نام بنانا چاہتی تھی ہاں مگر بس اپنی دنیا میں، محنت محبت اور شدت بھرے جذبوں کی محنتیں رنگ لانے لگی تھیں آسماں نے اسے اپنی وسعتوں کو ماپنے کی اجازت دے دی، اور زمین نے کہا تم تسخیر کرو مجھے ، مگر جونہی روشنی نے گھر سے باہر قدم رکھا تو اس کے گھر اندھیرا چھا گیا۔ آگئے اس کے خواب و ایک جہان تھا جسے اس نے فتح کرنا تھا اور پیچھے٫پیچھے اس کے گھر والے جو محبتوں کے کشکول تھامے اس سے روشنی کا مطالبہ کر رہے تھے بس صنف نازک نے خوابوں کی گھٹڑی بنائی کاندھے پہ لادی اور گھر کی اور چلی آئی وقت کی دغا بازی کو دیکھتے ہوئےوہ ہاتھ میں بس ایک کتاب لیے اپنے گھر کے ایک کمرے میں آلگی۔ وہاں سے زندگی صفر پہ آ لگی زندگی تھی بھی یا نہیں، کیا دوبارہ جی پاؤں گی ؟پا کر کھو دینے سے بڑا قرب کوئی نہیں ہوتا روز بکھرتی اور روز کرچیاں سمیٹتی ۔۔۔ دن میں وہ کرچیاں سورج کی تپش میں یوں تپتی کہ سارا وجود سلگتا محسوس ہوتا ہاں رات اس کےلیے مہربان تھی چاند اس کا ہمنوا تھا وہ خود کو اس کی موجودگی میں بکھرنے دیتی ۔۔وقت گزرتا چلا گیا اور محترم چوٹ کا لحاظ برقرار رہا وقت کبھی مرہم بنا تو کبھی پھر اس چوٹ کو چھیل دیتا۔۔۔ابھی عمر ہی کیا تھی اٹھارہ سال نے تو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا تھا اسے۔ مگر پھر اس نے آگئے بڑھنے کا فیصلہ کیا کہ اس کی بار جو چاہا اسے پا کہ رہے گی وقت نے سرسبز و شاداب خواب دکھائے ۔۔پہلا زخم اب خشک ہو کر داغ بننے لگا روشنی نے امید کی شمع جلائی اور ایک اور عمارت بُن دی ہاں اس بار وہ وہاں جا کر ضرور پڑھے گی۔۔اپنے ملک کے خوبصورت ترین شہر میں وہ اس علمی مرکز اور اپنے مسقبل کو ایک خوبصورت موقع دینے کےلیے دوبار وہاں گئی۔۔وہاں کا ٹیسٹ پاس کیا خوشی کی انتہا نہ تھی آسماں کو پیغام بھجوا دیا کہ میں اڑان بھرنے کےلیے تیار ہوں زمین بھی خوش تھی کہ کوئی نیا تسخیر کار آرہا ہے جو اس کے دامن کو پھولوں سے سجا دے گا۔۔۔مگر وقت ہنس رہا تھا امید نے آخر میں لا کر ساتھ چھوڑ دیا اور وہ دریا کے بیچوں بیچ کوئی ناخدا نہ ہونے کے باعث ڈوب گئی
اس کی چیخیں کسی نے نہ سنی بس آسماں رو دیا اور زمین نے اس کے آنسو پئیے مگر وہ پھر وہیں آ لگی اس کے دل کا وہ دروازہ دوبارہ کھل گیا جہاں اس کے خوابوں کے جنازے بے گور و کفن پڑے تھےـ صف ماتم بچھائے اس کا انگ انگ نوحہ کناں تھا مگر وہ نوحہ و ماتم وہ چیخ و بکاوہ سسکیاں کسی کو سنائی نہ دیتی تھیں اور پھر وہ پنجرے میں قید تھی اب کی بار تو شاید اس کے ہاتھ میں کتاب بھی نہ تھی۔۔۔ہاں مگر کمرہ اور اس کی کھڑکی اس کے منتظر تھے جہاں وہ پہنچی تو اس میں سانسوں کی روانی کے علاؤہ کچھ باقی نہ تھا امید کی شمعیں حقیقت کی آندھیاں بجھا گئی خوابوں کی عمارت زلزلوں کی زد میں آگئی وقت نے مرہم رکھنے کی بجائے چوٹ کے اوپر چوٹ لگا دی اور یہ تماچہ روحِ بسمل کو ایک اور گہرا زخم لگا گیا ۔۔۔
ختم شد۔۔۔